اُردو ادبافسانہ

کالی چادر/ نازیہ آصف

کھٹ۔ ۔کھٹ ۔ ۔ ۔کھٹ زور زور سے ٹوکے کے وار کرتے ہوئے، مکھا قصائ اپنے سامنے لکڑی کی مڈھی پہ رکھے بوڑھی بھینس کے پائے کا قیمہ بنا چکا تھا ۔ مکھے کو اس بات کا احساس تب ہوا جب صرافہ بازار کے صدر اورنگزیب صاحب نے اسے پکارا "اوئے مکھے پائے کا تو ستیاناس کر دیا ہے "۔
مکھے نے فورا خود کو سنبھالا ” او سیٹھ صاھب! آپ معافی چاہتا ہوں ،کیا چاہیے آپ کو "؟۔ "مجھے تو پانچ کلو پائے ہی چاہیے ہیں مگر تو اپنا خیال رکھ، آجکل تو کچھ غیر حاضر دماغ لگ رہا ہے” ۔
مکھا قصائ زرا کسمسایا اور تیزی سے صاف کیے گئے پائیوں سے کپڑا ہٹا کر انھیں کنڈے پہ رکھنے لگا۔ مکھے کی دکان بازار کے موڑ پہ تھی جہاں ایک طرف صرافہ بازار تھا تو دوسری طرف کپڑے اور کاسمیٹکس کی دکانیں شروع ہو جاتی تھیں۔ دکان کیا تھی اس کا گھر بھی یہی تھا۔ اس کا گاوں شہر سے کافی دور دریا کنارے تھا۔ جہاں شام کے بعد کسی سواری کا ملنا بہت مشکل ہوتا تھا۔ اس لیے وہ مہینے میں ایک دو بار ہی اپنے گاوں جاتا۔ اس کی دکان پہ سری پائے، گردے، کپورے، کلیجی، قیمہ ہر وقت دستیاب رہتا۔ پورا صرافہ بازار اس کے گوشت کا دلداہ تھا ۔ جب سب دکانیں سمیٹ لی جاتیں۔ بازار سنسان ہو جاتا تو پانچ چھ کتوں کی ٹولی اس کی دکان کے آگے آ براجمان ہوتی ان کتوں میں ایک مادہ کتا بھی تھی ۔جو کالی سیاہ رنگت اور لال انگارہ آنکھوں کے ساتھ بہت خوبصورت دکھتی تھی۔ مکھے کو یہ بہت بھائ اور اس نے اس کا نام لالی رکھ دیا۔
مکھا دن بھر کے سنبھالے ہوئے چھیچھڑے ان کے آگے ڈال دیتا جس میں سے وہ مقدور بھر اپنا حصہ لیتے اور ادھر ادھر بیٹھ کر چبانے لگ جاتے۔ کچھ کتے تو اتنے ہڈ حرام ہو چکے تھے کہ دن بھر اس کے گوشت کے پھٹے کے نیچے پڑے رہتے ۔۔مگر کچھ دن یا رات کے ایک مخصوص وقت میں ہی آتے۔ اس کے بعد مکھا دکان سمیٹتا اور اوپر جا کر سو جاتا۔
ادھر گاوں میں مکھے کی ماں اپنی بیوہ بیٹی کے ساتھ رہتی تھی ،جبکہ اس کی بیوی فوزیہ اس کے چار بچوں سمیت الگ گھر میں رہتی تھی ۔ ساس بہو کی آئے روز کی کھٹ پٹ سے تنگ آ کر مکھے نے پانچ مرلے کا یہ گھر اپنے چوتھے بچے کی پیدائش پہ لے کر دیا تھا ۔ مکھے کی اس بیٹے سے بڑی تین بیٹیاں بھی تھیں۔ چار بچوں کی ماں فوزیہ عمر کے معاملے میں بھی کافی سفاک واقع ہوئ تھی ، مگر اس نے ان حسن کے چوروں کو عمر چور بھی بنا ڈالا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ چالیس کی ہو کر بھی پچیس کی لگتی تھی۔
گاوں کا ماحول تھا ۔ جہاں کہنے کو تو سب سادگی پسند تھے۔ فیشن کا رواج بالکل بھی نہ تھا، مگر اندر کھاتے سب جوان ، بوڑھیاں فیشن کرنا چاہتی تھیں۔ وہ کیا کہتے ہیں ناں کہ ” کھیلنا ہے نہ کھیلنے دینا ہے” کے مصداق، کسی خاتون نے زرا سا بھی رنگ ڈھنگ نکالا چہ میگوئیاں شروع ہو جاتیں
