خبریں

افغانستان: زلزلے سے اموات میں اضافہ، پاکستان کا امداد بھیجنے کا اعلان


افغانستان میں ہفتہ سات اکتوبر کو آنے والے 6.3 شدت کے زلزلے میں پیر کی صبح تک افغان طالبان حکومت کے مطابق اموات کی تعداد 2400 سے تجاوز کر گئی ہیں۔

خبررساں ادارے روئٹرز نے افغان طالبان انتظامیہ کے حوالے سے کہا ہے کہ دو ہزار سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

پاکستان میں  قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے نیشنل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے زلزلے سے متاثرہ افغانستان میں متاثرین کے لیے کھانے پینے کی اشیا، ادویات، خیمے، کمبل اور سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

این ڈی ایم اے نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ہدایت پر افغانستان کی صورت حال اور امداد کی فراہم پر اتوار کو ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا۔

اس اجلاس میں افغانستان میں پاکستان کے سفیر عبید الرحمٰن نظامانی، وزارت خارجہ اور دیگر محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شرکا کو ہرات، افغانستان کی صورت حال اور افغانستان میں زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان فوری طور پر بھیجنے سے متعلق فیصلوں سے آگاہ کیا گیا۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے سردی سے بچانے والے پانچ ہزار خیمے، 15 ہزار رضائیاں کے علاوہ راشن کے پانچ ہزار تھیلے، ادویات اور دیگر ضروری سامنا بذریعہ ہوائی جہاز بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کو بھی شارٹ لسٹ کیا ہے۔

افغانستان میں آنے والا یہ زلزلہ اس سال دنیا کے مہلک ترین زلزلوں میں سے ایک تھا۔ فروری میں ترکی اور شام میں زلزلے سے ایک اندازے کے مطابق 50 ہزار اموات ہوئی تھیں۔

افغانستان کے ڈیزاسٹر منیجمنٹ کی وزارت کے ترجمان جانان سائق نے طلوع نیوز کو بتایا کہ ہرات میں آنے والے زلزلے سے ہونے والی اموات کی تعداد 2400  سے تجاوز کر گئی ہے اور دو ہزار سے زائد زخمی ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’ایک ہزار 320 مکانات تباہ ہوئے ہیں۔ زلزلے کے زیادہ تر متاثرین ہرات کے ضلع زندہ جان کے 13 دیہات میں تھے۔‘

ترجمان نے کہا کہ زلزلے سے مویشیوں کا جانی نقصان بھی ہوا لیکن جاری چیلنجز کی وجہ سے درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button