افسانہ

کثافت/ عارفین یوسف

کثافت/عارفین یوسف

زعفران کو صاف ستھرا رہنے کا گویا جنون تھا۔ وہ دِن میں بیسیوں دفعہ اپنامنہ ہاتھ دھوتا۔ صاف ستھرا لباس زیب تن کرتا اور کہیں بیٹھنے سے پہلے خوب اچھی طرح نشست کا معائنہ کرتا اگر اُس کو ذرا سا بھی شائبہ ہوتا کہ کہیں پرایک چھوٹا سا بھی داغ ہے تو وہاں بیٹھنا گوارا نہ کرتا۔ زعفران کے والدین اپنی دوبیٹیوں اور ایک بیٹے کے ساتھ عرصہ دراز سے امریکا رہائش پذیر تھے اور باوجود بے حد اصرار کے وہ زعفران کو اپنے ساتھ رہنے پر راغب نہ کر سکے۔ البتہ وہ کبھی کبھار ملنے ملانے کے لیے امریکا ضرور جایا کرتا تھا۔ کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر میں اُس کا پراپرٹی کا جما جمایا کاروبار تھا اور کلفٹن جیسے پوش علاقہ میں محل نما گھر تھا جہاں اس کی خدمت کرنے کے لیے نوکر چاکر موجود تھے۔ ڈیفینس کے ایک شاندار پلازہ میں زعفران کا ایک شاندار دفتر تھا جہاں وہ تمام کاروباری معاملات طے کرتا تھا۔ وہاں کام کرنے والی اُس کی ٹیم کو بخوبی علم تھا کہ وہ صفائی ستھرائی کے معاملے میں کسی رو رعائت کا قائل نہیں تھا لہذا ہر چیز قرینے سے اور صاف حالت میں رکھنے کو اولین ترجیح دی جاتی تھی۔

اپنی گاڑی وہ البتہ خود چلانے کو ترجیح دیتا تھا اور چونکہ اب تک بیوی بچوں کے جھنجھٹ سے آزاد تھا لہذا کاروباری سلسلے یا دوستوں کو ملنے ملانے کی ہی مصروفیات تھیں۔کراچی میں رہنے والے اُس کے رشتہ دار اچھی طرح جانتے تھے کہ اُس کو عزیز و اقارب سے زیادہ میل جول پسند نہیں سو وہ اُس کو اپنے ہاں مدعو کرتے تھے نہ ہی اُس سے زیادہ روابط بڑھانے کی کوشش کرتے تھے۔ پارٹی اور کاروباری دعوتوں کے علاوہ وہ باہر کھانا کھانے کو پسند نہیں کرتا تھا۔ گھر پر موجود خانساماں کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ کس طرح کا اور کتنی مقدار میں کھاتا ہے۔ ہر چیز اُس کی پسند کیعین مطابق ہوتی۔ ملازمین اُس کی فراخدلی کے قائل تھے اور وہ تنخواہ کے علاوہ بھی اُن کی ضروریات کا خیال رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ کسی ملازم کے لباس پر شکن اس کے ماتھے پر تیوری ڈالنے کے لیے کافی تھی اورایسا تو ممکن ہی نہ تھا کہ اُس کے گھر یا دفتر میں کام کرنے والوں کا لباس میلا تو درکنار اُس پر کسی طرح کا کوئی داغ دھبہ لگا ہو۔ایسی صورتحال میں زعفران کے بگڑے موڈ کا کوئی سامنا نہیں کر سکتا تھا اور ہر وقت خوش باش نظر آنے والا زعفران غیض و غضب کے عالم میں لاوہ اگلنے والا آتش فشاں بن جاتا تھا۔

محنت، لگن، خوش اخلاقی اور ملنساری جیسی صفات سے مالا مال زعفران کا کاروبار دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا تھا۔ دیانتداری کے اصول پر سختی سے کاربند رہنے کی وجہ سے لوگ اُس پر بے دھڑک اعتماد کرتے تھے اور آنکھیں بند کرکے اُس کے مشورے کے مطابق سرمایہ کاری کرنے کو تیار رہتے تھے۔اُس دن زعفران سٹاف کے چھٹی کرنے کے بعد بھی دفتر میں بیٹھا رہا۔ وہ کافی دنوں سے مختلف ڈیلز کی تفصیل نہیں دیکھ سکا تھا تو اُس دن اکاونٹنٹ سے حساب منگوا کر کھاتہ کھول کر بیٹھ گیا۔زعفران اپنے سٹاف پر اعتماد تو کرتا تھا مگر اس کے باوجود وہ گاہے گاہے مالی معاملات کی چھان پھٹک بھی کرتا رہتا تھا۔تین گھنٹے کی مغز ماری کے بعد جب وہ اٹھنے لگا توایک کلائینٹ کا فون آ گیا جو اس سے ایک دوسرے کلائینٹ کی جانب سے مقررہ معیاد تک رقم کی ادائیگی نہ کرنے کا گلہ کر رہا تھا۔ زعفران نے دونوں کو فون کر کے دفتر ہی بلا لیا۔ دونوں کی بات سننے اور تصفیہ کراتے کراتے مزید تین گھنٹے گزر گئے مگر شکر ہوا کہ معاملہ بخوبی انجام پا گیا۔دونوں کو رخصت کرنے کے بعد جب زعفران نے کلائی پربندھی گھڑی پر وقت دیکھا تو رات کے بارہ بج چکے تھے۔ وہ چند ثانیے کرسی کی پشت پر سر ٹکا کر نیم دراز ہو گیا اور پھردفتر سینکلنے کا قصد کیا۔وہ مسلسل کام کی وجہ سے تھکاوٹ بھی محسوس کر رہا تھا۔ رات گئے جب وہ دفتر سے نکلا تو آس پاس کے دفاتر بند ہو چکے تھے اور پورا پلازہ سائیں سائیں کر رہا تھا۔دفتر تیسری منزل پر ہونے کی وجہ سے زعفران لفٹ کی طرف بڑھا مگر اُس وقت وہ بھی کام نہیں کر رہی تھی۔ بلڈنگ میں ملگجا سا اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ چار و ناچار زعفران نے سیڑھیوں کا رُخ کیا۔ اُ س کی نظریں موبائل کی سکرین پر تھیں اور تھکے تھکے قدموں سے اترتے ہوئے وہ اچٹتی ہوئی نظر سیڑھیوں پرڈال رہا تھا۔ ابھی وہ ایک فلور ہی نیچھے اترا تھا کہ ایک سیڑھی پر پاوں ترچھا پڑنے کی وجہ سے وہ توازن برقرار نہ رکھ سکا اور بری طرح سے لڑھکتا ہوا نیچے آ رہا۔ اچانک اس کا سر کسی نوکدار چیز سے ٹکرایا اوربے اختیار اُس نے اپنے ہاتھ سے سر تھاما تو اس کو چپچپاہٹ کا احساس ہوا اور اُس کے ساتھ ہی وہ ہوش و حواس کھو بیٹھا۔

