اُردو ادبکہانی

اعتماد /الماس شیریں

یہ کہانی عام نہیں ہے ۔اس میں نئی نسل کے لیے عبرت ہے ۔جو اپنوں کے اعتماد کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں۔
مومنہ ایک متوسط گھرانے کی لڑکی تھی ۔جہاں لڑکیوں کی جلدی شادی کا رواج تھا ۔مو منہ نہ صرف شکل و صورت کی اچھی تھی ۔گھریلو طور پہ بھی بہت سگھڑ تھی۔دسویں کی طالبہ تھی ۔مگر زمانے کی ہوا اسے چھو کر نہیں گزری تھی ۔
امتحانات کے بعد مومنہ کی شادی کر دی گئی ۔اسد ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتا تھا ۔ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا ۔
اسد اور اس کے ماں باپ مومنہ کا بہت خیال رکھتے ۔ مومنہ بھی گھر کا کونا کونا چمکاتی ۔خوشحال خاندان تھا ۔جہاں سب ایک دوسرے کی عزت کرتے ۔اللہ نے خوشخبری دی ۔سب نے مومنہ کو ہاتھوں کا چھالا بنا لیا ۔اللہ نے چاند سے بیٹی عطا کی ۔دادا دادی نے اس کا نام ماہم رکھا ۔اس میں سب کی جان تھی ۔کے ماں باپ عمرہ کرنے گئے ۔اور وہیں اللہ کو پیارے ہو گئے ۔مومنہ نے اسد ماہم اور گھر کو سنبھال لیا ۔اسد ماہم کے بہت ناز برداریاں کرتا ۔ماہم چار سال کی ہو گئی مگر ان کے ہاں دوسری اولاد نہ ہو سکی ۔ماہم کو بہترین سکول میں داخل کروایا گیا ۔اسد اپنی لاڈو کو لے جاتا اور لے آ تا۔
ماہم نے میٹرک بہت اچھے نمبروں سے پاس کیا ۔اسد نے ماہم کو خوب شاپنگ کروائی ۔گورنمنٹ کالج میں اس کا داخلہ کروایا ۔مگر وہ گھر سے کافی دور تھا ۔اس لیے اسد نےکالج کی بس لگوا دی ۔صبح سات بجے سے شام تین بجے تک ماہم گھر سے باہر رہتی۔ کچھ مہینے خیریت سے گزرے پھر ماہم میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی ۔ ہائے یہ اندھا اعتماد ماں باپ کو کہاں کہاں رسوا کرتا ہے۔ماں بیٹی پر روزانہ آیت الکرسی اور دعاؤں کا دم کر کے بھیجتی تھی۔انسان جب شیطان کی پکڑ میں آ جائے تو اس کا دماغ کام کرنا بند ہو جاتا ہے۔بس میں ماہم کی دوستی تین لڑکیوں سے تھی ۔جو انتہائی ماڈرن اور تیز طرار تھیں۔ شیطان نے تینوں بد صورتوں کو خوبصورت دکھا کر معصوم ذہن کو اپنے شکنجے میں کر لیا ۔
ماہم ان کے رنگ میں رنگ گئی ۔ایک دن اس نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ مجھے ٹیوشن کی ضرورت ہے ۔ماں دل سے راضی نہ تھی ۔ٹیوشن اکیڈمی کالج کے ساتھ ہی تھی ۔پانچ بجے اسد بیٹی کو لینے کالج کے گیٹ پر جاتا ۔ماہم ان دنوں بہت خوش رہتی تھی اسد افس بیٹھا کام کر رہا تھا ۔کہ اس کے فون کی گھنٹی بجی ایک مردانہ آواز آئی کہ سر میں بھی بیٹیوں والا ہوں میری بات غور سے سنیں ۔ اپ کی بیٹی روزانہ کسی لڑکے کے ساتھ چلی جاتی ہے اور آپ کے آنے سے پہلے گیٹ پر پہنچ جاتی ہے ۔فون بند ہو گیا ۔اسد کے کان سائیں سائیں کر رہے تھے ۔اسد چار بجے کالج کے گیٹ پر پہنچ گیا۔
