بے نصیب "ان قوم "سپورٹ پروگرام / تحریر : اسلم ہمشیرہ

عید سے ہفتہ قبل شام کے وقت ماسی سکینہ کے گھر کے ایک گوشے میں ادھ کھڑ خواتین پر مبنی پانچ رکنی وفد آپس میں باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو فرما رھا تھا ، موضوع گفتگو ماسی بشیراں کی بہو کا وہ سوٹ تھا (جو بے حیائ سٹائل میں سیا ھوا تھا)۔اور چاچے نزیر کی بیٹی اور فرید موچی کے بیٹے کے ناجائز تعلقات جیسے انتہائی حساس اور اہم موضوعات پر بحث ھو رہی تھی۔۔۔۔
کہ ماسی فاطمہ (جوابھی ابھی شہر سے لوٹی تھی)آندھی طوفان کی طرح نازل ھوئی اور انتہائی اہم ھولناک خبر بریک کر دی ۔۔۔۔وہ خبر تھی کہ۔۔۔کل ڈگری کالج میں بے نظیر والی قسط چلت ھوگی۔۔۔۔۔
خبر سنتے ہی ماحول میں سناٹا چھا گیا زیر بحث تمام موضوعات رضاالہی سے وفا پاگئے۔۔۔۔مہینوں بعد تیرا ھزار کی خطیر رقم کے مصرف کے بارے میں ایک نئ بحث چھڑ گئ۔۔۔جو رات گئے تک جاری رہی۔۔۔
20مئی کی روشن صبح کو پورے علاقے کی خواتین چاچے بچو کی دکان کے آگے جمع ہو چکی تھیں کیونکہ زنانہ میڈیا نے راتوں رات اپنا کام کر دیا تھا۔۔۔۔۔
کرایہ والے موٹر سائیکل سوار عقابی نظروں سے سواریاں اچکنے کو تیار کھڑے تھے۔۔۔۔
بقول شاعر ۔۔۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں۔۔۔۔۔
تو ان نظر آجاتی ھے سواری چاچے کی دکانوں میں۔۔۔
سبھی خواتین نے حفظ ماتقدم کے طور پر ہزار ہزارکا نوٹ اپنی مٹھی میں کر لیا کیونکہ ماہرین پامسٹریات فرماتے ہیں کہ اگر مٹھی میں پانچ سو یا ہزار کا نوٹ گھنٹہ دو گھنٹے ھاتھ میں رھے تو ھاتھ اور انگوٹھے کی جھریاں ابھر آتی ہیں اور انگوٹھا لگ جاتا ھے جبکہ خالی ھاتھ والا انگوٹھا قیامت تک نہیں لگتا ۔۔۔۔
سبھی نے اپنے اپنے واقف کار کرایہ دار ڈھونڈ لیے اور میدان کارزارِ کی طرف چل پڑے۔۔۔
ماسی بشیراں بھی شناختی کارڈ مٹھی میں پکڑے ہزار کی تلاش میں سرگرداں رہی مگر کہیں سے ادھار نہ ملا آخر کار کلیہ نمبر پینتری استعمال میں لاتے ھوئے اپنی دو جوان بیٹیوں کو ساتھ لیا اور کرایہ والے موٹر سائیکل پر سوار ھو گئ۔۔۔ایک کلومیٹر کی مسافت طے کرنے کے بعد نوجوان ڈرائیور نے بائیک روکی سواریاں اتار کر ٹائر کو گھمایا تھپکی دی تینوں سواریوں کی ترتیب کو تبدیل کیا اب کی بار ماسی بشیراں کی بڑی بیٹی ڈرائیور کے پیچھے بیٹھی اس بار ڈرائیور کامیابی کے ساتھ محو سفر ھوگیا کیونکہ سیانے کہتے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔۔۔۔۔بس کبھی کبھی باریک یکدم لگاتا تھا پتہ نہیں کیوں؟؟؟؟؟
سکول پہنچتے ہی پورا گراونڈ پانی پت کی جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا۔۔۔خواتین کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ ہم میچور نہیں بلکہ کمچور قوم ہیں۔۔۔۔
