منتخب کالم

   قصہ مختصر شہر لاہور میں ہونے والی خوبصورت تقریب کا / فیصل شامی



اسلام و علیکم پارے پارے دوستو سنائیں کیسے ہیں امید ہے کہ اچھے ہی ہونگے اور ہم بھی یقینا اچھے بھی ہیں اور بھلے چنگے بھی ہیں اور دوستو آج ہم شہر لاہور میں ہونے والی ایک خوبصورت سی تقریب کا قصہ مختصر آپ کی نذر کر رہے ہیں اور اس خوبصورت سی تقریب میں جناب مصطفی کمال پاشا، جناب ناصر ادیب و دیگ دوستوں سے ہماری ملاقات ہوئی اور بتا دیں کہ مصطفی کمال پاشا صا ریٹائرڈ سرکار آفیسر ہیں اور سینئر کالم نگار ہیں بہت اچھا لکھتے ہیں اور ہم ان کو بچپن سے ہی دیکھتے آ رہے ہیں اور  مصطفی کمال پاشا بھی والد محترم جناب شا می صاحب کے پرانے رفقاء میں سے ہیں جبکہ ناصر ادیب کی بات کریں تو ناصر ادیب بھی لکھاری و مصنف ہیں بہت سی فلموں کی کہانیاں لکھ چکے ہیں۔اور بتا دیں کے مولا جٹ بھی ناصر ادیب کی ہی لکھی ہوئی کہانی تھی جو ناصر ادیب کو شہرت کی بلندیوں پہ لے گئی۔ تقریب کی صدارت بھی جناب ناصر ادیب کر رہے تھے اور یہ بھی بتادیں کہ ہمیں اس  تقریب میں شرکت کا موقع جناب عامر سہیل اور عتیق کھوکھر کی وساطت سے ملا۔عتیق کھوکھر ہمارے صحافی بھائی ہیں اور ہمارے ہی ادارے سے وابسطہ ہیں یا یوں کہہ لیں کہ یلغار ٹیم کا ہی حصہ ہیں جبکہ عاامر سہیل سمائلنگ  فیس کے نام سے این جی او چلا رہے ہیں اور کرسچین و دیگر کمیونٹیر کے لئے اچھا کام کر رہے ہیں۔یہ تقریب معروف نغمہ نگار و لکھاری جناب یونس وریام کی غیر ملکی سفر نامے پرمشتمل کتاب ”حوریں زمین پر“کی تقریب رونمائی تھی۔ اگر دیکھا جائے تو آج کے دور میں کتابوں کی اشاعت میں بے بہا کمی آ گئی ہے لکھنے والے تو موجود ہیں لیکن پڑھنے والوں میں بھی گویا بے شمار  کمی آ گئی ہے لکھنے پڑھنے کا شوق جیسے ختم ہی ہوتا جا رہا ہے اور ہمیں یہ بھی  یاد ہے کہ ایک وقت ہوتا تھا جب بچپن میں ہمیں بھی کتابیں قصے کہانیاں پڑھنے کا شوق تھا اور جو بھی نیا ناول یا کہانی یا کتاب مارکیٹ میں آتی تو ضرور حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے اور ہمیں جن مصنفین کی کہانیوں میں دلچسپی تھی اور بہت ذوق و شوق سے جن کو پڑھتے تھے ان میں  جناب اے حمید جن کی مشہور سیریل عنبر ناگ ماریہ  تھی جو سو سے زائد حصوں پہ مشتمل تھی  اسکے علاوہ جناب  مظہر کلیم ایم اے اور ابن صفی مرحوم کے ناول عمران سیریز پہ مبنی تھے جبکہ جناب اشفااق احمد کی کتابوں میں انسپکٹر جمشید سیریز، انسپکٹر کامران سیریز شوکی برمدران مشہور تھی اور بچے بڑوں سب کی بھی پسند تھیں جبکہ نسیم حجازی صاحب کے تاریخی  واقعات پہ مبنی کہانیاں افسانے و  ڈرامے آج بھی یاد ہیں اور بھی بے شمار مصنف تھے جن کو شوق سے پڑھتے تھے  لیکن آج کے دور میں نوجون نسل میں مطالعے کا رحجان کم ہو گیا ہے۔ شاید اس لئے کہ ماڈرن زمانہ جدید دور ہے اور آج کے اس سوشل میڈیا کے دور نے سب کو کتابیں پڑھنے سے دور کر دیا اور ایک وجہ یہ بھی کہ کتابیں شائد اتنی مہنگی ہو چکی ہیں کہ عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہیں  یا پھر شائد اس لئے کہ اب ہر چیز آن  لائن  با آسانی دستیاب ہے اور جب ہر چیز آن لاائن مل جائے تو کتابوں کے ساتھ مغز ماری کون کرے اور کون کیونکر بھاری قیمت دے کے کتاب خریدے۔ یقینایہ ہمارا المیہ ہے کہ آج ہماری نوجوان نسل میں نا ہی کتاب پڑھنے کا شوق ہے اور نا ہی کتاب خریدنے کا بہرحال  مزکورہ تقریب جس میں ہم نے شرکت کی بہت خوبصورت تقریب اور یقینا خوشی کی بات تھی کہ آج کے دور میں بھی کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ جاری و ساری ہے اور دعا ہے کہ لکھنے لکھانے کا سلسلہ صدا یونہی  جاری و ساری ہی رہے۔ مصطفی کمال پاشا  اور دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ وہ یونس وریام کرسچین کمیونٹی کے پہلے باضابطہ لکھاری ہیں جو کہ کرسچین کمیونٹی کے لئے باعث اعزاز ہے اور بہت سے مذاہب کے افرد سے انکا بھائی فچارے پیار و محبت کا رشتہ بھی قائم ہے  اسی لئے ہر مذہب کے افراد نے جناب یونس وریام کی کتاب کی تقریب رونمائی میں شرکت کی اور تقریب کے اختتام  پہ  جناب  یونس وریام نے اپھی اہلیہ کے ساتھ ملکر شادی کی پچاسویں سالگرہ کا کیک کاٹا اور حاضرین محفل سے ڈھیروں دعائیں بھی سمیٹیں۔تقریب کے اختتام پہ کرسچین کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے فادر نے دعا کروائی جبکہ عالم دین  بدر منیر نے خصوصی دعا کروائی تو دوستو یہ تھا قصہ مختصر  شہر لاہور میں ہونے والی اہل قلم کی خصوصی تقریب کا تو فی الحال ہمیں دیں  اجازت دوستو ملتے ہیں جلد بریک کے بعد تو چلتے  چلتے اللہ نگہبان رب راکھا۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button