اُردو ادباُردو شاعریغزل
غزل / ستارہ جل بجھے گا اور زمیں کا پیرہن صد چاک ہو گا / عابد رضا
غزل
ستارہ جل بجھے گا اور زمیں کا پیرہن صد چاک ہو گا
اولمپس پہ قدیمی دیوتا مبہوت ہوں گے ، آسماں نمناک ہوگا
صحیفوں میں یہی مرقوم ہے بس ہجرتِ اول سے آگے
نشیبِ خاک سے ابھرے تو اگلا معرکہ شاید سرِ افلاک ہو گا
خلائی دشت کی ان گھاٹیوں میں گمشدہ سیارچے کو
غبارِ نارسائی میں فقط حاصل خس و خاشاک ہو گا
نگاہِ شوق میں روشن کئی نوری برس کی دوریوں سے
وہ اک بے جسم ذرہ روشنی کا کس قدر بے باک ہو گا
مشیںنی شاعری کی ضو ہےمصنوعی ذہانت کے چراغوں سے
مشیں زادے کا قصہ عشق میں جذب و جنوں سے پاک ہوگا
عقیدت کی دکانوں سے پرے ، بازارِ آئیندہ میں شاید
پرندوں اور فرشتوں کے پروں سے جینیاتی امر کا ادراک ہوگا
طلسمِ ظاہری کی سرحدوں سے شہرِ باطن کا منادی چیختا ہو گا
مسافر اب نہ ہوں غافل کہ آگے راستہ چالاک ہو گا