فوزیہ اس سلسلے میں شروع ہی سے بدنام ہو گئ تھی۔ وہ گھر کے کام کاج کرتی، جھاڑو پوچا کرتی، تب بھی وہ ہونٹوں پہ لپ سٹک کی موٹی تہہ جمائے رکھتی تھی۔ وقت بے وقت شیشے میں خود کو دیکھ کر مسکراتی ۔تنگ قمیض چھوٹی قمیض ، لمبے چاک، چھوٹے چھوٹے اور تنگ موری کے پائجامے، جو دیکھنے والوں کے لیے سانس لینا مشکل کر دیتے ، مگر اسے یہ سب چیزیں بہت پسند تھیں۔ بڑی بوڑھیوں کو تو فوزیہ کبھی ایک آنکھ بھی نہ بھائ تھی۔
محلے کی سب بہوئیں بیٹیاں اسے دل ہی دل میں حسرت سے دیکھتیں، کبھی کبھار چوری چھپے ہلکی سی لپ سٹک لگا کر شیشہ دیکھتیں، مگر پھر فوری صاف کر دیتیں۔ کیونکہ انھیں یہ سب اپنے میاں کے گھر جا کر کرنا تھا۔ یہاں گاوں بھر کی بزرگ خواتین کی نظر میں تو وہی بہو معتبر تھی جو خاوند کے گھر آنے پر بھی چادر اچھی طرح لپیٹ کر لیتی تھی، مگر فوزیہ کے تو دیدوں میں حیا ہی نہ تھی ۔
فوزیہ کے بارے میں سب خواتین اپنے مردوں سے یوں چہ مگوئیاں کر کے دل کو تسلی دیتیں کہ ” چھنال جاڑے کی وبا ہے، جیسے لگ جائے وہ مرے نہ جیے ، مردود ! اپنے ساتھ دس مردوں کو جہنم میں لے کر جائے گی” ۔ مرد زبان سے بیویوں کی تائید کیے جاتے مگر ان کے دل اسی وبا میں مبتلا ہو کر مرنے کو چاہتا۔
فوزیہ الگ گھر پا کر بہت خوش تھی۔ اسے تو گویا جنت مل گئ تھی۔ سخت گرمی کے دنوں میں لون کے جوڑوں کے ساتھ ریشمی سرسراتا دوپٹہ لیے گلی میں جدھر سے گزرتی خوشبو سے لبریز ہوا کے جھونکے دیر تک گلی میں اٹھکیلیاں کرتےاور گلی کے لونڈے لپاڑے اس کے گزر جانے کے بعد بھی آنکھیں بند کیے ناک کھول کھول کر یوں سانس لیتے، جیسے دمے کے مریضوں کو شفا مل رہی ہو ۔ کئ بار تو پیچھے سے صدا بھی سنائ دیتی "چاند تاروں کی روانی تم ہو۔ ۔”۔

مکھا بھی بیوی کا تروتازہ چہرہ دیکھ کر بہت خوش ہوتا۔ اسے احساس ہونے لگتا کہ اگر وہ چند سال پہلے فوزیہ کی یہ خواہش پوری کر دیتا تو وہ بھی کتنی ارمان بھری زندگی گزار سکتا تھا ۔ ساتھ ہی اسے خیال آتا کہ ابھی بھی کچھ نہی بگڑا۔ میں جوان ہوں، دو کلو ران کے گوشت سے تو میں اکیلا نبٹ لوں کسی کو ہاتھ بھی نہ لگانے دوں۔ کیا ہوا فوزیہ میرے سے کم عمر ہے تو، میں بھی شیہنہ جوان ہوں۔
برسات کی رت آئی ۔ کھیتوں میں حد نگاہ سبزہ ہی سبزہ پھوٹ پڑا۔ دل مچلنے لگے، بارش ہوتی تو گھروں سے مختلف پکوانوں کی خوشبوئیں سر چڑھ کر بولنے لگتیں ۔مگر فوزیہ کا اس میں بھی انوکھا ہی رنگ تھا۔ سڑک کنارے واقع پیزا سنٹر کا مالک خود پیزا سپلائ کرنے آتا ۔ تو فوزیہ پیزا ہاتھ میں پکڑے پکڑے دو منٹ میں کوئ چار سو باتیں اس سے کر لیتی ۔جنھیں اگلے کئ روز تک پیزا سنٹر کا مالک اپنے کھوکھے پہ بیٹھا ڈی کوڈ کرتا رہتا۔ درزی کی دکان پہ کپڑے سلائ کروانے جاتی تو درزی کو ہر بار نیا ناپ لینا پڑتا ۔
