گُوگی وا تھیانگو: "نہیں کبھی نہیں، حتیٰ کہ یہ بھی نہیں کہ میں کبھی مصنف بنوں گا۔ کسی کو جو بھی تعلیمی مواقع میسر آئے ان کو گرفت میں لینے کو یقینی بنانے کی جدوجہد خاصا مشکل کام تھا۔ چند دستیاب اسکولوں اور کالجوں میں جگہ کے لیے مقابلہ بہت سخت تھا۔ ابتدائی اسکولوں سے کالجوں تک ہر دو سال بعد آخری یا حتمی امتحانات ہوتے تھے۔ تب بمشکل دوسرا موقع ہوتا تھا۔ ایک بار آپ مقابلے سے باہر ہوگئے، چاہے جو بھی وجہ ہو، آپ شاید ہی کبھی دوبارہ اس کا حصہ بن سکتے تھے۔ لیکن میں ہمیشہ پڑھنا چاہتا تھا۔ جیسا کہ میں نے اپنی یادداشت، "ترجمان کے گھر میں” میں بیان کیا، زندگی میں پہلی بار ایک لائبریری میں داخل ہوتے ہوئے میری خواہش تھی کہ ایک دن میں دنیا کی تمام کتابیں پڑھنے کے قابل ہوسکوں۔ حقیقت جلد ہی خواہش کے پر کاٹ دے گی لیکن پڑھنے کی خواہش باقی رہتی ہے۔”
"میں ایک زبان کا جنگجو بن چکا ہوں۔ میں دنیا کی ان تمام لوگوں میں شامل ہونا چاہتا ہوں جو پسماندہ زبانوں کے لیے لڑ رہے ہیں۔ کوئی زبان کبھی بھی اس معاشرے کے لئے پسماندہ نہیں ہوسکتی جس نے اسے بنایا ہو۔ زبانیں موسیقی کے آلات کی طرح ہیں۔ آپ یہ نہیں کہتے کہ کچھ آلات کو عالمگیر ہونے دیں یا ایک ہی قسم کی آواز رہنے دیں جسے تمام گلوکار گا سکیں۔”
دراصل کئی سالوں تک میں نے اپنے ابتدائی ناول کو ایک نوآموز کے کام کے طور پر سوچا۔ چنانچہ جن ناولوں اور ڈرامے کا آپ نے ذکر کیا ان کے ساتھ ساتھ آٹھ یا اس کے قریب افسانوں اور ساٹھ سے زیادہ جریدے کے نشر پاروں کے باوجود مجھے اپنے آپ کو مصنف کہنا مشکل لگتا تھا۔ میں نے سوچا مجھے ابھی وہ ناول لکھنا ہے جو میں لکھنا چاہتا تھا تاکہ میں اپنے آپ کو مصنف کہنے کا حق حاصل کر سکوں۔ "گندم کا ایک دانہ”(1967) اور "خون کی پنکھڑیاں”(1975) اس ناول کو لکھنے کی کوششیں تھیں۔ لیکن جب میں نے ان دو کاموں کو مکمل کیا میں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کی بنیادی زبان کے طور پر انگریزی کے لیے اپنی وضع بدل لی تھی اور گیکُویُو کو اپنا لیا تھا۔ لیکن گیکُویُو کے ساتھ بھی میں وہ ناول لکھنے کی کوشش کرتا ہوں جسے لکھنے کے لیے میں نے تگ ودو کی تھی لیکن ابھی تک نہیں لکھا۔ "کائٹانی متارابینی(1980)” جس کا "صلیب پر شیطان” کے نام سے ترجمہ ہوا اور "میوروگی وا کاگوگو(2006)” جس کا ترجمہ "شیخیاں بگھارنے کا ماہر” کے طور پر ہوا، میری نئی وابستگی کا نتیجہ تھے۔ اب میں سمجھ چکا ہوں کہ لکھنے کے لیے آمد کا کوئی لمحہ نہیں ہوتا بلکہ آمد کا لمحہ سفر کے نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ یہ ایک مسلسل للکار ہے۔”
یہ کمپالا نیشنل تھیٹر کی جانب سے اس پر پابندی عائد کرنے کی وجہ کے طور پر بولا گیا ایک بڑا جھوٹ تھا جس نے مجھے رکنے اور کینیا والوں کے خلاف برطانوی نوآبادیاتی ریاست کی طرف سے روا رکھے جانے والے ظالمانہ طرزِ عمل کے متعلق سوچنے پر مجبور کیا۔ ہر نوآبادیاتی قوم کے جھوٹوں میں سے ایک جھوٹ یہ تھا کہ ان کی حکمرانی دوسری مسابقتی نوآبادیاتی طاقتوں کی نسبت زیادہ نرم اور مہربان تھی۔ منطق کچھ یوں تھی: ان کا حال ہم سے بد تر ہے اس لیے ہمارا حال بہتر ہے۔ بہتر، اچھے سے اعلیٰ درجہ ہے لہٰذا ہمارا حال اچھا ہے۔ یہ میری زندگی کا ایک اہم لمحہ تھا کیونکہ اس نے ایک عجیب انداز میں مجھے لکھنے کی ترغیب دی۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس واقعے کے ساتھ اس یادداشت کا آغاز کرتا ہوں۔ لیکن اگر پیچھے مڑ کر دیکھوں تو اس واقعے نے ہی طے کیا کہ برسوں بعد میرے ساتھ کیا ہوگا اور یہ سب تھیٹر کی وجہ سے ہوا جیسے مجھے 78-1977 میں کینیا کی زیادہ اعلیٰ ترین حوالات میں رکھا گیا۔
"نہیں، بالکل نہیں، لیکن میں نے یہ جان کر اس سب کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ جلاوطنی نے تاریخ کو عجیب حتیٰ کہ دلچسپ طریقوں سے متاثر کیا ہے۔ موسیٰ اور عیسیٰ کو مصر میں، محمد اور ان کے پیروکاروں کو عیسائی ایتھوپیا میں اور مارکس کو فرانس اور لندن میں پناہ ڈھونڈتے سوچیں۔ جلاوطنی کے تجربے نے ایسے خیالات کو جنم دیا جو بعد میں گھر پر اثر انداز ہوئے۔ مجھے لگتا ہے کہ ایفرو- کیریبین مصنف جارج لیمنگ نے اپنے مشہور عنوان "جلاوطنی کے لطف”(1960) سے یہی مراد لیا ہے۔ نیز، میں نے ایک نقطۂ نظر پروان چڑھایا ہے جسے میں اپنی کتاب ” عالمگیریت؛ جاننے کا فلسفہ اور سیاست (2012)” میں عالمگیر تخیل کہتا ہوں۔ یہ واقعی دنیا کو ریت کے ایک ذرّے میں اور ابدیت کو ایک گھنٹے میں دیکھنے کے سیاہ فام تصور کی توسیع ہے۔ ہم جڑے ہوئے ہیں۔”
