مخصوص نشستوں کا فیصلہ تحریک انصاف کہاں کھڑی ہے/ میاں حبیب

بہت کچھ لکھنے کو دل کرتا ہے لیکن پر جلتے ہیں۔ جادو نگری میں جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ تحریک انصاف والوں کو حقائق تسلیم کر لینے چاہیں کہ ان کی دال نہیں گل رہی۔ ابھی تک تحریک انصاف سے وابستہ لوگوں کو بڑی امیدیں تھیں جو ایک ایک کر کے دم توڑتی جا رہی ہیں۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کو بڑی امید تھی کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی جلد ممکن ہو جائے گی لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ، سوچیں وی ناں۔ جو صورتحال بنتی جا رہی ہے اس میں تحریک انصاف کے قابل قبول ہونے کی گنجائش نظر نہیں آ رہی۔ ویسے تو یہاں کوئی بات حرف آخر نہیں صبح سو کر اٹھیں تو یکسر منظر نامہ تبدیل ہو جاتا ہے لیکن جو چیزیں اس وقت منظر نامے پر نظر آ رہی ہیں اس میں تحریک انصاف کو سبق سکھانے کی مشق ابھی پوری نہیں ہوئی۔ جو کچھ کر سکتا ہے وہ جیل میں ہے اور جن کے ہتھ پلے ککھ نہیں، ان کی آنیاں جانیاں دیکھنے والی ہیں۔ بہت سارے لوگ کمپرومائز ہو چکے ہیں کیونکہ ان کی بقا اسی میں ہے کہ وہ تیل دیکھیں اور تیل کی دھار دیکھیں اور تیل کی دھار دیکھ کر چلیں ورنہ ایسے تلکیں گے کہ نشان بھی نہیں ملے گا۔مخصوص نشستوں پر فیصلے نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے۔ تحریک انصاف والوں کے لیے پیغام ہے کہ اب بھی وقت ہے، جو کہا جائے اس کے مطابق کریں ورنہ پھر تیار رہیں۔ مخصوص نشستوں کے فیصلہ سے حکمران اتحاد کو جو بونس ملا ہے اس نے تو واقعی گلیاں سنجیاں کر دی ہیں اور اب مرزا یار کی مرضی ہے وہ جو جی چاہے کرے۔ کئی لوگوں کی لاٹریاں نکل آئی ہیں، کئی گھر بیٹھے ایم این اے، ایم پی اے بن گئے ہیں۔ ساتھ ہی لمبی چوڑی دیہاڑیاں علحیدہ لگ گئی ہیں۔ ان کو سال سال کی تنخواہوں کا انعام علحیدہ سے ملے گا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی ایک طرف حکومتی اتحادیوں کو اضافی نشستیں ملنے سے وفاق اور پنجاب میں حکومت کو دوتہائی اکثریت حاصل ہو چکی ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے اراکین کے سروں پر تلوار لٹک رہی ہے کہ 9مئی کے واقعات میں نہ جانے کس کی باری آ جائے اور کون سزا یافتہ ہو کر نااہل ہو جائے۔ بچت صرف ایک صورت میں ان کی ہو سکتی ہے جو حالات کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیں گے ورنہ پھر آپ کو پتہ ہی ہے۔ تحریک انصاف کا آخری سہارا خیبر پختونخوا کی حکومت تھی۔ یہ حکومت بھی اسی صورت چلے گی اگر وہ تابعدار بن کر قومی مفادات کے تابع رہے گی ورنہ بہت سارے لوگ نااہل ہو سکتے ہیں۔ فرض کریں اگر بڑی تعداد نااہل ہو جائے تو اکثریت کسی کے پاس نہیں رہے گی ایسی صورت میں کچھ بھی ہو سکتا ہے لہذا حالات اس ڈگر پر پہنچ گئے ہیں کہ یا تو بانی پی ٹی آئی مکمل خاموشی اختیار کر کے وقت گزاریں اور جو بچی کھچی قیادت ہے انھیں کہا جائے کہ آپ اپنی ضرورتوں کے مطابق فیصلے کریں یا پھر عشق کے نئے امتحانات کے لیے تیار رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اب تحریک انصاف کو اس حد تک قابو کر لیا گیا ہے کہ کوئی بہت بڑا موثر احتجاج کرنا ممکن نہیں رہا۔ ورکر صعوبتیں برداشت کر کر کے تھک چکے ہیں کوئی ایسی قیادت موجود نہیں جو لوگوں کو میدان میں لانے کی سکت رکھتی ہو۔ تحریک انصاف کو اندازہ تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے لیکن اس سے بچنے کی کوشش نہیں کی گئی چاہیے تو یہ تھا کہ کوئی درمیانی راہ نکالی جاتی۔ اور کچھ نہیں کیا جا سکتا تھا تو کم ازکم کوئی تاخیری حربہ استعمال کر کے وقت تو ٹالا جا سکتا تھا۔ کہتے ہیں جنگ میں کچھ لوگوں کے رویے بھی تلخیوں کا سبب بنے ہیں راقم نے عید الضحٰی پر پی ٹی آئی کے رہنما معروف وکیل حامد خان کا انٹرویو کیا تو انھوں نے اس خدشہ کا اظہار کیا تھا کہ مخصوص نشستیں حکومت کو دی جا رہی ہیں۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ ہر جگہ حکومت کو اکثریت حاصل ہے پھر اضافی مخصوص نشستیں کیونکر حکومت کو دی جائیں گی تو انھوں نے بتایا کہ حکومت کو دوتہائی اکثریت دے کر 27 ویں ترمیم لائی جائے گی۔ انکے بقول یہ ترمیم بھی عدلیہ کے بارے میں ہو گی۔ اسکے علاوہ کچھ اختیارات میں ردوبدل بھی کیا جا سکتا ہے ابھی تو 27 ویں ترمیم کی کوئی بات منظر عام پر نہیں آئی لیکن اب حکومت اس پوزیشن میں آچکی ہے کہ وہ جو جی چاہے کرے۔ اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں نئی پیدا شدہ صورتحال جمہوریت اور سیاست کا ایک نیا امتحان ہے جس میں بہرحال فیل سیاستدانوں نے ہی ہونا ہے۔ ویسے بھی لگتا ہے سیاستدان سرینڈر کر چکے ہیں۔




