
۲۵-۴-۱۹۸۰
السلام علیکم،
میری پیاری شبو ہم سب خیریت سے ہیں اور آپ سب کی خیریت کے لیے نیک مطلوب ہیں۔ کب ملنے آ رہی ہو؟ تم نے بتایا ہی نہیں، حالانکہ میں نے پچھلے خط میں بھی پوچھا تھا۔ اس بار آنا تو زیادہ دنوں کے لیے آنا۔ پچھلی بار تم دس دن کے لیے آئی تھی۔ لیکن مخدوم بھائی تمہیں ہفتے بعد ہی لینے کے لیے آ گئے تھے۔ مجھے ذرا بھی اچھا نہیں لگا تھا، بے شک مخدوم بھائی سے بھی کہہ دینا۔ اب کی بار آؤ تو کم از کم پندرہ دنوں کے لیے تو آنا۔ تمہیں یاد ہے؟ ہم دونوں نے مل کر مرغیوں کا دڑبہ بنانا شروع کیا تھا۔ وہ ویسے کا ویسے ہی ادھورا پڑا ہے۔ تمہیں جلدی واپس جانا جو پڑ گیا تھا۔ مجھ اکیلی سے نہیں بنتا۔ تمہارے انتظار میں مرغی بھی انڈوں پر نہیں بٹھائی۔ اگلے مہینے بڑے تایا ابا تمہاری طرف آ رہے ہیں۔ تمہاری عیدی میں انہیں کے ہاتھ بھیج رہی ہوں۔ اس بار سوئیاں میں نے گھر میں خود بٹائیں ہیں۔ سویوں کی بھنائی کروا کر وہ بھی عیدی کے ساتھ بھیج رہی ہوں۔ مہندی، دیسی گھی سے بنائی سوجی کی پنجیری اور ایک سوٹ تمہارا ہے اور ایک سوٹ مخدوم بھائی کے لیے ہے۔ ساڑھے تین سو روپیوں میں سے پچاس روپے اپنی کام والی آیا کو اپنی طرف سے عیدی دے دینا۔ دو سو روپے تمہارے ہیں اور سو روپے میرے پیارے بھانجے ارسلان کے لیے ہیں۔ ہماری پڑوس والی آپا کوثر کے گھر ٹیلی فون لگ گیا ہے۔ اگر کبھی کوئی ضروری بات کرنی ہو تو تم وہاں ٹیلی فون کر لیا کرو وہ بچے کے ہاتھ بلا لیا کرتی ہیں۔ ٹیلی فون سننے کے پیسے نہیں لگتے اس لیے آپا کوثر نے خود مجھ سے کہا تھا۔ خط کے آخر میں نمبر لکھ رہی ہوں۔ میں نے تمہارے بھائی سے کہا ہے، ہم بھی ٹیلی فون لگوانے کے لیے درخواست دے رہے ہیں۔ وہ جو تمہاری لاڈلی بکری ہے ناں! اس نے بچہ دیا ہے۔ اگلے سال بڑی عید تک قربانی کے لائق ہو جائے گا، شکر ہے اللہ کا۔ میں امی سے مخدوم بھائی کو کہلواؤں گی کہ تم اور ارسلان بڑی عید منانے ہماری طرف آ جانا۔ امی بھی آ رہی ہیں۔ ابو جان کے چلے جانے کے بعد امی اکیلی پڑ گئی ہیں۔ میں نے سو بار امی سے کہا ہے کہ میری طرف آ جائیں۔ لیکن وہ مانتیں ہی نہیں ہیں۔ بھوجائی کا تو تمہیں پتہ ہی ہے۔ لیکن امی کہتی ہیں کہ صفیہ میرا بہت خیال رکھتی ہے۔ مجھے تو ایسا نہیں لگتا۔ جب بڑی عید پر ہم سب اکٹھے ہوں گے تو تم بھی امی سے کہنا، شاید وہ مان جائیں۔ میری طرف سے سب کو سلام کہنا اور ارسلان کو پیار دینا۔ خط پڑھتے وقت جو بھی آس پاس ہو بڑوں کو میرا سلام اور بچوں کو پیار۔ خط کا جواب جلدی دیا کرو۔ یہ آپا کوثر کا ٹیلی فون نمبر ہے۔ ۰۴۱۳۰۸۳۸ اپنا بہت سارا خیال رکھنا۔
فقط تمہاری باجی
شمسہ کنول