گزرتے وقت کے ساتھ برسات کی رنگینیاں اختتام کو پہنچیں تو سرما کی بے رنگی ہر طرف اپنا رنگ بکھیرنے لگی۔ دکاندار اپنی دکانیں جلد بند کرکے گھروں کو لوٹنے لگے، مگر مکھے کو کوئ جلدی نہ تھی ۔وہ ابھی بھی چادر کی بکل پر مارے چند چھیچھڑے سائیڈ پہ رکھے دکان پہ بیٹھا تھا کہ اسے کتوں کی ٹولی آتی ہوئی دکھائ دی، اس کا ہاتھ بے اختیار چھیچھڑوں کی طرف بڑھا، وہ دیکھ رہا تھا کہ لالی کی صحت پہلے سے بہتر ہو رہی تھی ۔جب اس نے چھیچھڑے ڈالنے شروع کیے تھے تب وہ چھوٹی اور کمزور سی ہوتی تھی۔ مگر اب وہ اچھی خاصی خوبصورت ہو رہی تھی۔کتے ایک دوسرے کے آگے پیچھے ہوتے اس کی دکان کی طرف بڑھ رہے تھے۔ لالی بھی اپنی لال انگارہ آنکھوں کے ساتھ ان کے درمیان میں چلی آرہی تھی ۔مکھے نے ہاتھ میں پکڑے چھیچھڑے فورا ان کے آگے ڈال دیے ۔ جو وہ اٹھا کر آس پاس کی دکانوں کے سامنے بیٹھ کر کھانے لگے ۔جب سب بیٹھ گئے تو اس نے ہاتھ میں بچائے گئے چند مزید چھیچھڑے بھی لالی کے آگے پھینک دیے ۔لالی نے منہ اٹھا کر مکھے کو دیکھا اور ایک پنجہ آگے بڑھا کر انھیں بھی بھی اپنے قریب کر لیا۔
مکھا دیکھ رہا تھا کہ سارے کتے کتنے مزے سے
چھیچھڑوں کی دعوت اڑا رہے تھے ۔ اسے اپنی ماں کی بات یاد آنے لگی جو اشاروں کنایوں میں اسے کچھ کہنا چاہ رہی تھی
جس کا مطلب یہ تھا کہ” پتر پنڈ میں آوارہ کتے بہت ہیں ، گھر کا خاص خیال رکھ ، چار دیواری اونچی اور چوگاٹھ مضبوط کر” ۔ مگر اس نے کوئ خاص دھیان نہ دیا۔
مگر اب بات کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو رہی تھی۔ ایک دن پہلے اس کا چچا زاد شہزاد بھی اس کے پاس شکایت لے کر آیا تھا۔مکھا اپنے چچازاد کی بات سن کر کجی ہانڈی کی طرح اندر ہی اندر کھولے جا رہا تھا، کسی سے کچھ کہہ سن بھی نہی سکتا تھا، کیونکہ بات ہی ایسی تھی ۔
شہزاد اس کا چچازاد ہی نہیں بچپن کا دوست بھی تھا، بہت بھروسہ مند انسان تھا۔اس کے منہ سے ایسی بات بلاوجہ تو نہ ہو سکتی تھی۔دوسری طرف فوزیہ اس کی بیوی ،اس کے بچے تھے۔
بہرحال بڑی مشکل صورتحال اور شش و پنج کے بعد اس نے فیصلہ کیاکہ وہ کل سہ پہر ہی نکل لے گا اور فوزیہ کو بہت اچھی طرح سمجھا کر آئے گا ۔
دریا کنارے چلتے چلتے اس نے محسوس کیا کہ شہر کی نسبت یہاں کافی ٹھنڈ ہو رہی تھی۔ سورج غروب ہو چکا تھا ۔جب وہ اپنی گلی میں داخل ہو رہا تھا تو اسے گلی کی نکڑ پہ ایک نیلے رنگ کی موٹر سائیکل نے اسے کراس کیا۔ مکھے نے موٹر سائیکل سوار کو غور سے دیکھا مگر یہ کوئ اجنبی تھا ، مکھا سوچ میں پڑ گیا اس گلی میں چار گھر تھے جن کے مکینوں سے وہ آشنا تھا۔
