بلاگ

ایران و اسرائیل: طاقت سے نظریے تک کی لڑائی/ شاہد چوہدری

ایران نے جو بیانیہ قائم کیا، وہ بھی خاصا مؤثر رہا اور عالمی رائے عامہ پر اس کے اثرات دیکھنے کو ملے۔

 

ایران اور اسرائیل کے مابین حالیہ کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ یہ کشیدگی محض دو ممالک کے مابین جنگی کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑی عالمی صف بندی، نظریاتی تصادم اور جغرافیائی مقاصد کی عکاس ہے۔ اس تنازعے کی اصل وجہ ایران کا متنازع ایٹمی پروگرام قرار دیا جا رہا ہے، جسے مغربی طاقتیں اور بالخصوص اسرائیل، ایک ممکنہ خطرہ سمجھتی ہیں۔ اگرچہ ایران ہمیشہ سے اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا آیا ہے، لیکن اسرائیل اور اس کے حامیوں کے نزدیک یہ ایک "نکتۂ خطر” ہے جس پر خاموشی ممکن نہیں۔

یہ کشیدگی اچانک نہیں بڑھی بلکہ ایک طویل عرصے کی تلخیاں، سفارتی پابندیاں، خفیہ کارروائیاں اور پراکسی جنگوں کا تسلسل ہے۔ حالیہ جھڑپوں میں دونوں ممالک کی جانب سے براہ راست عسکری حملے کیے گئے، جن میں ایک دوسرے کی اہم فوجی اور تکنیکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل نے ایران کے نطنز، فردو اور اصفہان میں موجود حساس ایٹمی مراکز پر فضائی حملے کیے، جن سے ایران کے جوہری پروگرام کو وقتی طور پر نقصان ضرور پہنچا، لیکن ایران کی مزاحمتی قوت نے نہ صرف حملوں کا جواب دیا بلکہ اسرائیل کے جدید فضائی نظام کو بھی چیلنج کر دیا۔

 

ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل کے عسقلان، حیفہ اور تل ابیب جیسے شہروں کے قریب حساس فوجی اڈوں اور ٹیکنالوجی مراکز کو نشانہ بنایا۔ حیران کن طور پر ایران نے یہ حملے ایک ایسی تکنیکی مہارت سے کیے جس نے اسرائیلی فضائی دفاعی نظام، آئرن ڈوم کی صلاحیت پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ کئی اسرائیلی ایف ۳۵ طیارے، جنہیں امریکہ کا سب سے مہنگا اور جدید ترین اسلحہ سمجھا جاتا ہے، ان حملوں میں ناکارہ یا تباہ ہو گئے۔ ان حملوں میں اسرائیل کو مادی کے ساتھ ساتھ نفسیاتی دھچکا بھی لگا، کیونکہ دنیا بھر میں اس کی ناقابلِ تسخیر ٹیکنالوجی کی ساکھ کو شدید زک پہنچی۔

 

اس ساری صورتحال کے پیچھے جو سب سے اہم زاویہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے وہ "ریجیم چینج” یعنی حکومت کی تبدیلی کا خفیہ ایجنڈا ہے۔ اسرائیل اور اس کے مغربی اتحادی ایران میں مذہبی شدت پسندی کے خاتمے اور ایک لبرل یا معتدل اسلامی حکومت کے قیام کے لیے راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر ایران میں کوئی ایسا نظام آ جائے جو مغرب کے لیے قابلِ قبول ہو، تو نہ صرف ایٹمی خطرہ کم ہو جائے گا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن بھی ان کے حق میں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف ایران پر فوجی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے اور دوسری طرف اس کی داخلی سیاست میں لبرل عناصر کی پشت پناہی کی جا رہی ہے۔

ایران نے ان تمام دباؤ کے باوجود جس صبر، تدبر اور مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ حیرت انگیز ہے۔ ایرانی قیادت نے بارہا کہا کہ وہ جنگ نہیں چاہتے، لیکن اگر ان پر جنگ مسلط کی گئی تو وہ نہ صرف دفاع کریں گے بلکہ حملہ آور کو قیمت چکانے پر مجبور کریں گے۔ یہ بات محض دعویٰ نہیں رہی بلکہ حالیہ حملوں میں دنیا نے ایران کی دفاعی حکمت عملی، میزائل ٹیکنالوجی، اور عسکری نظم و ضبط کا عملی مظاہرہ دیکھا۔ ایران نے یہ ثابت کیا کہ جنگ صرف جدید ٹیکنالوجی سے نہیں جیتی جاتی، بلکہ حوصلے، تربیت، اور اندرونی یکجہتی اس میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل کو عالمی سطح پر اپنی حکمتِ عملی کے باعث شدید تنقید کا سامنا ہے۔ کئی عالمی قوتیں، بشمول چین، روس اور ترکی، نے اسرائیلی حملوں کو اشتعال انگیزی قرار دیا۔ یہاں تک کہ یورپی یونین کے بعض ممالک نے بھی اسرائیل سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا کہا۔ اقوامِ متحدہ میں بھی ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے حق میں آوازیں بلند ہوئیں۔ گویا اس دفعہ ایران صرف اپنی سرزمین کا دفاع نہیں کر رہا، بلکہ وہ عالمی ضمیر کو بھی جگا رہا ہے کہ کس طرح مشرقِ وسطیٰ میں مغربی مداخلت ایک بار پھر خطے کو آگ میں جھونک رہی ہے۔

