اُردو ادباُردو شاعرینظم
چائے خانے میں بیٹھا مزدور/عبدالرحمان واصف
چائے خانے کی دیمک زدہ میز پر
اپنی امید کے بھربھرے خواب ریزے لیے
سر سے پاؤں تلک زندگی کے بکھیڑوں میں الجھا ہوا آدمی
دائیں بائیں کی میزوں سے اٹھتے ہوئے شور سے بے خبر
"ویٹر!” ،” اس سمت دیکھو”، "ارے چار چائے "،” میاں دم تو لے” ،
"ایک سو دس ہوئے "، ” میز خالی ہے کیا ؟”
ایسی بے ربط اور بے سروپا صداؤں میں بیٹھاہوا
کپ کی حدت کو انگلی کے پوروں کا رستہ دکھاتے ہوئے
چائے کے سپ کی شیرینیوں سے وراء
آنے والے نئے کل کی بے چینیوں سے پریشان ہے !
سامنے شاخِ دیوار پر اٹکے ٹی وی کے ہریال منظر نظر کے لیے بوجھ ہیں !
رنگ، آواز ،خوشبو ،طلب ،ذائقہ
سب جزیرے بکھیڑوں میں الجھے ہوئے آدمی کے لیے کچھ نہیں
جس نظر میں کئی آفتاب اپنی ضو کھو چکے
اس نظر کے لیے رنگ ،آواز، خوشبو، طلب، ذائقےکچھ نہیں !




