افسانہ : نیلی آنکھیں / افسانہ نگار: عارفین یوسف

بالاخر میں نے انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔ مجھے اُس کی مسلسل گھورتی نیلی آنکھوں سے سخت چڑ تھی۔ میں کوئی سنکی انسان نہیں ہوں اور نہ اتنا خبطی کہ کسی جاندار کو مارنے کا فیصلہ عجلت میں کر بیٹھوں۔ لوسی میری بیوی مارتھا کی چہیتی بلی تھی اور وہ اس گھر میں ایک فرد کی طرح بڑے ٹھاٹ سے ہمارے ساتھ رہتی تھی۔میری اور مارتھا کی شادی کو چھ سال ہونے کو آئے تھے اور شومئی قسمت کہ ہماری اب تک کوئی اولاد نہ تھی گو کہ ہم دونوں میں سے کسی کو اس بات کی جلدی بھی نہیں تھی بہرحال مجھے لگتا تھا کہ مارتھا لوسی کے ساتھ اپنی بیٹی جیسا سلوک کرتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اگر کبھی میں لوسی کو غصے سے دیکھ بھی لوں تو مارتھا کو سخت گراں گزرتا تھا اور وہ اپنے ردِعمل سے لفظوں کے بغیر اس بات کو جتاتی تھی کہ میرے اس عمل سے وہ کس قدر خائف ہے۔
بات یہ نہیں تھی کہ میں پالتو جانوروں سے بیزار تھا۔ مجھے اپنا پالتو کتا ٹونی بہت اچھی طرح یاد تھا جو میرے اشاروں پر ناچتا تھا۔ مجھے اس کو اپنے ساتھ سلانے میں بھی قطعاً کوئی عار نہ تھا۔ہم دونوں مختلف ٹی وی شوز بھی ساتھ بیٹھ کر دیکھا کرتے تھے۔ بدقسمتی سے میری شادی سے ایک ہفتہ قبل شام کو سڑک پر ٹہلتے ہوئے نہ جانے اُسے کیا ہوا کہ مجھ سے آگے آگے بھاگتا چلا گیا۔ میں ابھی سمجھنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ ٹونی اچانک ہی چھلانگ لگا کر عین سڑک کے درمیان میں آ گیا۔مجھ سمیت سڑک پر مناسب رفتار سے چلنے والے ٹرک کا ڈرائیور بھی ٹونی کی اس حرکت کے لیے بالکل تیار نہیں تھا لہذاوہ ڈرائیور بھی اُس کو حادثے سے نہ بچا سکا۔ چونکہ یہ حادثہ میری آنکھوں کے سامنے ہوا تھا اس لیے میں ڈرائیور کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتا تھا۔ ممکن ہے میرے لاشعور میں یہ بات جاگزیں ہو گئی ہو کہ ٹھیک ایک ہفتے کے بعد مارتھا کے ساتھ لوسی کی آمد ٹونی کے لیے بد شگونی کی علامت بن گئی تھی۔مارتھا نے میرا غم مٹانے کے لیے دلجوئی کے ساتھ ساتھ مجھے اپنی بلی کی طرف راغب کرنے کی بہت کوشش کی مگرلوسی میرا دل نہیں بہلا سکی۔
اُس کی مجھ پر مرکوز نیلی آنکھیں مجھے اپنے وجود کے آرپار ہوتی محسوس ہوتیں۔ مجھے یوں لگتا جیسے کوئی شکاری مجھے نشانے پر لیے بندوق تانے کھڑا ہے کہ جونہی میں پلک جھپکوں وہ مجھ پر گولی داغ کر میرے پرخچے اڑا دے۔وہ نیلی آنکھیں مجھے اپنی کڑی نگرانی کرتی اور بعض اوقات میرا محاسبہ کرتی محسوس ہوتیں۔ میں لاکھ کوشش کرتا کہ اِس دوران اپنا دھیان بٹا لوں مگر میری نظریں بھی بار بار اُن نیلی آنکھوں سے متصادم ہو جاتیں۔ مارتھا یوں چپکے چپکے لوسی کے ساتھ باتیں کرتی جیسے وہ دونوں ایک دوسرے کی زبان سے اچھی طرح آشناہوں اور یہی وہم میرے لیے زیادہ اچنبھے کا باعث تھا۔ دراصل ایک سال قبل ہی میری ایک کلاس فیلو ایملی جس سے میرا کسی زمانے میں بہت گہرا یارانہ رہ چکا تھا مجھ سے رابطہ منقطع ہونے کے کافی عرصے بعد آ ٹکرائی۔ اب وہ پھر سے اکیلی تھی اور کبھی کبھار اپنی تنہائی دور کرنے کے لیے میرے مدعو کرنے پر میرے گھر آ جاتی تھی۔ میں اُس کو اُن دنوں میں اپنے ہاں بلاتا تھا جب مارتھا دوسری ریاست میں مقیم اپنے والدین کو ملنے جاتی تھی۔ وہ عموما دویا تین ماہ کے بعد تین دن کے لیے اُن کی طرف جاتی تھی۔مارتھا اس سفر میں لوسی کو اپنے ساتھ لے کر نہیں جاتی تھی اور وہ گھر میں میرے پاس ہی رہتی تھی۔ اس دوران ایملی میرے پاس آ جاتی اور لوسی مسلسل ہمارے آس پاس ہی گھومتی رہتی۔
کبھی مجھے یوں لگتا کہ لوسی مارتھا کو میرے اور ایملی کے خفیہ تعلق کے بارے میں بتانے کی کوشش کر رہی ہے۔جس کی وجہ سے میں اُن نیلی آنکھوں کی تپش سے پگھلنے لگتا۔میری حالت اس وقت اور بھی پتلی ہو جاتی جب مارتھا مجھ سے ایک پولیس والے کی طرح جرح کرتی کہ میں اُس کے جانے کے بعد کیا کرتا ہوں کیونکہ میں کم ہی اُ س سے فون پر رابطہ کرتا تھا اور بقول مارتھا جب وہ مجھے فون کرتی ہے تو میں جلدی جلدی جان چھڑانے کے انداز میں بات کرتا ہوں حالانکہ میری حتی الامکان کوشش یہی ہوتی تھی کہ میں پرسکون ہو کر مارتھا سے فون پر بات کروں اور اس کو کسی گڑبڑ کا احساس نہ ہونے دوں۔ ایسے مواقع پر میں بمشکل اپنی تیز ہوتی دھڑکن پر قابو پاتا اوراُس کے شکوے کو ہنسی میں اُڑا دیتا جیسے یہ سب اُس کا وہم ہو۔ مجھے لوسی اور مارتھا کا ساتھ اذیت ناک اور زہر لگنے لگا اور میں نے اس اذیت سے مستقل چھٹکارا پانے کا فیصلہ کر لیا۔اب مجھے کسی کی پرواہ نہیں تھی۔
میں نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اُس وقت کا انتخاب کیا جب مارتھا شام کے وقت مطالعہ میں مصروف ہوتی ہے اور صرف اُسی وقت اس کا دھیان لوسی پر نہ ہوتا تھا۔ میں نے میز کی دراز سے اپنا لائسنس یافتہ ریوالور نکال کر اس میں میگزین لوڈ کیا۔ گہری سانس لے کر نشست باندھی، دروازے کی درز میں سے نیلی آنکھوں کے درمیان کا نشانہ لیا اور لبلبی دبا کر گولی داغ دی مگر لوسی نے اچانک چھلانگ لگائی اور گولی اس کی گردن کے آر پار ہو کر مارتھا کے ہاتھ میں پکڑی کتا ب کے پرخچے اُڑا گئی۔لوسی آن واحد میں بے جان ہو کر نیچے جا گری۔اُس کی سنہری آنکھیں ایک جگہ ساکت ہو گئیں۔
دہشت کے مارے مارتھا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، اف۔۔۔ وہی نیلی آنکھیں۔