مکھا گھر پہنچ گیا ۔بچے بہت خوش تھے۔ فوزیہ کے ہاتھ میں پلیٹیں تھیں جبکہ بچے پیزا آگے رکھے بیٹھے تھے۔
جو باپ کو اچانک اپنے سامنے پا کر بہت خوش ہوئے ، مگر اس نے دیکھا کہ فوزیہ کے چہرے پہ خوشی سے زیادہ حیرت کے آثار تھے ۔مکھا پیزا دیکھ کر بہت حیران ہوا کہ اس وقت پیزا وہ بھی اس دور دراز گاؤں میں۔ ۔ ۔ کیسے۔ ۔ ۔ ۔ ۔؟
اس نے بچوں سے کہا ” واہ بھئ یہ پیزا یقینا آپ کی ماں نے بنایا ہوگا ؟
جلدی سے اس کی منجھلی بیٹی بولی "نہیں بابا وہ پیزا سنٹر والے انکل دے کر گئے ہیں۔
” کیا آپ بھی آتے ہی انکوائری شروع کر دیتے ہیں ردا کے ابا "فوزیہ نے پلیٹ پیزے پلیٹیں کانٹے میز پہ رکھتے ہوئے کہا ۔
مکھا فورا بولا "ارے نہیں فوزیہ میں نے تو بس ایسے ہی کہہ دیا تھا ، ناراض تو نہ ہو "۔
مکھے کی بڑی بیٹی بولی "ابا ہم نے تو نیا بیڈ بھی لیا ہے ". مکھے کی ایک آنکھ کمرے کی طرف تو دوسری آنکھ سے فوزیہ کی طرف اٹھی ، جو بڑے آرام سے پیزے کے سلائس پلیٹوں میں رکھنے میں منہمک تھی ۔

بچے جلد ہی پیزا کھا کر ٹی وی کے آگے جا بیٹھے ۔ مکھا کمرے میں آ کر بیڈ کو دیکھنے لگا ۔ فوزیہ بھی اس کے پیچھے پیچھے کمرے میں آگئ ۔ ” فوزیہ ! یہ بیڈ تو بہت مہنگا لگ رہا ہے "؟ ۔ فوزیہ بولی "ہاں تو اب ہم ساری زندگی چارپائیوں پہ ہی سلگتے رہیں گے کیا، آس پاس گھروں میں اتنا اچھا فرنیچر ہے، میں نے بھی قسطوں پہ لے لیا ہے ، صرف ایک لاکھ کا تو ہے ، تم اس پہ بیٹھ کر تو دیکھو ” یہ کہتے ہی اس نے مکھے کو بازوؤں سے پکڑ بیڈ پہ بٹھاتے ہوئے کہا ” تم بیٹھو میں تمھارے لیے چائے لاتی ہوں” ۔ فوزیہ نے اس کے لیے تکیہ سیدھا کیا اور خود اس کے لیے چائے لینے چلی گئ ۔
مکھا بیڈ پہ نیم دراز ہو گیا اور بیڈ کے نرم و گداز گدے پہ ہاتھ پھیرنے لگا اسے لگا کہ واقعی فوزیہ ایسے ہی بیڈ کی حقدار تھی ۔
اس نے خود ساری زندگی یہ یہ سہولتیں کب دیکھی تھیں وہ بہن بھائ چھوٹے چھوٹے تھے جب باپ رخصت ہو گیا تو اس نے اپنے مامے کے ساتھ مل کر ڈنگر ذبح کرنے شروع کر دیے ، پھر زرا سنبھلا تو گوشت کی دکان ڈال لی۔سکول کا منہ تک نہ دیکھا۔ فوزیہ کا باپ تو فوزیہ نے بھی نہیں دیکھا تھا ۔اس کی ماں نے لوگوں نے گھروں میں کام کرکے اسے ساتویں کلاس تک پڑھایا تھا۔ فوزیہ لوگوں کے گھروں میں یہ چیزیں دیکھتے پلی بڑھی تھی ۔ جوانی میں قدم رکھتے ہی خوب رنگ نکالا تو اس کی ماں نے مکھے کی ماں سے مشورہ کر کے ان کا نکاح کر دیا ۔ ۔ اگرچہ دونوں کی عمروں میں بہت فرق تھا مگر دونوں کی مائیں سہیلیاں تھیں تو یہ فرق بھی آڑے نہ آیا ۔