ڈگری کالج کا گراؤنڈ خواتین سےکھچا کھچ بھرا ہوا تھا مئ جون کی گرمی روز محشر کا منظر پیش کر رہی تھی۔۔۔درجن بھر ڈیوائس والے شاہ رنگیلے بنے ھوئے تھے جن کے اطراف میں 72کی بجائے 7200حوریں ان کی الطاف نظر کی محتاج تھیں۔۔۔معمر مستورات دس کلومیٹر لمبی لائن میں کھڑی ھو کر ایک دوسرے کو اپنی اپنی بہوؤں کے مظالم کی داستان سنا رہی تھیں جبکہ نوجوان خواتین موبائل فون بار بار کان سے لگا کر اپنے کسی محسن سے رابطہ کرنے کی کوشش میں تھیں جو ان کو شارٹ کٹ لگوا کر ڈیوائس سے پیسے نکلوا کر دے سکے۔۔۔ویسے تو ڈیوائس سے پیسے نکلوا نے کے کئی معروف ذرائع ہیں مگر جن میں سب سے موثر اور روایتی طریقہ درج ذیل ھے۔۔
ایک ہزار والا نوٹ لیں اس کا تعویذ بنائیں مٹھی میں رکھیں اس کےاوپر شناختی کارڈ رکھیں خیال رھے کہ نوٹ کا دس فیصد حصہ ڈیوائس والے کو نظر آنا چاہیے ورنہ آپ قیامت کی صبح تک کھڑے رہیں گے۔۔۔۔
امکان غالب ہوتا ہے کہ ڈیوائس والے کے خلفاء حضرات میں سے کسی کی نظر پڑ جاتی ھے اور وہ ترجیحی بنیادوں پر وھاں پہنچتا ھے
بقول شاعر۔۔
پلٹنا جھپٹنا جھپٹ کر پلٹنا۔۔۔۔
جیب گرم رکھنے کا ھے اک بہانہ ۔۔۔
اور وہ فوراً کنٹرول روم کال کرتا ھے اور متعلقہ بندے کا انگوٹھا ایک منٹ کے اندر لگا دیا جاتا ھے۔۔۔اور نوٹوں کو تاش کے پتوں کی طرح پھیلا کر حجاب قبول کروایا جاتا ھے کہ رقم بغیر کٹوتی کے وصول کر لی گئ ھے۔۔۔
ماسی بشیراں کیونکہ بے سرومانی کے عالم میں کالج فتح کرنے نکلی تھی اس کے پاس ہزار والا پینترا نہیں تھا چنانچہ اس کی دونوں نوجوان بیٹیاں آگے بڑھیں اور اپنی والدہ محترمہ کا شناختی کارڈ پکڑا اور ڈیوائس والے کے کسی چمچے سے آنکھوں ہی آنکھوں میں مزاکرات شروع کر دیے۔۔۔جلد ہی معاملات طے پا گئے۔۔۔۔بس پھر چند منٹ باھمی دلچسپی کے امور پر بات چیت ہوئی ایک دوسرے کے تحفظات دور کیے گئے موبائل نمبروں کا تبادلہ ھوا یوں ماسی بشیراں ۔۔۔
سمجھ کے بھی ہر راز کو۔۔۔۔۔
مگر فریب کھائے جا۔۔۔۔۔۔
۔کی عملی تصویر بن کر حکومتی سرپرستی میں چلی گئی۔۔۔۔نازاں و شاداں ماسی بشیراں نےاس بات پر شکر ادا کیا کہ بر وقت فیصلہ کر کے بیٹیوں کو ساتھ لے لیا ورنہ بائیک والے نے ناصرف پورا کرایہ لے لیا ہوتا بلکہ اسے چھوڑ کر اب تک جا چکا ھوتا جو ابھی تک باہر ان تینوں کے انتظار میں مجنوں بنا کھڑا انتظار فرما رھا تھا ۔۔۔۔۔
ماسی بشیراں ساڑھے تیرہ ہزار کی رقم کا پنکھا بنا کر اپنے منہ شریف کو ہوا دیتی ھوئی فاتحانہ انداز میں ہجوم سے باہر نکل آئی۔۔۔
ہجوم سے باہر اس کی دونوں بیٹیوں نے اس کا شاہانہ استقبال کیا اور باہر روڈ پہ آگئے
