غزل

پھول چمن کے سارے مجھ سے ملنے کو بے تاب /منزہ سحر

غزل

منزہ سحر

ہاتھ میں کاسہ، آنکھ میں آنسو،رستے بنے سراب

دل  اور  دامن دونوں خالی لیکن  اونچے خواب

 

وقت کی لہروں نے ساحل سے مجھ کو کھینچ لیا

بیچ  سمندر   کشتی    ٹوٹی   گھر    ہے  زیرِ آب

 

ایسے اس نے رنگ اور خوشبو مجھ پر ڈال دیے

پھول چمن کے سارے مجھ سے ملنے کو بے تاب

 

سورج جیسا مکھڑا  اس کا کرنوں جیسا روپ

بات  کرے  تو چپ  ہو جائیں تارے اور مہتاب

 

سوکھے  پتے، بیل  اور بوٹے  سب کتنے حیران

رنگ اس نے یہ کیسا بخشا سب سبز و شاداب

Author

Related Articles

Back to top button