مکھا انھیں سوچوں میں گم تھا کہ فوزیہ نے چائے کی ٹرے اس کے سامنے بیڈ پہ لا رکھی اور خود بھی پاس بیٹھ گئ۔ مکھا خاموش تھا۔ فوزیہ نے دوپٹہ اتار کر پرے رکھا اور خود دونوں پاؤں اوپر کر کے بیڈ پہ پالتی مار کر اس کے سامنے بیٹھ گئ ، وہ لال سرخ جوڑے میں مکھے کو کوئ اپسرا لگ رہی تھی ۔
فوزیہ چائے کا کپ مکھے کو پکڑاتے ہوئے کہنے لگی ”
دیکھو مختار جی لوگ تو بہت باتیں کرتے ہیں مگر سب کی باتیں سچی تو نہیں ہوتیں ناں ، آپ کو تو پتہ ہے بڑی عمر کے تو جانور کے گوشت میں کوئ صواد رہتا ہے نہ طاقت، فوزیہ کے اس پہلے اور ہلکے وار نے ہی مکھے کےسارے کس بل نکال دیے ،اس کے ماتھے پی پسینہ آ گیا اس نے فوزیہ سے اپنے ہاتھ چھڑوائے اور پیچھے ہو کر بیٹھ گیا۔ وہ مزید ایک دن گھر میں رکا مگر وہ فوزیہ سے اس معاملے پہ کوئ بات نہ کر سکا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دو دن گاؤں میں گزارنے کے بعد واپس جا رہا تھا دریا کنارے چلتے چلتے اچانک اسکے پاس ایک موٹر سائیکل آ رکی۔ اس نے دیکھا تو اس کا چچازاد شہزاد اس کے پاس آ رکا تھا ۔مکھا اس سے ملنا نہیں چاہ رہا تھا مگر شہزاد نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے یہ کہہ کر موٹر سائکل پہ بٹھا لیا کہ وہ بھی لاری اڈے تک جا رہا یے ، اور وہ اسے بس میں بٹھا دے گا۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ لاری اڈے پہ جا پہنچے ۔ تب سے شہزاد نے مکھے سے سلام لیتے ہوئے اسے ایک بار پھر اسی بات کی طرف توجہ دلائی کہ” مکھے اپنے گھر کی طرف خیال کر ، یہ نہ ہو کہ دیر ہو جائے ، بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ تم دکان یہاں اڈے پہ لے آو اور روز رات کو اپنے گھر آ جایا کرو ” ۔مکھے نے اسے کوئ جواب نہ دیا اور اللہ حافظ کہہ کر لاری میں جا بیٹھا ۔
۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کئ دن گزر گئے مکھے کے دل کو چین نہیں تھا۔ایک طرف ماں کی نصیحتیں ، چچا زاد کے مشورے تھے تو دوسری طرف فوزیہ کی ادائیں اور اس کا گھر اور بچے تھے ۔ وہ فوزیہ کو کچھ کہتا تو وہ فورا برا مان جاتی ۔اسی خوف سے وہ واپس آتے ہوئے ماں سے بھی نہیں مل کر آیا تھا ۔ مکھا عجیب ادھیڑ بن کا شکار ہو رہا تھا کبھی اسے خیال آتا کہ اورنگزیب صاحب سے زکر کرتا ہوں، ان سے مشورہ مانگتا ہوں ، مگر دوسرے ہی لمحے یہ خیال اسے روک لیتا کہ وہ ان سے کہے گا کیا۔ ۔ ۔ ؟۔
اسی الجھن میں ہی کئ دن گزر گئے
عید کی آمد آمد تھی لوگوں کا گوشت کی طرف رحجان کم اور دوسری خریدوفروخت کی طرف رغبت زیادہ تھی۔ مکھا دکان پہ بیٹھا دیکھ رہا تھا کہ کئ خواتین چادریں کئ عبایا اوڑھے اپنے بچوں کی انگلی تھامے ان کی ضروریات پوری کرنے میں مگن تھی۔
