اُردو ادباُردو شاعریغزل
غزل / بہ وقتِ فجر اندھیرے سے روشنی کی طرف / توحید زیب
غزل
بہ وقتِ فجر اندھیرے سے روشنی کی طرف
میں راہِ مرگ سے آیا ہوں زندگی کی طرف
وفورِ حسنِ مظاہر سے بد روی کی طرف
سکوتِ وقت سے آیا ہوں میں گھڑی کی طرف
خدائے ارض و سما اَن کہی کا فلسفہ تھا
یہ ”کُن“ تو آخری حربہ ہے آگہی کی طرف
حقوقِ انساں پہ لیکچر کا انعقاد ہوا
الگ کیے گئے کچھ بچے گیلری کی طرف
زمیں پہ ختم ہوا سلسلہ عطاؤں کا
سفر شروع ہے اوّل سے آخری کی طرف
تغیراتِ عدم سے اُٹھی بہارِ وجود
نشیبِ دشت سے رستہ بنا نمی کی طرف
سلیقہ مند مشینوں میں باشعور ایندھن
نظر اُٹھا کے تو دیکھو نئی صدی کی طرف
اُفق پہ چاند تھا ، مسجد میں وقتِ فرض نماز
شعاعِ کفر سے آیا میں بندگی کی طرف
نئے چلن سے کرن کا ظہور بھی نیا ہے
نگارِ ہست بھی یعنی ہے بہتری کی طرف
رموزِ وقت کی پہلی کلاس میں بھی مرا
تمام دھیان تھا سرکاری نوکری کی طرف