ایران اور اسرائیل کی اس کشیدگی نے یہ بھی واضح کر دیا کہ اب جنگ صرف زمینی یا فضائی حدود میں نہیں لڑی جا رہی، بلکہ سائبر اسپیس، میڈیا، سفارتکاری اور معاشی پابندیاں بھی جدید جنگ کا حصہ بن چکی ہیں۔ اسرائیل نے ایران پر سائبر حملے کر کے اس کے نیوکلیئر سسٹم کو متاثر کرنے کی کوشش کی، تو ایران نے بھی اسرائیل کے بجلی گھروں، سرورز اور مالیاتی نظام کو نشانہ بنایا۔

ایران کے حالیہ میزائل حملے میں اسرائیل کا معروف تحقیقی ادارہ "وائزمین انسٹی ٹیوٹ” نشانے پر آ گیا، جو تل ابیب میں واقع ہے۔ یہ ادارہ حیاتیات، کیمسٹری، طبیعیات اور دفاعی ٹیکنالوجی، خاص طور پر ڈرونز اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی کے حوالے سے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ گوگل میپ پر طویل عرصے تک پوشیدہ رکھا گیا یہ ادارہ اب ایرانی حملے کے بعد عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا میں ایران نے جو بیانیہ قائم کیا، وہ بھی خاصا مؤثر رہا اور عالمی رائے عامہ پر اس کے اثرات دیکھنے کو ملے۔

صورتحال کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس کشیدگی سے نہ صرف ایران اور اسرائیل متاثر ہو رہے ہیں بلکہ پورا خطہ لرز رہا ہے۔ لبنان، شام، عراق اور یمن جیسے ممالک میں پہلے ہی ایران و اسرائیل کی پراکسی لڑائیاں جاری تھیں، مگر اب یہ خطرہ بڑھ چکا ہے کہ کوئی بھی محدود جھڑپ ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، جو پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سونے کی عالمی مارکیٹ میں تذبذب، اور سفارتی سطح پر ہنگامی ملاقاتیں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ دنیا کو اس جنگ کی شدت کا ادراک ہو چکا ہے۔

ایران نے نہ صرف دفاع کیا بلکہ کئی محاذوں پر اسرائیل سے دو قدم آگے بڑھ کر اسے حیران کر دیا۔ اسرائیل، جو ہمیشہ حملہ آور کی حیثیت سے جانا جاتا تھا، اب دفاعی پوزیشن پر آ چکا ہے۔ اس کے فوجی تھنک ٹینک بھی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ایران کی مزاحمتی صلاحیت کو کمتر سمجھنے کی غلطی کی گئی؟ اور کیا یہ وقت ہے کہ اسرائیل اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرے؟

یہ ساری صورتحال ہمیں اس بڑے سچ کی طرف لے جاتی ہے کہ طاقت کا توازن صرف اسلحے سے نہیں بلکہ نظریے، استقامت، اور عوامی حمایت سے قائم ہوتا ہے۔ ایران کی موجودہ قیادت نے شاید داخلی مسائل، معاشی مشکلات اور سیاسی دباؤ کے باوجود اپنی خودمختاری اور قومی وقار پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہی مزاحمت کا وہ پہلو ہے جو دنیا کو چونکا رہا ہے۔

آخرکار، یہ کشیدگی ختم کب ہو گی اور کس قیمت پر؟ یہ سوال ابھی تشنہ ہے، لیکن جو بات واضح ہو چکی ہے وہ یہ کہ ایران کو زیر کرنا اب اتنا آسان نہیں رہا۔ اسرائیل کی ٹیکنالوجی اور عالمی پشت پناہی کے باوجود، ایران اپنی بقا کی جنگ میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ اس جدوجہد نے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی منظرنامے کو نئی جہت دی ہے، جہاں شاید مستقبل میں طاقت کا توازن از سر نو ترتیب پائے۔

Author

Related Articles

Back to top button