شش و پنج میں الجھے مکھے کے ذہن میں ایک روشنی کی لکیر نمودار ہوئ، ایک حل اس کے زہن میں آیا ۔اگلے دن جمعرات کا روز تھا، گوشت جلدی ختم ہو گیا تو وہ بازار کی طرف نکل گیا ۔کافی سوچ بچار کے بعد اسے کچھ پسند آگیا، پیسے دیے شاپر تھاما اور اپنے کمرے میں آ کر بستر پہ دراز ہو گیا۔ وہ مطمئن تھا کہ اب اس سے فوزیہ ناراض بھی نہیں ہو گی اور پریشانی بھی ختم ہو جائے گی ۔اس کے تئیں پریشانی کا خاطر خواہ حل نکل آیا تھا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مکھا آج صبح سے ہی بہت خوش تھا ۔اس نے جلدی سے ذبح کیے گئے جانور کے مخصوص حصے کو دکان کے سامنے حصے میں لٹکا کر کپڑے سے ڈھانپ دیا ۔دو کلو اچھے صاف ستھرا گوشت الگ کر کے شاپر میں ڈال کر سنبھال لیا کہ یہ آج گھر لے جاؤں گا۔
وہ دکان پہ بیٹھا سوچ رہا تھا کہ فوزیہ کو اپنے آنے کی خبر دوں یا رہنے ہی دوں وہ اچانک اسے اپنے سامنے دیکھ کر خوش ہو گی اور جب اسے تحفہ دوں گا تو پھر تو وہ مجھ سے بالکل بھی ناراض ہی نہیں ہو گی۔
ابھی بازار میں لوگوں کا رش خاصا کم تھا مگر کتوں کی مخصوص ٹولی اپنی چال چلتی ہوئ اس کے تھڑے کے سامنے آ رکی ، اس نے چھیچھڑے ان کے آگے ڈالے ۔
ہاتھ تولیے سے صاف کیے اور اٹھ کر دکان کے پچھلے حصے میں گیا ، شاپر کھول کر اپنی شاپنگ کو دیکھ کر خوش ہو رہا تھا کہ اس کے فون کی گھنٹی بجی، شہزاد کا نمبر سکرین پر چمک رہا تھا ۔ اس نے دھڑکتے دل سے کال سنی ، مگر کال سنتے ہی موبائل اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا ۔ اسے لگا جیسے زمیں کے سارے رنگ ختم ہو گئے ہوں اس کی آنکھوں کو ایک دودھیا سی تہہ نے ڈھانپ لیا ہو ، سر چکرانے لگا ۔ ایک لمحے کے لیے اس کا زہن مکمل طور پہ ماوف ہو چکا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس نے کیا سنا اور کیا ہوا ہے ۔کئ لمحے ایسے ہی گزر گئے ، وہ ہمت کر کے اٹھا شاپر اٹھا کر دکان کے باہر کے حصے میں آکر اپنی مخصوص جگہ پہ بیٹھ گیا۔
یہ کیا ہو گیا تھا، وہ بڑبڑایا فوزیہ تم نے یہ کیا کیا۔ ۔ ؟ وہ یہ سب سمجھنے سے قاصر تھا۔
کئ پل ایسے ہی گزر گئے، اس کی نظر سامنے اٹھی تو لالی اپنی لال انگارہ آنکھیں جھکائے چھیچھڑوں کو بھنبھوڑ نے میں مگن تھی جبکہ دوسرے کتے اپنا حصہ ختم کر کے اب لالی پہ آنکھیں جمائے ہوئے تھے ۔ مکھے کو لگا جیسے گدے کا گداز پن اور پیزے کی گرمی سے اس کی انگلیاں جلنے لگی ہوں، اس نے جلدی سے ہاتھ میں پکڑا شاپر کھولا اور ایک بڑی کالی چادر نکال کر لالی پہ ڈال دی۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x