"کینیا ہمیشہ میرے ذہن میں رہتا ہے۔ مجھے کینیا کی روزمرہ کی زندگی کی یاد آتی ہے۔ گیکُویُو زیادہ تر کینیا میں بولی جاتی ہے۔ یہ کئی دیگر افریقی زبانوں میں سے ایک ہے۔ کینیا زبانوں کی ایک پچی کاری ہے لیکن چونکہ اب میں بنیادی طور پر گیکُویُو میں لکھتا ہوں میں اس کی تبدیلیوں کے لسانی منظر نامے کا حصہ بننا چاہتا ہوں۔”
"میرا ماننا ہے کہ آفاقیت، خاصیت کی اولاد ہے۔ ریت کا وہ ذرّہ یاد ہے؟ یہ ساری دنیا پر مشتمل ہے۔ ایک مصنف کے لیے کائنات کا تصور کرنے کے لیے اس ذرّے سے وفادار ہونا ضروری ہے۔”
"مجھے نہیں لگتا کوئی ایسا کام ہے جسے ایک مخصوص طبقہ ہی سمجھ سکتا ہے یا اگر کوئی ہے تو یہ برا فن ہے۔ لیکن ہر قاری فن کے کام میں ایک عالمی منظر پیش کرتا ہے جس کی تشکیل اس کے ماضی کے تجربات سے ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر نوآبادیاتی تجربے کے نقاد سامراجی مراکز کے کاموں میں خلا حتیٰ کہ خاموشی دیکھ سکتے ہیں۔”
"جدوجہد جاری رہتی ہے۔ افریقی زبانوں کے لیے ضروری جگہ بنانے کے لیے ہمیں ریاست، ناشر اور مصنف کی تثلیث کی ضرورت ہے۔ اب تک ، ریاست کارروائی میں غائب ہے۔ ان کی حکمت عملیاں اور تدابیر یورپی زبانوں کے نخرے اٹھانے کے لیے تیار ہیں جبکہ افریقی زبانوں کو مفلس کر رہی ہیں۔ بعض اوقات بعد از نو آبادیاتی ریاست افریقی زبانوں کے لیے فعال دشمنی کا مظاہرہ کرتی ہے۔”
یہ ایک نمونے کا حصہ رہا ہے۔ 1977 میں ، جیسا کہ ہم نے بات کی، مجھے گیکُویُو زبان میں پہلے جدید ڈرامے (جو کہ گُوگی وا میری کے ساتھ مشترکہ طور پر لکھا گیا تھا اور کیمیریتھو کے کسانوں اور کارکنان نے پیش کیا تھا)۔ پر پابندی لگانے کے فورا بعد ایک اعلیٰ سطحی حوالات میں رکھا گیا تھا۔ 1982 میں ، میرے گیکُویُو زبان کے ناول کائٹانی متارابینی کے جاری ہونے سے دو ہفتے قبل ، میرے کینیا کے ناشر ، ہنری چاکوا پر نیروبی میں ان کے گھر کے باہر حملہ ہوا۔ اس کی ایک انگلی جو کہ خنجر سے کاٹی گئی تھی، کو دوبارہ جوڑنا پڑا۔ یہ حملہ ہفتوں کی گمنام ٹیلی فون دھمکیوں کے بعد کیا گیا۔ 1987 میں ، آمر حکمران موئی نے میرے دوسرے گیکُویُو زبان کے ناول ، ‘ماٹیگری’ کے مرکزی کردار کی گرفتاری کا فرمان جاری کیا۔ 2003 میں میرے تیسرے گیکُویُو ناول میوروگی وا کاگوگو کی اشاعت سے 11 دن پہلے مسلح افراد نے میری بیوی اور مجھ پر حملہ کیا۔ لیکن کینیا ایک قوم ہے اور کینیا کے لوگ میرا ساتھ دیتے ہیں۔ میں کینیا کے لوگوں کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا۔ لہٰذا میں لوٹتا ہوں اور کینیا اور اس کے عظیم لوگوں کے بارے میں لکھتا ہوں۔ کینیا کے لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں دنیا سے بات کرتا ہوں۔”
"میں لکھنے پر مجبور ہوں۔ مصنفین حقیقتاً ایک پیغمبرانہ روایت کا حصہ ہیں۔ اپنی نظم "اپنے والد کے ساتھ لفظوں کا شکار کھیلتے ہوئے” میں میرے بیٹے موکوما وا گُوگی جو خود ایک مصنف اور کارنیل میں انگریزی کا پروفیسر ہے کا کہنا ہے کہ لفظوں کے ساتھ شکار کرنا بہت خطرناک ہے۔ تمام پیغمبروں کو دیکھیں جو جیل میں ہیں ، جلاوطن ہیں ، یا جنہیں سزائے موت دی گئی۔ ان سب کے پاس جو کچھ تھا وہ الفاظ تھے۔ میں لکھتا ہوں کیونکہ میں زندہ ہوں۔”
نوآبادیاتی تشدد کی یادیں اب بھی میرا تعاقب کرتی ہیں۔ یہ تشدد ایسا ہی کچھ میرے خاندان کے ساتھ بھی کرتا ہے۔ جب میں مشرق وسطیٰ میں قتل عام دیکھتا ہوں یا امریکہ کی سڑکوں پر سیاہ فام لوگوں کے خلاف پولیس کا بے حس تشدد دیکھتا ہوں تو وہ مناظر بار بار نظر آتے ہیں۔ پھر میں زیادہ محنت کرتا ہوں۔ میں جیلوں اور حراستی چھاؤنیوں کے بغیر ایک دنیا دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں بے خانمی یا بے گھری اور فاقہ کشی کے بغیر ایک دنیا دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں جدید ترقی کے پیچھے اس منطق کا خاتمہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ ایک کے وجود کے لیے دوسروں کا وجود ختم کیا جائے۔ میں اس مفروضے کا خاتمہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ ہزار کروڑ پتی یا ارب پتی بننے کے لیے ایک ارب غریب ہونا ضروری ہے۔ ہمیں یہ دیوانگی یا سوچ کا پاگل پن ختم کرنا ہوگا کہ کسی ملک کی ترقی کا پیمانہ اس کے ارب پتیوں کی تعداد ہے۔ ان ارب پتیوں کے بنائے ہوئے اربوں غریبوں کا کیا ہوگا؟”
