افسانہ

ملنے کی جستجو/ ہنی انصاری

رات کے آخری پہر عموماً موسم خوشگوار ہوتا ہے۔ لیکن دسمبر کی سرد راتیں طویل ہونے کے ساتھ ساتھ شدید ٹھنڈ اور کہر برساتی ہیں۔ رات کے آخری پہر میں سب اپنے نرم و گرم بستر میں دبکے ہوئے تھے۔ گہری نیند اور غنودگی کا یہ عالم کہ کوئی سانس بھی روک دے، کسی کو خبر نہ ہو۔
کمرے میں برقی ہیٹر روشن تھا۔ گہری نیند میں اچانک اس کے دل کی دھڑکن بڑھنے لگی۔ تکلیف کی شدت سے وہ دائیں بائیں کروٹ بدلنے لگی۔ آواز حلق میں پھنس گئی تھی اور ہاتھ پاؤں میں چیونٹیاں رینگتی محسوس ہونے لگیں۔ اسے احساس ہونے لگا کہ اب سانس رکنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ شاید وہ آنے والی صبح کا چمکتا سورج نہ دیکھ سکے گی۔ آسمان پر چمکتا چاند اس کے لیے نئی صبح نہ لا سکے گا۔ اس چاند کی چاندنی کے ساتھ اس کی زندگی کا دیا بھی بجھ جائے گا۔
زندگی کی ٹوٹتی ڈور اور بچی کچی سانسوں میں بھی اسے وہ شخص یاد آنے لگا۔ جس سے ملنے کی جستجو وہ پچھلے چند سالوں سے کرتی آئی۔
جھلملاتی آنکھوں میں اب سپنے سجانے کا وقت گزر چکا تھا۔ ان آنکھوں کی چمک ماند پڑ رہی تھی، لیکن دل میں ایک ہی لگن کاش وہ وقت آخر ہی آجائے۔
اس کے پاس سوائے محسوسات کے باقی سب جذبات مر چکے تھے۔ دل کا ٹکڑا کسی پتھر کے بوجھ کی طرح سینے میں اب بھی دھڑک رہا تھا۔
کسی اجنبی کا انتظار اس قدر تکلیف دہ کیسے ہوسکتا؟ جب کہ دوسرا شخص خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا ہو۔
کاش ! وہ ایک بار مل جائے، مجھے اس کے جسم کی حدت نہیں، روح کا لمس چاہئیے۔ بکھرتی سانسوں کے ساتھ وہ پیغام لکھنے لگی۔
” میرا تم سے رابطہ نہ ہوسکا، تو محض دعائے مغفرت ہی میری وصیت ہوگی۔”
آفرین کی ایسی حالت پہلی بارنہیں ہوئی تھی۔ اس پہ اس قسم کی گھبراہٹ کا حملہ اکثراوقات ہوتا رہتا تھا۔
آفرین ان لڑکیوں میں سے نہ تھی۔ جسے لوگوں کے ساتھ تعلقات استوار رکھنے میں دلچسپی ہو۔ اپنے دفتری اوقات کار سے فارغ ہوکر وہ گھریلو امور سر انجام دیا کرتی تھی۔
دفتری کام اور گھریلو زمہ داریاں نبھاتے نبھاتے وہ نفسیاتی ہوچکی تھی۔ سب کو خوشیاں دینے والی خود مایوس زندگی گزار رہی تھی۔
اسے ہر وقت اپنے اردگرد کسی نہ کسی وجود کا احساس رہتا۔ جیسے دو آنکھیں اسے گھور رہی ہوں۔ وہ دو آنکھیں اس کے جسم میں پیوست ہو چکی ہوں۔
دنیا کا ہر شخص اسے درندہ لگنے لگا۔ اس کا نظریہ کچھ غلط بھی نہ تھا۔ ہر شخص کی نظر میں غلاظت وہ بھانپ چکی تھی۔
ہاں! البتہ طریقہ واردات ہر کسی کا مختلف تھا۔ کچھ لوگ ٹیڑھی انگلی سے گھی نکالنے کے عادی تھے، تو کچھ کی کھیر پھیکی۔
” لیکن عورت ذات سب کی نظر میں بہترین لقمہ۔”
اس رنگین دنیا میں اسے کسی ایسے مسیحا کا انتظار تھا جس کی پناہ میں وہ خود کو محفوظ سمجھ سکے۔ جس کی فکر اس کے لیے تحفظ کو اہمیت دے۔
جس کے لمس سے اس کی دنیا جنت اور آخرت جنت الفردوس کا سبب بن سکے۔
رات بھر گھبراہٹ کا شکار رہنے کے بعد وہ صبح ہشاش بشاش جاگی۔ لیکن ذہنی طور پر وہ خوفزدہ رہتی۔ صبح کی سیر کے لیے قریبی پارک گئی۔ درخت کی اوٹ میں اسے کسی شخص کی موجودگی کا احساس ہوا۔
وہی شخص جس کی شبہیہ وہ اپنے ذہن میں محفوظ کئے ہوئے تھی۔ وہ خوشی سے نہال تھی کہ اس کا انتظار ختم ہونے والا۔ مجھے بنا بتائے اس شخص کی یہاں موجودگی مجھے حیران کردینے کے لیے ہوگی۔
آفرین نے اپنے دل کی دھڑکن بڑھتی محسوس کی لیکن اس بار دھڑکن میں اضطرابی کیفیت نہ تھی۔ اس بار اس میں خوشی کا خمار تھا۔ تخیلاتی دنیا بھی انسان کو اس قدر مسرور کر سکتی ہے۔ کوئی آفرین کے ساتھ ہوتا تو اس کے لیے اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا۔
چلتے چلتے اس کے قدم دوسری راہداری پر پڑ گئے۔ قریب ہی سرخ گلاب کا پودا تھا۔ جس پر اب سے پہلے کبھی اتنے گلاب نہ کھلے تھے۔ گویا قدرت نے آفرین کا ساتھ نبھانے کا عہد کیا ہو۔
اس نے چند گلاب چنے، ان کی مہک سے اپنی سانسوں کو معطر کرنے لگی۔ صبح کی آکسیجن اور گلاب کی مہک نے مل کر اس کے گالوں کو مزید سرخ کر دیا۔ سردی کی ایک لہر اس کے جسم میں دوڑی۔ یک دم کہر میں اضافہ ہونے لگا۔ درخت اور اس کے اردگرد کا منظر دھندلانے لگا۔
ہشاش بشاش طبیعت میں اضطرابی کیفیت کا عنصر نمایاں ہونے لگا۔ اس نے اپنے قدم درخت کی مخالف سمت بڑھانے شروع کر دئیے۔
ایک خوف نے اسے جکڑ لیا، ” تم سے ملنے کا احساس خوبصورت سہی، لیکن ملن کے بعد جدائی، مجھے جینے نہ دے گی۔

Author

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button