نظم

ساحلی عورتوں کے نام / نصیر احمد ناصر

ساحلی عورتوں کے نام

نصیر احمد ناصر

سمندر تمہارے اندر ہے

اور تمہاری آنکھیں

پرانے جہازوں کی کھڑکیاں ہیں

جہاں سے جھانکتی ہے

تمہاری لامحدود گہرائی

اور جہاں سے تم

نظارہ کر سکتی ہو

اپنے ساحلوں کا

اور دیکھ سکتی ہو

اپنی کشتیاں

مستولوں سے لپٹے بادبان

چٹانوں سے ٹکراتی لہروں کی

غضب ناکیاں

اور اتھلے پانیوں میں

دم توڑتی وہیل مچھلیاں

فضا میں چیختے

بے شمار آبی پرندے

اور ایک جزیرہ

سیاحوں سے بھرا ہوا

جو کبھی تمہارے بھیتر کی طرح

خاموشی اور تنہائی کا مسکن تھا

Author

Related Articles

Back to top button