ثوبان ابھی ڈیڑھ سال کا ہے
لیکن باغبانی کا دلدادہ ہے
پہلا لفظ جو اس نے سیکھا، "پھول” تھا
پھر "تتلی” اُس کی زبان پر اتری
اور "چڑیا” کی چہکار نے
اُس کی باتوں کو پنکھ لگا دیئے
پھر "مانی” یعنی پانی
پھر ۔۔۔ دا ۔۔۔ دا ۔۔۔ دادا
جب وہ
پلاسٹک کے پائپ سے
گھاس اور پودوں کو پانی دیتا ہے
تو لان میں جیسے رونق آ جاتی ہے
ہر چیز شاداب نظر آنے لگتی ہے
پتے خوشی سے تالیاں بجاتے ہیں
مرجھائے پھول پھر سے کھلنے لگتے ہیں
بیلیں آسمان کی طرف بڑھنے لگتی ہیں
شاخوں میں چھپے
کیڑے مکوڑے اسے دیکھتے ہی باہر نکل آتے ہیں
گملے اُس کو دوست بنا لیتے ہیں
ثوبان، پانی کا دیوانہ ہے
پانی سے مل کر پانی ہو جاتا ہے
چھینٹے اڑا کر
بارش کی نقل اتارتا ہے
پھولوں کو نہلا دیتا ہے
ہنستا ہے
تو پانی کی دھار
قہقہوں کی لکیر بن جاتی ہے
کبھی اچانک
اپنے اوپر پانی گرا لیتا ہے
اور کبھی شرارت سے
پائپ کو میری سمت موڑ دیتا ہے
مجھ کو بھی بھگو دیتا ہے
پانی کا پائپ پکڑے
سارے لان میں
وہ ننھے قدموں سے بھاگتا، بھیگتا پھرتا ہے
اس کو دیکھ کر
میرے دل کی بند شریانوں میں
رستے بننے لگتے ہیں
اور میں سوچتا ہوں
محبت بھی تو پانی جیسی ہوتی ہے
خاموش، شفاف، بہتی ہوئی
جہاں گرتی ہے، وہاں زندگی اُگ آتی ہے