غزل
غزل / برگ و بار و سایۂ اشجار کا شکوہ نہیں / خورشیدربانی
غزل
برگ و بار و سایۂ اشجار کا شکوہ نہیں
ہم کو ویرانے میں بھی جینے کا حق ملتا نہیں
خواہش ۔آوارگی لے آئی کیسے موڑ پر
دشت بھی ہم چھوڑ آئے، شہر میں بھی جا نہیں
ظلمتوں میں روشنی دے گا تو مانیں گے چراغ
دیپ کہہ دینے سے کوئی دیپ بن سکتا نہیں
کس طرح شاخ و شجر سے رسم و رہ پیدا کریں
کل بھی موسم سرد تھا اور آج بھی اچھا نہیں
کشمکش میں ہوں کہ اب زخمِ جنوں کا کیا کروں
میں جہاں گرمِ سفر ہوں وہ مرا صحرا نہیں
زخم کیا کیا ہیں خس و خاشاک کے دل میں نہاں
در بدر پھرتی ہوا کو اس کا اندازہ نہیں
شام کے سائے بڑھے خورشید تو مجھ پر کھلا
دھوپ بھی میری نہیں ہے سایہ بھی میرا نہیں