ہم درد سے نمٹنے کے لیے درد کے بارے میں لکھتے ہیں – امید افزا طور پر اسے ختم کرنے میں مدد کریں گے۔ ہم انسانوں کی انسانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بریخت نے ایک بار پوچھا تھا: "کیا تاریک اوقات میں گانا بھی ہوگا؟ / ہاں اندھیرے وقتوں کے بارے میں گانا ہوگا۔” یہ نظم میری یادداشت "جنگ کے وقت خواب”(2010) کا خاکہ ہے۔
"مختلف تحاریر میرے لیے مختلف یادیں رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سب یکساں طور پر میری پسندیدہ ہیں۔ اگر میں "صلیب پر شیطان” کو منتخب کرتا ہوں تو اس کی وجہ وہ غیر معمولی حالات ہیں جن کے تحت میں نے اسے لکھا ہے۔ یہ گیکُویُو زبان میں میرا پہلا ناول بھی تھا جو اسے گیکُویُو میں پہلا جدید ناول بناتا ہے۔ مجھے یہ بھی خوشی ہے کہ میری جلاوطنی کے سالوں کے دوران لکھے گئے ایک اور گیکُویُو زبان کےا ناول "شیخیاں بگھارنے کا ماہر” نے 2006 میں کیلیفورنیا کا سونے کا تمغہ جیتا جو ایک بار جان سٹائن بیک نے جیتا تھا۔ میں ہمیشہ مذاق کرتا ہوں کہ "شیخیاں بگھارنے کا ماہر” تاریخ کا واحد ناول ہے جو دو مالٹوں کے درمیان لکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے اسے نیو جرسی کے ایک قصبے اورنج میں لکھنا شروع کیا اور کیلیفورنیا کے ضلعے ‘اورنج’ میں مکمل کیا۔”
"یہ مشکل کام ہے. لیکن مجھے ہمیشہ بہت خوشی ہوتی ہے جب دنیا میں کہیں بھی کوئی قاری مجھے بتاتا ہے کہ کس طرح ایک خاص تحریر نے اس کی زندگی کو متاثر کیا۔ میں ایک مرتبہ ایک ہندوستانی سیاسی کارکن سے حیدرآباد میں ملا جس نے "صلیب پر شیطان” کے لیے میرا شکریہ ادا کیا۔ وہ اپنی جان لینے کا ارادہ کر رہا تھا لیکن اتفاق سے وہ ایک کتاب کی دکان میں داخل ہوا میری کتاب خریدی اور اسے پڑھا اور اس کتاب نے اسے ایک نیا مقصد تلاش کرنے پر مجبور کر دیا۔ ایسے لمحات میں یہ دیکھتے ہوئے کہ وہ تمام کوششیں جو اس کام میں صرف کی گئیں کارگر ٹھہریں میں اشک بار ہوجاتا ہوں۔ مجھے خوشی ہوتی ہے جب میرے قارئین مجھے بتاتے ہیں کہ "شیخیاں بگھارنے کا ماہر” نے انہیں ہنسایا۔ ایک بار ڈیوک یونیورسٹی میں ایک استقبالیہ میں ، میں دو پروفیسروں سے ملا جن کے پیشے (ایک کا قانون اور دوسرے کاادب) کے انتخاب کا فیصلہ "خون کی پنکھڑیاں”میں ترقی پسند وکیل کے کردار کے ساتھ ان کی ملاقات سے متاثر ہوکر کیا گیا۔ ادب کے پروفیسر کو ابتداء میں قانون میں دلچسپی تھی لیکن جب اس نے دیکھا کہ ایک ناول کیا کرسکتا ہے تو اس نے اپنے پیشے کو ادب میں تبدیل کردیا جبکہ قانون کے پروفیسر کو ادب میں دلچسپی تھی لیکن افسانوی یا خیالی وکیل سے ملنے پر اس نے قانون کا رخ کرلیا۔”
کیوں نہ "جنگ کے وقت خواب” اور "روؤ مت بچے”(1964) سے شروع کریں؟ یہ میرے بچپن کے اسی دور سے نکلے ہیں ، اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیسے افسانے اور یادداشتیں حقیقت کے بارے میں نقطہ نظر کے حوالے سے مختلف ہیں۔ لیکن اگر آپ رونا نہیں ہنسنا چاہتے ہیں تو "شیخیاں بگھارنے کا ماہر” کیوں نہیں؟ دوسری صورت میں میرا کوئی بھی ناول آپ کو دوسروں کی طرف لے جائے گا۔”
"میرے پہلے دو ناول "روؤ مت بچے” اور "درمیان میں دریا”(1965) مختصر جملوں اور لکیری بیانیے کی خصوصیات کے حامل ہیں۔ بعد میں "گندم کا ایک دانہ”(1967) اور "خون کی پنکھڑیاں” میں مجھے تہہ در تہہ وقت اور خلا میں دلچسپی ہو گئی۔ سیدھے لمبے جملوں کو کو ایک سے زیادہ لائنوں سے تبدیل کیا جاتا ہے جو آڑھی ترچھی ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں متعدد حروف ، ایک سے زیادہ ٹھہراؤ، اور کئی ارتقائی جملے وجود میں آتے ہیں۔ اس کے لیے چھوٹے جملوں سے بہت لمبے جملوں میں تبدیلی کی ضرورت تھی۔”
