پہلا شخص / تحریر: اسد اللہ اعجاز

انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو اس کا دماغ بیج کی بوائی کے لیے ہر لحاظ سے تیار زرخیز زمین کی مانند ہوتا ہے۔ یہ زرخیزی اس قدر بڑھی ہوئی ہوتی ہے کہ کاشت کے لیے مہیا کیے گئے ہر قسم کے بیج کو قبول کر کے اسے خوب نشو ونما بخشتی ہے۔ خاص طور پر انسانی زندگی کے وہ ابتدائی سال جن میں اسے موزوں اور غیر موزوں کا فرق معلوم نہیں ہوتا ان سالوں میں تو ہر قسم کے خیالات اور تصورات کی آبیاری بامِ عروج پہ ہوتی ہے۔
انسان اپنے حواسِ خمسہ کے تمام وصول کنندگان (receptors) کی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کے ذریعے حاصل ہونے والی ہر شے کو دماغ کی زمین پر کاشت کرتا چلا جاتا ہے اور پھر باقی تمام زندگی اسی فصل کی کانٹ چھانٹ یا پھر بعض صورتوں میں بغیر کانٹ چھانٹ کے اسی ابتدائی حالت میں اس کی حفاظت کرتے گزار دیتا ہے۔
مثال کے طور پر ابتداء میں اس کے ذہن میں جس قسم کے مذہبی و مسلکی خیالات کی فصل کاشت کر دی جائے عمر بھر وہ اسی فصل کی نگہداشت میں گزار دیتا ہے۔ یعنی دنیا کے اسی سے نوے فیصد لوگ اسی مذہب پر زندگی گزار دیتے ہیں جو مذہب یا مسلک پیدائش کے بعد اسے وراثت میں ملا ہوتا ہے۔
یہ جو فصل انسانی ذہن کے کھیت میں کاشت کی جاتی ہے اس میں سب سے بڑا اور اہم کردار اس "پہلے شخص” کا ہوتا ہے جو انسان کے سب سے قریب ہوتا ہے اور جسے انسانی ذہن سب سے زیادہ مشاہدے میں لاتا ہے۔ یہ پہلا شخص جو بولتا ہے، جو کرتا ہے، جیسے کرتا ہے، جیسے سوچتا ہے وہی سب کچھ بالکل اسی طرح اسے دیکھنے والا انسانی ذہن اپنی یاداشت میں محفوظ کر لیتا ہے۔
اور اسی پہلے شخص سے حاصل ہونے والی سوچ اور عمل ہی کی بنیاد پر انسانی شخصیت کی تعمیر و تشکیل انجام پاتی ہے۔
"پہلے شخص” کا تاثر اتنا گہرا اور شدید ہوتا ہے کہ انسان چاہ کر بھی عمر بھر اس کے اثر سے نہیں نکل سکتا۔
یہ پہلا شخص ہمارے سماج میں عمومی طور پر ماں باپ، دادا دادی ،نانا،نانی، تایا،تائی چچا،چچی وغیرہ میں سے کوئی ہو سکتا ہے۔
ان رشتوں میں سے انسان اپنے بچپن میں جس کے سب سے زیادہ قریب رہا ہوتا ہے اس کی شخصیت کا بڑا حصہ اسی سے حاصل شدہ عادات و اطوار کا مجموعہ ہوتا ہے۔
درج بالا بحث کے بعد دو باتیں قابلِ توجہ ہیں
ایک یہ کہ اگر آپ کسی انسانی بچے کی زندگی میں "پہلے شخص” ہیں تو آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آپ ایک انسان کی شخصیت، قسمت اور تقدیر بنانے ،سنوارنے یا بگاڑنے کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ آپ کے کاندھوں پر ایک ایسی ذمہ داری کا بوجھ ہے جس کو کماحقہ ادا نہ کرنے سے آپ پورے سماج کے گنہہ گار قرار پائیں گے۔
اور دوسری بات جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ اگر آپ اپنی شخصیت اور کردار میں کچھ ایسے ناپسندیدہ عوامل دیکھتے ہیں جن سے آپ چاہ کر بھی پیچھا نہیں چھڑا پا رہے تو آپ فوری طور پر اپنے ماضی میں جھانکتے ہوئے اپنی زندگی کے اس "پہلے شخص” کو یاد کیجیے جو آپ کے بچپن میں آپ کے سب سے زیادہ قریب رہا۔ آپ کو اپنی ان پسندیدہ عادات اور کردار کی نا ہمواریوں کے ڈانڈے اسی پہلے شخص کے کردار سے ملتے نظر آئیں گے۔
اس ضمن میں اہم ترین بات یہ ہے کہ پہلے شخص کا یہ اثر صرف بچپن میں زندگی میں شامل ہونے والے انسان تک محدود نہیں ہے بلکہ زندگی کے ہر شعبے اور حصے میں آپ نے جو بھی سیکھا اسے سکھانے والے "پہلے شخص” کا اثر اس مہارت یا عادت میں ہمیشہ نمایاں نظر آئے گا۔
مثال کے طور پر وہ پہلا شخص جس سے آپ پہلی دفعہ پیار میں مبتلا ہوتے ہیں اس کے ساتھ آپ کا رشتہ اچھا،برا جیسا بھی رہا ہو اس کا اثر آپ کی محبت کی زندگی میں ہمیشہ نظر آتا رہے گا۔ آپ اس پہلے شخص کے بعد زندگی میں آنے والے ہر انسان کو انہیں بنیادوں پر پرکھیں گے جیسا پہلا انسان آپ کو سکھا کر گیا ہو گا۔
اسی طرح فرض کریں کہ آپ ایک موٹر مکینک ہیں تو آپ کے کام کرنے کے انداز میں اس شخص کا رنگ نمایاں دکھائی دے گا جس نے آپ کو اس شعبے میں پہلی دفعہ اوزار پکڑنا سکھایا ہو گا۔
اسی طرح اگر آپ ایک کسان ہیں تو اس بات کا قوی امکان موجود رہے گا کہ آپ زراعت کے پیشے میں اپنے باپ یا دادا کی کاربن کاپی ثابت ہوں گے۔
غرض یہ کہ "پہلے شخص” کا انسانی کردار اور شخصیت پر اثر اس قدر گہرا اور شدید ہوتا ہے کہ بعض صورتوں میں انسان عمر بھر اس اثر سے نہیں نکل پاتا اور اپنی پوری زندگی اسی پہلے شخص کی پرچھائی بن کر گزار دیتا ہے۔
لہذا اگر آپ ایک جینوئن ، اصل اور بالکل نئے انسان کی حیثیت سے اس دنیا میں اپنی شناخت پیدا کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے لیے ضروری ہے کہ اپنی گزشتہ زندگی کے ہر پہلو کا از سرِ نو جائزہ لیجیے اور زندگی کے ہر پہلو سے ان تمام باتوں اور اعمال کو نکال باہر کیجیے جن کے بارے میں آپ کو یقین ہو کہ یہ آپ کی زندگی کا صرف اس وجہ سے حصہ ہیں کہ یہ آپ کی زندگی کے "پہلے شخص” نے آپ کو سکھائی تھیں۔
ان تمام باتوں کے بارے میں نئے سرے سے تحقیق کیجیے اور اس تحقیق کی روشنی میں فیصلہ کیجیے کہ ان میں سے کون سی چیزیں رکھنے کے قابل ہیں اور کون سی ایسی باتیں ہیں جن کو ساتھ اٹھائے پھرنا اضافی بوجھ کے سوا کچھ بھی نہیں ۔




