غزل
غزل/آگہی روح کو کھرچتی ہے/ثقلین جعفری

غزل
ثقلین جعفری
فکر دیمک کا کام کرتی ہے
آگہی روح کو کھرچتی ہے
جیسے ساغر سے مے چھلکتی ہے
برق بادل سے یوں نکلتی ہے
یہ کرشمہ ہے دست۔ ساقی کا
روح مے نوش کی مچلتی ہے
گفتگو تو ملاحظہ کیجے
آگ جیسے زباں اگلتی ہے
کام رہ جاتے ہیں دھرے کے دھرے
عمر تیزی سے یوں گزرتی ہے
جب بھی ہوتا ہے رات دن کا ملاپ
درمیاں شام ہی نکلتی ہے
خواہشوں کے سراب کا ہے زیاں
زندگی ہاتھ سے پھسلتی ہے
ایک جھونکا ہی موت ہے، بیشک
لو دئیے کی بہت تھرکتی ہے
کتنی، ثقلین، سر پھری ہے وہ
مان جاتی ہے پھر مکرتی ہے