میں معاشرے میں طاقت کی کارروائی میں دلچسپی رکھتا ہوں۔ زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جو اس بات سے متاثر نہ ہو کہ معاشرے میں کون اور کون سا معاشرتی طبقہ طاقت کا استعمال کرتا ہے اور طاقت کا استعمال کر کے کس انجام کو پہنچتا ہے۔ میں نے واقعی ترقی کی ہے۔ لیکن میں دنیا کو ہمارے درمیان کم سے کم ضروریات اور ایک نقطہ نظر سے دیکھنے میں مستقل رہا ہوں۔ گلوبلیکٹکس میرے نقطہ نظر کا خلاصہ کرتے ہوئے کہتا ہے: زندگی مربوط ہے – زمین ، پانی ، آسمان ، تمام تخلیق ، اور وہ سب جو تخلیق کو قابل بناتا ہے اور برقرار رکھتا ہے۔میں اب سمجھتا ہوں کہ پرانے لوگ کیوں سورج کی عبادت کرتے تھے اور پانی، آگ، مٹی، جانوروں اور پودوں کی زندگی کا احترام کرتے تھے۔ قبل از نوآبادیاتی گیکُویُو میں ، آپ کو ایک کاٹے یا جڑ سے اکھاڑے گئے درخت کی جگہ چھوٹا پودا لگانا پڑتا تھا۔ زمین ہماری مشترکہ ماں ہے اور کسی بھی قوم یا افراد کو یہ دعویٰ نہیں کرنا چاہیے کہ یہ دوسروں سے زیادہ ان کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب میں سمجھتا ہوں کہ ماحولیاتی خلاف ورزیاں انسانیت اور زندگی کے خلاف جرائم ہیں۔ کہیں بھی پانی اور ہوا کی آلودگی تمام مخلوقات کو متاثر کرتی ہے۔”
"یادداشت مجھے اپنی وضاحت کرنے میں مدد دیتی ہے۔ میں اسے یہ کہنے کے لیے استعمال کرتا ہوں "میں اب بھی زندہ ہوں اور میں اب بھی افریقی زبانوں پر یقین رکھتا ہوں اور ہاں مجھے ہر ممکن ادبی طریقے سے لڑنا ہے۔” بعض اوقات مجھے غیر متوقع انعامات ملتے ہیں۔ میری گیکُویُو میں لکھی ایک کہانی کا اب اکسٹھ زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے ، ان میں سے 40 افریقی ہیں۔ اسے اٹیویکا ریا مورنگارو کہا جاتا ہے یعنی راست باز انقلاب: یا انسان سیدھے راستے پر کیوں چلتے ہیں۔ میں پرجوش ہوں کیونکہ اس منصوبے کے پیچھے جلاڈا کے اشاعتی منصوبے کے ساتھ تمام افریقی اقوام کے سیاسی اتحاد کی تحریک کے نوجوانوں کا ایک مجموعہ ہیں۔ ان کی قیادت ان کے مدیرِ اعلیٰ موسِس کیلولو کر رہے ہیں۔”
"تینوں یادداشتیں صرف 1964 تک ہیں۔ میں مزید کام کرنا چاہوں گا ، لیکن میں پہلے ایک اور ناول لکھنا چاہتا ہوں۔ ناول مجھے ان جگہوں اور حلقوں میں لے جاتا ہے جہاں کوئی دوسری صنف نہیں لے جا سکتی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ناول کی نسبت افسانہ نگاری کے فن سمیت تھیٹر کا میری زندگی پر زیادہ اثر پڑا ہے۔ آخر کار یہ ایک ڈرامہ ہی تھا جس نے مجھے کامیٹی جیل بھیجا، جہاں میں نے زبان کے سوال پر دوبارہ غور کیا اور گیکُویُو زبان میں اپنے پہلے ناول کا آغاز کیا۔”
"یہ ہر ناول کے لیے مختلف ہوتا ہے ، لیکن زیادہ تر یہ ایک تصویر ، ایک مبہم خیال سے شروع ہوتا ہے۔ تخلیقی تحریر کسی نامعلوم کی تلاش کی طرح ہے۔ اکثر ، میں اپنے ابھرتے ہوئے کرداروں سے خود کو حیران پاتا ہوں جو ایسے مسائل اٹھاتے ہیں جن کے بارے میں میں نے ابھی سوچا بھی نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اگلا ناول ہمیشہ پچھلے ناول سے مختلف ہوتا ہے۔ لیکن یہ ایک ہی مہم جُو کی مخصوص خوبیوں کے ساتھ اس کے ادبی کام ہیں۔ وہ پھول جسے دیکھنے کے لیے میں رک جاتا ہوں اس پھول سے مختلف ہو سکتا ہے جو کسی دوسرے متلاشی کو متوجہ کرتا ہے۔”
"موضوع کا ایسا مسئلہ نہیں ہے جتنا کہ نہیں اگلے ناول کو درپیش چیلنج۔ آپ کو معلوم ہے کہ میرا بہترین ناول وہ ہے جو میں نے ابھی لکھنا ہے۔”
"جی ہاں کئی ہیں، شاید کل ملا کے سات ہیں۔ وہ گیکُویُو زبان میں ہیں بشمول مولیئر اور گوگول کے گیکُویُو میں تین ترجموں کے۔”
آج امریکہ میں آپ کا منتخب کردہ گھر بہت بروقت لگتا ہے۔ آپ کے خیال میں مصور ، عالم اور دانشور کا ہمارے موجودہ امریکی سیاسی ماحول میں کیا کردار ہے؟
"مجھے معلوم ہے کہ یہ ایک وسیع سوال ہے ، لیکن آپ اپنی تحریروں سے کیا حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں؟”
"افریقی زبانوں اور دنیا کی دیگر تمام پسماندہ زبانوں کو بااختیار بنانا۔ میں زبان کا ایک جنگجو بن گیا ہوں۔ اور میں اس سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔ ہاں یہ مایوس کن ہے لیکن میں جدوجہد کو قبول کرتا ہوں۔”
"افریقی زبانوں میں لکھنے اور شائع کرنے کے طریقے سے زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔ لیکن رویے بدل گئے ہیں۔ جب میں نے پہلی بار 1986 میں اپنی کتاب "ڈی کلونائزنگ دی مائنڈ” شائع کی تو مجھے بہت سی دشمنی، نفرت، طنز اور تضحیک کا سامنا کرنا پڑا۔ اب میں یہ نہیں دیکھتا۔ لیکن سچ پوچھیں تو افریقی ہمیشہ سے افریقی زبانوں میں لکھتے رہے ہیں۔ 2000 میں اریٹیریا کے علاقے اسمارا میں منعقد ایک کانفرنس میں شرکاء افریقی زبانوں کے مصنفین تھے اور ان میں سے سینکڑوں براعظم کے کونے کونے سے آئے تھے۔”
"وہ ایک مشہور دستاویز کے ساتھ آئے تھے۔ یہ افریقی زبانوں پر ایک قسم کا منشور تھا جسے اسمارا اعلامیہ کہا جاتا ہے۔”
