اُردو ادباُردو شاعریغزل
غزل / اشک چہرے سے آشنا نہ کرے / بلال صابر
غزل
اشک چہرے سے آشنا نہ کرے
ان سے کہیے کہ راز وا نہ کرے
لذّتِ وصل کی دعا نہ کرے
التجا یے کہ التجا نہ کرے
عشق سر چڑھ کے بولتا ہے میاں
سر پھروں کو خدا عطا نہ کرے
درس طائف سے امتی کو ملا
ظلم سہ جائے بد دعا نہ کرے
حوصلہ ہار بیٹھنے کی خطا
بیچ دریا میں نا خدا نہ کرے
ان سے کس بات کی امیدِ قضا
جو ادا واجب الادا نہ کرے
خوب رشتہ ہے دل سے دھڑکن کا
رب کرے رب جدا جدا نہ کرے
عیب گردانتے ہیں اہلِ جنوں
رہنمائ جو نقش پا نہ کرے
ہے تمنا یہ جہل کی کہ مجھے
اب کوئ آگہی دیا نہ کرے
کاش صابر سے خطا کار کا اب
سامنا کوئی پارسا نہ کرے




