نظم

غیبِ غیب / اویس ضمؔیر

غیبِ غیب

 

تھر کی دلکش ہے شب

ریت ٹھنڈی ہے لیکن

زمیں پر بچھی

دُہری رَلّی مناسب رہے گی

الاؤ کی حدّت

بھلی لگ رہی ہے

مِرے سامنے

کہکشاں کا دھواں قوس سے پھوٹ کر

آسماں چیرتا جا رہا ہے

کبھی ٹوٹا تارا کوئی

آتشی خط ذرا دیر کو کھینچتا ہے

ہَوا دوش پر دُور پچّھم سے

سندھو کی بھینی مہک لا رہی ہے 

موئِن جو دَڑو سے ہری یُوپیا 

کارواں کوئی جاتا ہے شاید

کہ آواز جس سے کسی مُطرِبہ کی حزیں 

گھٹتی بڑھتی چلی آ رہی ہے

کہیں پاس کیکر سے جھینگر  

بھی گاتا ہے سنگت میں وقتاً فوقتاً

فِضا روح پرور

سماں خواب آور

یوں لگتا ہے جیسے۔۔۔

پلک کے جھپکنے پہ مجھ کو

زمان و مکاں سے کہیں

ماورا نیند لے جائے گی !

 

دِھیرے دِھیرے جو آنکھیں کُھلیں۔۔۔

تو عجب اجنبی

سے مُکعّب میں پایا ہے خود کو

مجھے خود کو پہچاننا بھی

کٹِھن لگ رہا ہے

نجانے کہاں اور کب ہوں ؟

شبِستان ہے۔۔۔ یا کہ زنداں کوئی

جسم کے درد سے۔۔۔

ایسا لگتا ہے مَیں شب گزیدہ ہوں شاید 

مگر یاد آتا نہیں رات کیسے کٹی

میری بوجھل طبیعت۔۔۔ 

کسی خواب پیمائی کا ہے نتیجہ اگر

تو مِرے ذہن سے

خواب کا عکس آخر کہاں کھو گیا ہے ؟

ہَوا گرم ہے 

اور ناچار پنکھا فقط گھومتا ہے

یہ دیواریں لگتا ہے مجھ پر ابھی آ پڑیں گی

یہ دَر کس جہاں کے خرابے میں جائے ؟

جھروکا کہاں کے مناظر دِکھائے ؟ 

یہ آوازے کیسے ہیں باہر گلی میں 

مِرا اندروں جو کہ دہلا رہے ہیں

دَر انداز پردے کی جِھریوں سے ہوتے۔۔۔

ہیں کس مہرِ نا آشنا کے تراشے؟

یہ ماحول پہچاننے میں مجھے

وقت کیوں لگ رہا ہے ؟

خدایا !

یہ سیّالِ گم گشتگی ہے عجب

جس میں غرقاب ہوں

اور جس کے سہارے نکل پاؤں مَیں

ہے وہ ادراک کی ڈور۔۔۔

آخر کہاں؟

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x