ماہم وہاں ماجود تھی ۔اسد نے سکون کا سانس لیا ۔اور اس بات کا ذکر گھر میں بھی نہ کیا ۔اس بات کو دو مہینے گزر گئے ۔ماہم کے بارہویں کے امتحان شروع ہو گئے تھے ۔کالج کی پرنسپل کی طرف سے فون آیا کہ والدین فورا کالج پہنچیں ۔
دونوں کالج پہنچے ۔ چوکیدار انکو عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے اسد کو باہر روکا اور مومنہ کو اندر جانے کا کہا ۔جیسے ہی مومنہ اندر گئی ماہم ماں سے لپٹ گئی ۔اور بولی یہ سب جھوٹ ہے میں نے کچھ نہیں کیا ابھی اس کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ مو منہ کو اندر بلا لیا گیا ۔مومنہ دھڑکتے دل کے ساتھ پرنسپل افس کے اندر گئی ۔جہاں بہت سارے بے جان وجود بیٹھے تھے ۔جو صرف سانس لے رہے تھے ۔پرنسپل کی پتھریلی آواز میں بولی تم ہم کی والدہ ہو مومنہ غصیلے اور سخت لہجے سے سہم گئی ۔اور ڈرتے ڈرتے اثبات میں سر ہلا دیا ۔پھر سرد آواز گونجی یہ آپ کی بیٹی کا بیگ ہے۔مومنہ بولی جی ۔آپ کو پتہ ہے اس میں کیا ہے ۔مومنہ نے کہا کتابیں اور کھانا ۔پرنسپل نے بیگ مومنہ کی طرف پھینکا بیگ سے کپڑے جیولری اور میک اپ کا سامان مومنہ کا منہ چڑا رہے تھے۔ پرنسپل پھنکاری آپ کیسی اندھی ماں ہو۔
آپ کی بیٹی یونیفارم تبدیل کر کے لڑکوں کے ساتھ جاتی تھی۔ یہ چار لڑکیوں کا بدنام گروپ ہے جسکی لیڈر آپ کی بیٹی ہے۔ہمارے کالج کو بدنام کر دیا ہے ۔مومنہ کا سانس بند ہو رہا تھا۔ وہزمین میں دھنسی جا رہی تھی۔آواز مسلسل گونج رہی تھی۔ ماہم ایک بدکردار لڑکی ہے۔ان چاروں کے بارے میں اخبار میں بھی چھپ چکا ہے۔آپ کیسے غافل والدین ہیں۔ہم ان بدنام لڑکیوں کو کالج میں نہیں رکھ سکتے ۔مومنہ کا چہرہ لٹھے کی طرح سفید پاؤں اٹھنے سے انکاری وہ اٹھ نہیں پأ رہی تھی۔وہ بے جان وجود کو گھسیٹتی ہوئ نکلی ۔ دکھ درد اذیت سب مومنہ کے روئیں روئیں سے ظاہر ہو رہا تھا۔آوازوں کا شور تھا۔غافل اندھے والدین ۔ بدکردار ماہم وہ پھٹی آنکھوں سے اسد کو دیکھ رہی تھی۔ وہ اپنی محبت کو کیسے بتاتی کہ ہمیں اندھا اعتماڈ کھا گیا۔مومنہ اسد کی باہوں میں بے جان ہوگئ۔ مومنہ کے بتاۓ بغیر اسد اسکی تکلیف جان گیا۔اس نے شکایت سے ماہم کو دیکھا اور بس سب ختم دونوں کو دکھ نے لاشوں میں بدل دیا۔ ماہم دھاڑیں مار کروالدین کو جھنجھوڑ رہی تھی۔بھری دنیا میں اکیلی کھڑی تھی۔ ہر طرف نفرت اور ہوس بھری نگاہیں تھیں۔
اللہ کسی کو اولاد کا دکھ نہ دکھاۓ ۔ آمین

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x