احمد فراز اور پروین شاکر دونوں اردو ادب کی اہم شخصیات ہیں۔ ویسے تو ان دونوں کا بنیادی حوالہ شاعری ہی ہے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ انھوں نے بچوں کے لیے بھی لکھا۔ ماہ نامہ روشنی، لاہور نے جنوری 2023ء کے شمارے میں ایک کہانی سنہرا پھول شائع کی تھی، یہ مشہور شاعر احمد فراز نے لکھی تھی جو بچوں کے رسالے ماہ نامہ پھلواری، جو شیخ غلام علی اینڈ سنز کے تحت شائع ہوتا تھا، اس کے شمارہ نومبر 1961ء میں شائع ہوئی تھی۔ شیما مجید نے بھی اس کہانی کو بچوں کی کہانیوں کے انتخاب میں شامل کیا تھا۔
یہ مشہور شاعر احمد فراز ہی ہیں، جنھوں نے بچوں کے لیے بھی لکھا تھا۔ اس کے جو مجھے حوالے ملے ان میں سے ایک حوالہ مجموعۂ مقالات، پاکستان میں اردو مرتبہ طاہر فاروقی کے باب علاقہ سرحد میں اردو از پروفیسر شرر نعمانی نے لکھا ہے "۔ ۔ ۔ ۔ احمد فراز، افضل حسین اظہر اور راقم الحروف (شرر نعمانی) نے بچوں کے لیے کئی مضامین نظم و نثر تحریر کیے ہیں۔ جن میں سے بیشتر مڈل و پرائمری کی جماعتوں کی نصابی کتب میں شامل ہیں۔”
پاکستان میں اردو (1948ء تا 1964ء)، طاہر فاروقی، صفحہ 124، یونیورسٹی بک ایجنسی خیبر بازار، پشاور
اس حوالے کے مطابق انھوں نے نظم و نثر دونوں میں لکھا، اب یہ اس دور کی نصابی کتابوں اور بچوں کے دیگر اردو رسائل ہی سے علم ہو سکتا ہے کہ احمد فراز نے اور کیا کیا لکھا تھا۔
ریڈیو پاکستان کے پندرہ روزہ رسالے آہنگ کے یکم دسمبر تا 15 دسمبر 1964ء کے شمارے میں بچوں کے صفحات پر، مجھے ان کی ایک کہانی دو سو روپے اور بچوں کی پلٹن ملی ہے۔ جب کہ ماہ نامہ بچوں کا باغ، لاہور میں بھی 1970ء کی دہائی میں ان کی ایک نظم ہم بچے پاکستانی ہیں، شائع ہوئی تھی۔
دوسری کہانی پروین شاکر کے نام سے خزانہ 83ء میں شائع تھی، یہ 1983-84ء میں پہلی بار شائع ہوئی تھی، جو کتاب کے اداریے کے مطابق، مصنفین سے رابطہ کرکے، لکھوائی گئی کہانیوں سے مرتب کی گئی اور ہر سال ایسا انتخاب شائع کرنے کی خبر بھی دی گئی، نہیں معلوم کہ پھر کبھی ایسا کچھ شائع ہوا۔ اس میں پروین شاکر نے کسی جاپانی کہانی سے ماخوذ کہانی لکھی ہے۔
اداریے میں لکھا گیا ہے کہ لوگوں سے رابطہ کرکے لکھوایا گیا ہے۔ انہی لوگوں سے رابطہ کرکے لکھوایا جاتا ہے جو مشہور ہوں۔ اس دور (1983-1984) میں پروین شاکر کراچی میں تھیں، اس سے قبل (1982-1983) میں لاہور تھیں۔ اور کتاب بھی اسی دور کی ہے۔ اس انتخاب میں دیگر جن شخصیات کی تحریریں ہیں ان میں باقی نام بھی اکثر ایسے ہیں، جو بچوں کے ادب کے حوالے سے نہیں لیے جاتے، اسد محمد خان، احفاظ الرحمٰن، رضیہ فصیح احمد، نصر اللہ خان و دیگر نام سب ہی عمومی طور پر بڑوں کے ادب، صحافت اور کالم نگاری سے جانے جاتے ہیں۔
یہ کہانی مجھے اسلام آباد سے شائع ہونے والے ماہنامہ معصوم میں بھی ملی ہے۔ جس میں ساتھ وضاحت بھی موجود ہے کہ یہ شاعرہ پروین شاکر کی لکھی ہوئی ہے۔ یاد رہے مذکورہ دونوں رسائل کے مدیر محمد علی سید ہی تھے۔ جو اب بھی زندہ ہیں اور امریکا میں قیام ہے۔ ان سے میں نے اس سلسلے میں استفسار کیا تو، انھوں نے بتایا کہ یہ شاعرہ پروین شاکر نے ہی لکھی تھی، اس وقت کراچی میں ان کے پڑوس میں رہائش پزیر تھیں۔