یہ میرے لیے بھی ایک خوشگوار حیرت تھی۔ میں پُر یقین نہیں ہوں کہ گیکُویُو زبان کی کتابیں اس سطح کی دلچسپی کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہیں۔ سکول اور پورا تعلیمی نظام افریقی زبانوں کی حمایت نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر میری انگریزی زبان کی تحریروں کا سکولوں اور کالجوں میں استعمال ہونے کا امکان ہے اس لیے وہ مکمل طور پر عام قاری پر منحصر نہیں ہیں لیکن گیکُویُو زبان کی کتابیں اسکولوں یا کالجوں میں نصاب کا حصہ نہیں ہیں۔”
"پہلی بات تو یہ کہ مصنفین کو اپنی تحریروں کا انگریزی میں ترجمہ کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ میں یہ کرتا ہوں کیونکہ میری ان لوگوں کے ساتھ بحث ہے جو کہتے ہیں کہ افریقی زبان میں لکھنا دوسرے افریقیوں اور دوسرے لوگوں تک ان کے کام کی رسائی کی نفی کرتا ہے۔ ذہن میں رکھیں ایسا یورپی زبانوں میں لکھنے والوں کے لیے کبھی نہیں کہا جاتا جن کی تحریروں کا ترجمہ بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے جو افریقی زبانوں میں لکھتے ہیں وہ پوشیدہ رہتے ہیں۔ ان کے کاموں کا شاید ہی کبھی جائزہ لیا گیا ہو یا ترجمہ کیا گیا ہو۔ اشاعت کے مواقع محدود ہیں۔ یقینا رکاوٹوں کے باوجود کام موجود ہیں۔ مثال کے طور پر کیسواہیلی میں۔ کیسواہیلی ایک افریقی زبان ہے جو مشرقی اور وسطی افریقہ میں بولی جاتی ہے۔ اس کی ایک بڑی ادبی روایت ہے جس نے شعبان رابرٹ سے عبد الطیف عبد اللّٰہ تک عظیم تحریریں پیدا کی ہیں اور یہ عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔”
میں نے ترجمے کو زبانوں کی مشترکہ زبان قرار دیا ہے۔ لہذا میں انگریزی یا کسی دوسری زبان کے خلاف نہیں ہوں۔ میں جس چیز کی مکمل مخالفت کرتا ہوں وہ ان زبانوں کے درمیان طاقت کا غیر مساوی تعلق ہے۔ انگریزی کسی دوسری زبان سے زیادہ زبان نہیں ہے۔ یہی بات دوسری تمام چھوٹی اور بڑی زبانوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ میں ایک زبان کے کاموں کو دوسری زبانوں میں دستیاب کرنے کے لیے موجود رہا ہوں اور اب بھی ہوں۔ میں یورپی، ایشیائی، لاطینی اور امریکی ادب کو افریقی زبانوں میں ترجمہ ہوتے اور اس کے برعکس افریقی ادب کا ان زبانوں میں ترجمہ ہوتے دیکھنا چاہتا ہوں۔ وانگُوئی وا گورو نے میری کچھ تحریروں کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔ لیکن دوسری تحریروں کا جرمن ، سویڈش اور جاپانی زبان میں دوسرے لوگوں نے ترجمہ کیا ہے۔
"عام ادراکی عمل یہ ہے کہ کوئی جہاں ہے وہیں سے شروع کرے اور پھر اس علم میں اضافہ کرے۔ زبانوں کے معاملے میں یہ آسان ہے۔ اپنی زبان کو اپنائیں اس میں دوسری زبانیں شامل کریں: یہی عطائے اختیار ہے۔”
"اگر کچھ برطانوی لوگوں نے جاپانی میں لکھا تو کیا اس سے جاپانی انگریزی زبان بن جاتی ہے؟ میں صرف ادبی شناخت کی چوری پر خفا ہوں جہاں افریقیوں کا یورپی زبانوں میں لکھا گیا ادب افریقی شناخت لیتا ہے۔ پھر ہم افریقی زبانوں میں افریقی تحریروں کو کیا کہتے ہیں؟”
"میں سمجھتا ہوں کہ ریاست ، پبلشر اور مترجم کی ایک تثلیث دوسری زبانوں سے افریقی زبانوں میں علم کی بڑے پیمانے پر منتقلی کو یقینی بنا سکتی ہے۔ اب افریقی ادب کے لیے ماباتی کارنیل کیسواہیلی انعام ہے۔ میرا بیٹا ، مکوما وا گُوگی انعام کے بانیوں میں سے ایک تھا اور اپنے قیام کے تین سالوں کے اندر ، اس نے کیسواہیلی میں کافی تعداد میں افسانے اور شاعری پیدا کی ہے۔”
"افریقہ اور افریقی لوگوں نے برسوں کی جسمانی، نوآبادیاتی اور آج قرض کی غلامی کے باوجود جو کچھ حاصل کیا ہے اس پر مجھے فخر ہے۔ ایک ٹانگ اور ایک بازو مغرب کے ساتھ بندھے ہوئے ہونے کے باوجود افریقہ ابھرا ہے۔ بدقسمتی سے افریقہ اب بھی سرمایہ دارانہ ترقی کی اسی منطق کے ہاتھوں مجبور ہے کہ چند ایک کی خوشحالی ترقی کا پیمانہ ہے۔ ہمیں اب بھی معاشرے کی تبدیلی کی ضرورت ہے ، لیکن براعظم کے وسائل کو محفوظ بنانے کے لیے پہلا قدم افریقہ کے لیے جدوجہد ہونا چاہیے۔ افریقہ وہ تحفہ رہا ہے جو مغرب کو بس دیتا ہی رہتا ہے۔ اسی وقت میں افریقہ نے اپنے وسائل کو محفوظ کیا، ان کے ساتھ اشیاء بنائیں اور پھر باقی دنیا کے ساتھ دینے اور لینے کا ایک متوازن رشتہ قائم کیا۔ میں نے اپنی کتاب "بنیاد کی حفاظت کریں : افریقہ کو کرۂ ارض پر آشکار کریں(2016) میں اس دلیل کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔”
