گرین انیشیٹو اور سندھ / علی انوار

پاکستان میں پانی کی تقسیم کا انحصار انڈس ریور سسٹم پر ہے، اور اس کے لیے 1991 کا پانی کی تقسیم کا معاہدہ بنیادی دستاویز ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے بعد پاکستان کے تمام دریا ملکی استعمال میں آئے، لیکن اس کے باوجود صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم اکثر تنازعہ کا شکار رہتی ہے۔دوسری جانب گرین پاکستان میں پانی کی قلت اور ماحولیاتی چیلنجز کے پیش نظر "گرین انیشیٹو” کے تحت سندھ میں نہریں نکالنے کا منصوبہ ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد پانی کی بہتر تقسیم، زراعت کی ترقی اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنا ہے۔ تاہم، اس پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے، کیونکہ اس کے اثرات سندھ کی زراعت، پانی کی دستیابی، اور قدرتی ماحول پر مرتب ہو سکتے ہیں اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے اس کیخلاف احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے اور اس مجوزہ نہری منصوبے کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔
بنیادی طور پرگرین پاکستان انیشیٹو کے تحت چولستان، تھل اور سندھ کے دیگر بنجر علاقوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جن میں 211 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی چولستان کنال بھی شامل ہے جس کا افتتاح وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ساتھ مل کر کیا تھا۔یہ 176 کلومیٹر طویل نہر سلیمانکی ہیڈورکس سے فورٹ عباس تک تعمیر کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ دریائے ستلج سے پانی لے گی، نہ کہ دریائے سندھ سے، اس لیے سندھ کے پانی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن اعتراض کرنے والے کہہ رہے ہیں کہ ستلج تو پہلے ہی بھارت کی آبی جارحیت کی وجہ سے سوکھا پڑا ہے وہ کیسے پانی دے گا اس لئے چولستان کنال کو بھی سندھ سے ہی پانی دیا جائے گا۔
پیپلز پارٹی نے دریائے سندھ سے 6 نئی نہریں نکالنے کے فیصلے کو ارسا ایکٹ اور 1991ء کے پانی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔گرین انیشیٹو منصوبے کی بات کریں تو یقینا پاکستان کی زراعت میں یہ انقلابی قدم ہے جس میں پاک فوج بھی حکومت کے شانہ بشانہ پاکستان کی بہتری کیلئے پرعزم ہے۔اس منصوبے کا مقصد جدید کارپوریٹ فارمنگ کے ساتھ ساتھ چھوٹے کسانوں کی مدد کرنا ہے، جو پاکستان کے زرعی شعبے کا 95 فیصد ہیں۔گرین انیشیٹو کے تحت اب تک تقریبا ایک ملین ایکڑ اراضی الاٹ کی جا چکی ہے، جس میں پنجاب میں 8 لاکھ ایکڑ سے زائد ، سندھ میں تقریبا پچاس ہزار ایکڑ، بلوچستان میں چالیس ہزار ایکڑ سے زائد اور خیبرپختونخوا میں ستر ہزار ایکڑ سے زائد اراضی شامل ہے جسے اس منصوبے کے تحت گرین بنایا جائے گا۔ منصوبے کے تحت بنجر پڑی زمینوں پر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے فارمنگ کا عمل شروع بھی ہو چکا ہے۔ اب چونکہ بنجر زمینوں کیلئے پانی کا حصول انتہائی ضروری ہے تو اس کیلئے تمام صوبوں کو اعتماد میں لے کر پانی کی تقسیم کے معاملات طے کیے جائیں تاکہ سندھ کے حقوق متاثر نہ ہوں۔
نہری نظام کو بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، جیسے ڈرپ ایریگیشن اور لائنڈ نہریں، متعارف کرائی جائیں تاکہ پانی کا ضیاع کم ہو۔گرین انیشیٹو کے تحت سندھ میں نہریں نکالنے کا منصوبہ ایک مثبت پیش رفت ہو سکتا ہے، لیکن اس پر عملدرآمد سے پہلے تمام ماحولیاتی، زرعی اور عوامی خدشات کو دور کرنا ضروری ہے۔ اگر اس منصوبے کو انصاف اور شفافیت کے ساتھ لاگو کیا جائے تو یہ سندھ اور پورے پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے اور یہ منصوبہ پاکستان کی تقدیر بھی بدل سکتا ہے اس لئے اس پر تمام سیاسی جماعتوں کو اختلاف بالائے طاق رکھتے ہوئے اتفاق رائے پیدا کرنا ہو گا تا کہ گرین پاکستان کا منصوبہ اعتراضات اور اختلاف کی نذر ہونے کی بجائے ملکی ترقی کا ضامن بنے۔



