اُردو ادباُردو شاعریغزل
غزل / سرمئی آنچل اڑا / زاہد خان
غزل
سرمئی آنچل اڑا
لے اڑی اس کو ہوا
یاد رکھنی ہے تمھیں
بھول جانے کی ادا
لہلہاتے کھیت میں
میں بجوکا ہو گیا
حیرتی آنکھیں لیے
ڈھونڈنے تم کو چلا
گیت چگنے آ گیا
اک پرندہ بےنوا
آسماں سے جا لگی
میرے ہونٹوں کی دعا
سات رنگوں نے چنی
اس کی آنکھوں سے حیا
مرغزاروں نے سنی
میرے گیتوں کی صدا
شب اکیلی رہ گئی
تو کہاں ہے دوستا
Author
URL Copied