"مغرب نوآبادیاتی لوگوں کے خلاف اپنے جرائم کی ذمہ داری لینے سے انکار کرتا رہتا ہے۔ آج بھی امریکہ لاکھوں لوگوں کو غلام بنانے کے لیے معافی مانگنے سے انکار کرتا ہے۔ "بنیاد کی حفاظت کریں” میں ، میں نے یہ بتایا ہے کہ تین قومیں یعنی امریکہ ، برطانیہ اور فرانس، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ڈھیروں کے ساتھ غلاموں کی تجارت کرنے والی اور غلاموں کی مالک قوموں میں سے ہیں۔ اور چوتھا ، روس، جس کے اپنے اندرونی غلام تھے، گوگول کی مردہ روحیں۔”
میں ابھی بھی حیران ہوں کیا آپ کو لگتا ہے کہ اگر آپ کو اپنی زبان ، تاریخ اور ثقافت کے حق اور پہچان کے لیے لڑنا نہ پڑتا تو بھی بطور مصنف اور نقاد آپ کی ترقی اسی طرح ہوتی۔
"ہر ادیب اپنی پرورش کے حالات ، اپنی زندگی کے کل تجربے اور جدوجہد سے ڈھلتا ہے۔ زبانی ادب مجھے ادب کی طرف لے گیا۔ جیسا کہ "جنگ کے وقت خواب”میں میں نے کہا، جب ہم بچے تھے تو ہمیں بتایا گیا تھا کہ کہانیاں دن کے وقت چھپ جاتی ہیں اور شام کے وقت تمام کام مکمل ہونے کے بعد ہی واپس آتی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ہمارے خاندان کی ترکیب ہو تاکہ ہم اپنے کام کریں اور ہمیں شام کے وقت انعام کے طور پر کہانی سنائی جائے لیکن میں نے اسے حرف بہ حرف ایسے ہی لیا۔ تاہم میں اب بھی کہانیوں کا شوقین تھا ہیں تک کہ دن کے وقت بھی، اور پڑھنا سیکھنے سے میں اس قابل ہوگیا کہ میں دن کے کسی بھی وقت اپنے آپ کو کہانیاں سنا سکتا تھا۔ خوش قسمتی سے ان دنوں میں ہم نے اسکول کے پہلے چار سال گیکُویُو میں گزارے تھے اور اس طرح میں نے جو پہلی کتابیں پڑھی ان میں پرانے عہد نامے کا گیکُویُو میں ترجمہ تھا۔ بائبل سے پرے ، گیکُویُو میں کتابیں سکول کے ابتدائی قاعدے تک محدود تھیں۔ تو یہ انگریزی تھی جس نے بعد میں کتابوں کی وسیع دنیا کو میرے لیے کھول دیا۔ میں یہ واضح کرتا چلوں کہ مجھے انگریزی لکھنے والوں کو پڑھ کر بہت لطف آیا: شیکسپیئر، جین آسٹن، جارج ایلیٹ، ڈکنز، جوزف کونریڈ، ڈی ایچ لارنس، ای ایم فورسٹر اور دیگر۔ لیکن میں نے انگریزی ترجمہ میں روسی ادب کا بھی لطف اٹھایا: دوستوئفسکی، چیخوف، ترگنیف، ٹالسٹائی، گورکی اور شولوکوف۔ فرانسیسی مصنفین میں ، بالزاک حیرت انگیز تھا۔ بعد میں میں نے کیریبین ادب دریافت کیا: جارج لیمنگ، وی ایس نائپال، راجر میس، کاماؤ براتھ ویٹ، اور یقینا افریقی امریکی مصنفین: لینگسٹن ہیوز، کلاڈ میکے، رچرڈ رائٹ، جیمز بالڈون، امیری باراکا، سونیا سانچیز۔ انگریزی میں براہ راست اور انگریزی ترجمہ میں افریقی مصنفین ایک اور دریافت تھے: پیٹر ابراہمس، ایسکیا ایمفاہلی ، الیکس لا گوما ، اور بہت سے۔
لیکن یہ سب انگریزی کے ذریعے مجھ تک پہنچے۔ اس ادبی تصویر میں جو چیز غائب تھی وہ تھی افریقی زبانوں میں ادب ، یہاں تک کہ میری اپنی زبان گیکُویُو۔ کیسواہیلی میں تھوڑا بہت ادب تھا لیکن دوسری صورت میں ادب کا بڑا حصہ انگریزی زبان میں تھا۔ جب میں نے لکھنا شروع کیا، میں نے اسے اپنی نسل کے بہت سے لکھاریوں کی طرح فرض کر لیا کہ انگریزی ہمارے ادبی اظہار کے لیے فطری زبان ہے۔ بعد میں میں نے اس مفروضے اور افریقہ اور یورپ کی زبانوں کے درمیان طاقت کے مجموعی عدم توازن پر سوال اٹھایا۔ میں نے نوآبادیاتی تعلیم پر سوال اٹھایا جس نے افریقی زبانوں کو انگریزی اور یورپی زبانوں کے مقابلے میں مخفی بنا دیا۔ زبان پر یہ جدوجہد مجھے جیل اور جلاوطنی کی طرف لے گئی لیکن مجھے اس حقیقت پر بہت فخر ہے کہ اس جدوجہد نے مجھے گیکُویُو میں لکھنے کی جرأت عطا کی۔”
"زبان کا حق انسانی حق ہے استحقاق نہیں ہے۔ ہر قوم کو اپنی زبان اور اس زبان میں فکری پیداوار کا حق ہے۔ لیکن مادری زبان سے زیادہ ہونا ایک بڑی سعادت ہے۔ مارٹینیک سے تعلق رکھنے والے ایمی سیزر نے اپنی کتاب "نوآبادیات پر بیان”(1950) میں ثقافت کے رابطے کو تہذیب کی آکسیجن قرار دیا ہے۔ لیکن یہ سوار اور گھوڑے کی ثقافت کا رابطہ نہیں ہے۔ میرا ماننا ہے کہ زبانوں کے لیے بھی ایسا ہی ہے: زبان کا رابطہ ہماری مشترکہ انسانیت کی آکسیجن پیدا کر سکتا ہے ، لیکن صرف اس وقت جب زبانیں دینے اور لینے کے مربوط سلسلے سے تعلق رکھتی ہیں نہ کہ طاقت کی درجہ بندی سے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بعد از نوآبادیاتی حکومتوں نے ان حکمت عملیوں کو جاری رکھا جنہوں نے افریقی زبانوں کو پسماندہ کیا اور یورپی زبانوں کو بلند کیا۔ عام ادراکی عمل یہ ہے کہ آپ جو کچھ پہلے سے جانتے ہیں اس میں اضافہ کریں ، نہ کہ کسی شخص کو جو کچھ وہ پہلے سے جانتا ہو اس سے ہٹا کر اس میں لسانیات کے دوسرے سیٹ کی بنیاد رکھنا علم کہلا سکتا ہے۔ اگر آپ دنیا کی تمام زبانیں جانتے ہیں اور آپ اپنی مادری زبان یا اپنی ثقافت کی زبان نہیں جانتے تو یہ غلامی ہے۔ لیکن اگر آپ اپنی مادری زبان یا اپنی ثقافت کی زبان جانتے ہیں اور اس میں دنیا کی تمام زبانیں شامل کرتے ہیں تو یہ بااختیار ہونا ہے۔ یک لسانیت تہذیب کی کاربن مونو آکسائیڈ ہے۔ یقینا ایسے کئی سماجی گروہ ہیں جن کی اپنی زبان کے حق کو قانون اور تشدد کے ذریعے چھین لیا گیا جیسا کہ غلام افریقیوں کی صورت میں ہوا۔”
"میں زیادہ تر روزناموں اور طالب علموں کے جریدوں میں یقین رکھتا ہوں۔ انہوں نے مجھے ایک موقع دیا۔ دیگر تمام ثقافتوں کی طرح جرائد افریقی تحاریر کو پرورش دینے میں بڑا کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔ میں چند کا ذکر کرتا چلوں: میکریری کی بنیاد پر ‘پین پوائنٹ’ عبادان میں ‘دی ہارن’۔ پھر ‘ٹرانزیشن’، ‘کوانی’، ‘افریقن لٹریچر ٹوڈے’، بلیک اورفیوس’، وغیرہ ہیں۔ مُطیری نے گیکُویُو زبان میں بہت سے مصنفین کو ایک پلیٹ فارم دیا ہے۔”
ایسا لگتا ہے کہ افریقی زبانوں میں ابھی بھی کافی کتابیں موجود نہیں ہیں اس لیے لوگ انگریزی اور دیگر یورپی زبانوں میں پڑھنے کے عادی ہیں اور ناشر اپنی مادری زبان میں لکھنے والے لکھاریوں کو ممکنہ طور پر کم موقع دیتے ہیں۔ یہ ایک شیطانی چکر کی طرح لگتا ہے۔
"افریقی زبانوں میں لکھنے کے راستے میں حائل انتہائی پریشان کن رکاوٹوں میں سے ایک اشاعت ہے۔ بمشکل ہی کوئی اشاعتی ادارے افریقی زبانوں کے لیے وقف ہوں گے۔ چنانچہ افریقی زبانوں کے مصنفین بڑی مشکلات کے خلاف لکھ رہے ہیں جیسے کہ کوئی اشاعتی ادارے نہیں، کوئی ریاستی تعاون نہیں اور ان کے خلاف قومی اور بین الاقوامی قوتوں کے ساتھ صف بندی ہے۔ افریقی ادب کو فروغ دینے کے لیے اکثر انعامات دیے جاتے ہیں لیکن اس شرط پر کہ مصنف افریقی زبانوں میں نہ لکھیں۔”
"آج کے دور میں خود اشاعت کرنا ایک حقیقی قوت ہے۔ میں اسے نئی سرحد، ایک غیر دریافت شدہ اندرونی پسماندہ علاقہ کہتا ہوں۔ انٹرنیٹ اس آن لائن اشاعت کو ممکن بناتا ہے۔ اس نے اشاعت کی جگہ کو جمہوری بنایا ہے۔ یوٹیوب بھی ، زبانی اور بصری اظہار کے ایک اہم شعبے میں کردار ادا کرتی ہے۔”
"نئی صنعت و حرفت اور برقی میڈیا وسیع امکانات کو کھولتے ہیں۔ ‘گلوبلیکٹکس’ میں، میں نے بتایا ہے کہ زبان دانی واپس آ رہی ہے۔ میں اسے سائبرالٹی کہتا ہوں۔ انٹرنیٹ کی زبان کو دیکھیں: آنلائن گپ شپ کے مواقع، فیس بک کے دوست اور مختلف گروہ وغیرہ۔ سوشل میڈیا پرانے افواہ کی اشاعت کے طریقے کا نیا برقی ذریعہ ہے جو یہ کام بڑے پیمانے پر کرتا ہے۔ ہم اسے بش ٹیلی گراف یعنی خبریں پھیلانے کا تیز اور غیر رسمی طریقہ کہتے تھے جو انٹرنیٹ سے پہلے کی بات ہے۔ شاید اب ہمیں اسے "برقی افواہ” کہنا چاہیے۔ لیکن افریقہ کے لیے ، حقیقی سرحد افریقی زبان میں لکھنا اور شائع کرنا ہے۔”
"ہمارے معاشرے میں کسی بنیادی تبدیلی کے بغیر آزادی کے حصول جو کہ ایک اہم قدم تھا کا مطلب اکثر نوآبادیاتی نظام کے غیر معمولی پن کو معمول پر لانا تھا۔ مثال کے طور پر ، نوآبادیاتی فوجیں جو نو آبادیاتی مخالف قوم پرستی کی قوتوں کے خلاف لڑتی تھیں وہ قومی فوج اور پولیس فورس بن گئیں۔ نوآبادیاتی نظام کے اس غیر معمولی پن کو معمول بنانا ہی افریقہ کے استحکام اور خوشحالی کے لیے حقیقی خطرہ ہے۔ مثال کے طور پر ، مستند و منظم مغرب کا معیشتوں پر مسلسل کنٹرول اور ملکیت ہونے اور ملکیت نہ ہونے میں ایک بہت بڑا فرق۔ نسلی اہرام جس کا مطلب ہے گورے سب سے اوپر ہیں، وسط میں ایشیائی اور سب سے نیچے افریقی، ایک سماجی اہرام بن گیا، جس کے اوپر بہت کم لوگ، پھر ایک متوسط طبقہ اور سب سے نیچے اکثریت ہے۔ نوجوان لوگ جنہیں براہ راست نوآبادیات کا تجربہ نہیں ہوا، ان کا نقطہ آغاز ہی اس غیر معمولی پن کا معمولی ہونا ہے۔ لیکن مابعد نوآبادیاتی دور کی یہ مضحکہ خیزیاں نوجوانوں کو ایسے سوالات اٹھانے پر مجبور کرتی ہیں جو انہیں ان بعد از نوآبادیاتی مضحکہ خیزیوں کی نوآبادیاتی جڑوں کی طرف واپس لے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر جلاڈا پین افریقی جماعت جس کے تمام ارکان آزادی کے کئی سال بعد پیدا ہوئے۔ لیکن انہوں نے افریقی اشرافیہ کو یورپی زبانوں میں نظریات پیدا کرنے کی مضحکہ خیزی دیکھی ہے۔ ایک ایسا براعظم جہاں 90 فیصد سے زیادہ آبادی افریقی زبانیں بولتی ہے۔ جلاڈا پین افریقی جماعت نے اس سلسلے میں کچھ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے افریقی زبانوں کے مابین ترجمے کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ وہ افریقہ اور دنیا بھر میں 60 سے زائد زبانوں میں ترجمے کے مستقیم انقلاب کے پیچھے کی طاقت ہیں۔”