باہر مجنوں موٹر سائیکل کرایہ والا جو کہ گھنٹوں گھٹنوں کے بل اور پباں پا راہ تک رھا تھا ان تینوں کو دیکھ کر سجدہ شکر بجا لایا۔۔۔۔۔
ماسی بشیراں تو بیک ڈور رابطوں کی بدولت رقم نکلوانے میں کامیاب ہوگئ مگر بستی سے آئی باقی مخلوق مٹھی میں ہزار کا زاد راہ پکڑے ڈیوائس والے کے کسی کارندے کی راہ تکتی رہ گئیں۔۔۔
کیونکہ اب بات دلی سے آگے جا چکی تھی اب کٹوتی کی رقم پندرہ سو سے دو ہزار تک پہنچ چکی تھی۔۔۔
چلت کا میکنیزم اس طرح سے بنایا گیا کہ رقم صبح کی بجائے دوپہر کو چلت شروع کی جائے تاکہ عوام گرمی اور رش سے جتنی زیادہ بے ہوش ھو گی نزرانہ دینے میں اتنا وسیع القلبی کا مظاہرہ کرے گی۔۔۔۔۔۔
اب شام ہو چکی تھی پنکھوں کی عدم دستیابی کی وجہ سینکڑوں عورتیں بے ہوش ہو چکی تھیں۔۔۔۔۔جو بچی ہوئی تھیں اور محاذ پہ ڈٹی ہوئی تھیں ان میں اور ڈیوائس والے کے درمیان ایک عجیب بے جا خوف اور عدم اعتماد کی فضا قائم تھی۔۔۔۔۔
ڈیوائس والے چاہتے تھے رقم بھی پوری دو ہزار ملے اور وہ بھی محفوظ طریقے سے کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی برقعے والی کے بھیس میں کوئی میڈم زارا نہ نکل آئے اور ڈیوائس لے کر چلتی بنے
۔جبکہ خواتین چاہتی تھیں کہ ہم کو رقم پوری ملے اور وہ بھی ترجیحی بنیادوں پر ۔۔۔۔
اس بے یقینی کی صورتحال میں پہلے دن ڈیوائس والوں کا کام مندا رھا اور ماسی فاطمہ اور سکینہ گروپ ناکام و نامراد واپس لوٹ آیا۔۔۔۔
اگلے دن پھر حاضری ہوئی یہاں ماسی فاطمہ کی نند کے بہنوئی کی دوسری بیوی کے بھانجے کا دوست ڈیوائس والے کا خلیفہ دریافت ھوا یوں اتنی کلوز رشتہ داری کی بنیاد پر دو ہزار روپے نزرانہ بطور حق لقہر معجل سکہ رائج الوقت طے پایا۔۔۔۔یوں ماسی فاطمہ اینڈ کمپنی کو ڈیوائس والے کے مقناطیسی میدان میں لایا گیا ۔۔۔۔پھر کیا تھا سب دو دو ہزار دیتے گئے اور سوڈا پیتے گئے۔۔۔جونہی مخصوص خواتین ختم ہوئیں سامنے عام خواتین کی تین کلومیٹر لمبی ٹرین دیکھ کر ڈیوائس والے حاجی صاحب کا وضو ٹوٹ گیا اور انہوں نے کہا بھئی ابھی رک جاؤ ابھی عصر کی نماز کا ٹائم ہو گیا ہے اور میں نے نماز پڑھنے بھی جانا ہے لہذا انتظار کرو میں نماز پڑھ کے ا جاؤں کیونکہ نماز مومن کی معراج ہے۔۔۔۔۔۔۔نماز برائی اور بے حیائی سے بچاتی ہے۔۔۔۔۔۔نماز جنت کی کنجی ہے۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے ڈیوائس والے حاجی صاحب نے جیب سے جالی والی ٹوپی نکالی اور ڈیوائس کو بند کر کے نماز کو چلے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور صبح سے کھڑی خواتین نے اس مرد مجاہد کو مسجد کی طرف جاتے ہوئے۔۔۔ان کے منہ سے نکلا
غازی یہ تیرے پر اسرار بندے ۔۔۔۔۔
جنہیں تو نے بخشا ہے خوف خدائی۔۔۔۔




