غزل
غزل /زندگی زندگی کا ماتم ہے /فرح خان

غزل
فرح خان
ہر طرف وحشتوں کا موسم ہے
شب پریشاں ہےنیند بھی کم ہے
چھین لیتی ہےخواب آنکھوں سے
یہ محبت بھی کتنی ظالم ہے
تم نہیں ہو تو دل بھی خالی ہے
ہر طرف ہُو کا ایک عالم ہے
حیرتِ عشق میں ہیں گم دونوں
اور دونوں کی آنکھ بھی نم ہے
روح کا زخم جس سے بھر جائے
کیا ترے پاس ایسا مرہم ہے
اپنی بدصورتی پہ روتی ہوئی
زندگی ، زندگی کا ماتم ہے
نیند کا بھی نہیں بھروسا کوئی
خواب کی عمر بھی فرح کم ہے




