اُردو ادباُردو شاعریغزل
غزل / اس شہرِ تذبذب کی کرامت ہے کہ کیا ہے؟ / شہزین فراز
غزل
اس شہرِ تذبذب کی کرامت ہے کہ کیا ہے؟
ہر لمحہ تسلسل سے یہ دل ڈوب رہا ہے
اب تیری چلی ہے تو کبھی میری چلے گی
جو تیرا خدا ہے، وہی میرا بھی خدا ہے
ساحل سے میں نظروں کو چرانے میں لگی ہوں
لیکن مرے اندر کوئی طوفان بپا ہے
تم اتنے ہنرمند ہو،کچھ کام میں لے لو
دل جسم کے گودام میں بیکار پڑا ہے
میں وقتِ قیامت کا کروں کیسے تصور
اندر کی قیامت سے ہی جی کانپ رہا ہے
آشفتہ سری دیکھ، پہاڑوں کو کہوں گُل
جھرنوں کی صداؤں کو سمجھتی ہوں، عزا ہے
الزام دھروں کس پہ میں بربادیٔ دل کا
ہمزاد بھی اب کے مرا زنجیر بہ پا ہے
ممکن ہے مرا نام بھی اب بھول چکا ہو
دل کھوج میں جس شخص کی بدنام ہوا ہے
کچھ عزت و کردار سے بڑھ کر نہیں مجھ کو
اس طشتِ جواہر پہ بھی اک سانپ کھڑا ہے
آئینہ بھی پہچان سے عاری ہے وفا اب
تُو نے جو عداوت کا ثمر پھانک لیا ہے