زعفران کی آنکھ کھلی تو درر کی ایک شدید لہراُس کے وجودمیں سرایت کر گئی۔ اُس نے اپنے آپ کو ایک صاف شفاف بستر پر لیٹے پایا۔ آہستہ آہستہ جب اُس کو پوری طرح ہوش آیا تو اس کو علم ہوا کہ وہ ایک ہسپتال کے کمرے میں موجود تھا۔ اس کے سر پرپٹی بندھی ہوئی تھی اور جسم میں بھی کہیں کہیں درد کا احساس ہو رہا تھا۔ زعفران نے اپنے اردگرد نظر دوڑائی تو ایک نرس کو فائل پر جھکے پایا۔ جلد ہی نرس کو اُس کے ہوش میں آنے کا علم ہو گیا اور وہ تیزی سے اُس کی طرف بڑھی اور اُسے لیٹے رہنے کا اشارہ کیا۔ نرس نے بتا یا کہ اُس کو پورے ایک دن کے بعد ہوش آیا ہے۔ شکر ہے دماغ میں زیادہ چوٹ نہیں لگی ہاں البتہ خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے نقاہت ہو گئی تھی۔اُسی نرس کی زبانی زعفران کو پتا چلا کہ کوئی نیک دل آدمی اُس کو ہسپتال لایاتھا۔ زعفران نے نرس سے درخواست کی کہ اُس کے دفتر اطلاع بھجوا دی جائے۔ جلد ہی دفتر کے کچھ لوگ اُس کی خبر گیری کو آپہنچے جنہوں نے اُس کے گھر بھی اطلاع کر دی تھی جو اس سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے پریشان تھے۔ہسپتال میں تین دن مزید گزارنے کے بعد زعفران کو گھر بھیج دیا گیا۔ اب وہ صحت یاب ہو چکا تھا۔ جانے سے پہلے اُس نے ہسپتال والوں سے اُس نیک دل آدمی کا رابطہ نمبر بھی لیا جس نے اُسے یہاں پہنچایا تھا۔ وہ اُس شخص کا ذاتی طور پر شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔

دفتر میں ضروری کاموں سے فراغت کے بعد زعفران نے دیئے گئے نمبر پر رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ وہ آدمی اُس کے دفتر کے قریب ہی موجود تھا۔ زعفران نے اُسے اپنے دفتر آنے کی درخواست کی جو اُس شخص نے تھوڑے سے پس و پیش کے بعد مان لی۔ زعفران نے اُس شخص کا نام بتا کر دفتر والوں کو ہدایت کر دی کہ جیسے ہی یہ صاحب آئیں اُس کو اطلاع دے دی جائے۔کچھ ہی دیر میں چوکیدار گھبرائے ہوئے لہجے میں زعفران کو اُس شخص کی آمد کی اطلاع دے رہا تھا۔ زعفران نے چوکیدار کو جھاڑتے ہوئے کہا وہ فوراً اُسے اندر لے کر آئے۔ چوکیدار کے پیچھے آنے والے شخص کو دیکھ کر ایک دفعہ تو زعفران کی بھی تیوری چڑھ گئی۔کثافت گویا اس کے تمام وجود کا حصہ تھی وہ میلے کچیلے لباس میں ملبوس تھا اور صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ منہ ہاتھ دھونے کے تکلف سے بھی ماورا ہے۔ زعفران نے بادلِ نخواستہ اُس کو سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔پوچھنے پر وہ شخص بولا، ” اُ س رات میں آپ سے تھوڑا ساہی آگے جا رہا تھا۔ آپ جب گرے تو میں فوراً پلٹ آیا اور ایمبولینس کو کال کردی”۔وہ یہ بھی بتا رہا تھا کہ اِسی بلڈنگ میں سوئیپر کا کام کرتا ہے اور رات دیر سے گھر جاتا ہے۔ زعفران کے دماغ میں آندھی چلنے لگی اور اس کی اگلی بات سن کر تو سارے بدن میں جیسے ہزاروں چیونٹیاں رینگنے لگیں۔

"اچھا ہواکہ آپ کا اور میرا بلڈ گروپ ایک ہی تھا ورنہ اُس وقت ایمرجنسی میں خون کا بندوبست کرنا تقریباً ناممکن تھا”۔

Author

Related Articles

Back to top button