"عملی طور پر اب تک افریقہ سے شائع شدہ تمام کام، یہاں تک کہ نوجوان مصنفین جیسے چیمامنڈا نگوزی اڈیچی اور ستسی ڈینگرمبا نے ایسے کام تخلیق کیے ہیں جو کہ بعد از نوآبادیاتی دور میں نوآبادیات کو شاندار طریقے سے تقسیم کرتے ہیں۔ پیٹر ابراہمس، اوسمان سیمبین، فرڈینینڈ اویونو، مونگو بیٹی، چینوا اچیبی، وول سوئینکا، ان مصنفین نے ایسی تخلیقات تخلیق کی ہیں جو کلاسیکل نوآبادیات کو اس کی اصل سے جدا کرتی ہیں۔”
"میں نے حال ہی میں ایک نظم لکھی ہے۔ یہ ایک قسم کی تعریفی نظم ہے جو میں نے اپنی بیوی نجیری کے اروائن کے باغ پرلکھی ہے جسے "مگنڈا یوریا انجی” ("دوسرا باغ”) کہا جاتا ہے۔ یہ گیکُویُو میں ہے لیکن یہ ساموئی ناول نگار البرٹ وینڈٹ کے ساتھ ہمکلام تھی جس نے نیوزی لینڈ میں اپنی بیوی کے باغ پر ایک نظم لکھی تھی۔ ہم نے وہ شاعرانہ تبادلہ ہوائی میں ایک ادبی محفل میں کیا۔ بعد میں دونوں نظمیں ہوائی ریویو کے ایک خصوصی شمارے میں شائع کی گئیں جو "کال اور رسپانس” کے لیے وقف ہے۔ لیکن میری کافی لمبی نظم مجھے اروائن سے ہوائی سے کینیا اور مقامی امریکیوں کی تاریخ تک لے گئی۔ مجھے یہ پسند آیا کہ گیکُویُو میں لکھی ایک نظم ان مناظر اور تاریخوں کو جوڑتی ہے۔”
مجھے بہت خوشی ہے کہ وہ اپنی پہچان بنا رہے ہیں۔ میں نے کبھی انہیں مصنف بننے کے لیے مجبور نہیں کیا۔ قارئین، ہاں لیکن مصنفین نہیں۔ میں چاہتا تھا کہ وہ جو بھی انتخاب کریں، بہترین کام کریں۔ تاہم، اب جب کہ وہ اپنے طور پر لکھاری ہیں، یہ خوشی کی بات ہے کہ جب کبھی ممکن ہوا ہم ایک ساتھ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں جیسا کہ ہم نے جمیکا ، فلوریڈا ، لاس اینجلس اور لندن میں کیا ہے۔ لیکن اس سب کا سہرا ان کی والدہ کے سر ہے۔ مجھے نایاب تعلیمی مواقع کی تلاش میں دور رہنا پڑا۔ میں جیل اور جلاوطنی میں رہا ہوں میں نے زندگی کے لیے بہت کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے میری ادبی سرگرمیوں کے نتائج بھگتے ہیں۔ کینیا میں میرے گھر پر اکثر چھاپے مارے جاتے اور جھوٹی افواہوں کے بعد میرے گھر والوں سے پوچھ گچھ کی جاتی کہ میں خفیہ طور پر جلاوطنی سے واپس آیا ہوں اور گھر میں چھپا ہوا ہوں۔ وہ مجھے بتاتے ہیں کہ اس وقت کے آمر حکمران موئی کے حکم پر میرے پتلے جلائے جانے یا سمندر میں پھینکے جانے کی ٹیلی ویژن تصاویر دیکھنا کتنا خوفناک تھا۔ ان کی والدہ نیامبورا کو انہیں سنبھالنا پڑا۔ وہ گزر چکی ہے لیکن اس کی روح ان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہوگی اور شاید میری ماں کی طرح ان سے پوچھ رہی ہوگی "کیا یہ بہترین ہے جو آپ کر سکتے ہیں؟” وہ شاید اسے بتاتے ہوں گے "مشکلات کے باوجود ہم نے اپنی بہترین کوشش کی ہے اور ہم بہترین کے لیے کوشش کرتے رہتے ہیں۔”

افشاں نور اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والی ایک باصلاحیت مترجم، تخلیق کار، اور تجربہ کار استاد ہیں۔ انہیں انگریزی، اسلامیات، فنونِ لطیفہ اور بچوں کے ادب کی تدریس کا پندرہ سالہ تجربہ حاصل ہے۔ مختلف تعلیمی اداروں میں بطور ESL ٹرینر، سائنس اور آرٹ کی معلمہ خدمات انجام دے چکی ہیں۔
ادبی ترجمے کے میدان میں ان کی نمایاں کاوشوں میں "کوسوو – ایک تعارف” (ایڈیشنل آئی جی پنجاب کی تصنیف)، نوبیل انعام یافتہ عبدالرزاق گرنا کے ناول "Paradise” کا اردو ترجمہ، اور ایوو آندریچ، انتون چیخوف اور دیگر مشہور مصنفین کے کئی افسانوں کے انگریزی سے اردو تراجم شامل ہیں۔
اس وقت وہ دارالمصحف (بچوں کا کتاب گھر) میں بطور پروف ریڈر اور سب ایڈیٹر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ افشاں نور نظم و نثر دونوں میں بچوں اور بڑوں کے لیے لکھتی ہیں اور اردو ادب میں نمایاں خدمات پر کئی اعزازات حاصل کر چکی ہیں۔
****




