اُردو ادبافسانہ

وارث/ الماس شیریں

خاوند کی اچانک حادثاتی موت سے مریم پر پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔مریم کا خاوند ایک گورنمنٹ محکمے میں کلرک تھا۔بہت تگ و دو کے بعد گورنمنٹ کی طرف سے تھوڑے بہت پیسے ملے جو مریم نے اپنی اکلوتی بیٹی روبینہ کی تعلیم کے لیے رکھ دیے۔
جتنی پینشن ملتی اس میں گھر کا گزارا کرنا ناممکن تھا۔ مریم گھر کے خرچے کے لیے بہت پریشان تھی۔

خاندان والوں نےآنکھیں ماتھے پر رکھ لیں۔ بے درد اور بے حس دنیا نے یتیم بچی کے سر پر ہاتھ نہ رکھا۔ ماں بیٹی پریشان بھری دنیا میں اکیلی تھیں۔ مریم پڑھی لکھی نہ تھی سلائی کڑھائی بھی کوئی خاص نہیں آتی تھی۔ مگرہمت اور حوصلہ بہت تھا وہ اپنی بیٹی کے سامنے ڈھال بن کر کھڑی ہو گئی۔ مریم کا دو کمروں کا گھر تھا مگر صحن بہت بڑا تھا۔ مریم نے ہمت کی اور صحن میں کیاریاں بناکر اس سبزیاں لگا لیں۔ یہ اتنا آسان کام نہ تھا مگر مریم نے اپنی بیٹی کے لیے یہ کرنا تھا۔ مریم کی محنت اور اللہ کی مدد سے سبزیاں بہت اچھی اور زیادہ ہوئی مریم گھر بھی پکاتی اور محلے والوں کو فروخت بھی کرنے لگی۔ محلے والے خوش ہوگئے کہ تازہ سبزی ان کو مہیا ہو رہی ہے۔ دونوں ماں بیٹی بہت محنت کرتیں مریم کا صحن کھیت بن گیا جس میں موسم کی ہر سبزی پائی جاتی تھی۔

پینشن اور سبزی کے پیسوں سے دونوں کا بہت اچھا گزاراہو رہا تھا مردوں کی دنیا میں اپنی بیٹی کو ہوس بھری نظروں سے بچانا بہت مشکل ہو رہا تھا مریم ںے بہت سوچ بچار کے بعد ایک اچھا رشتہ دیکھ کرشادی طے کردی۔ نعیم مریم کو بہت پسند آیا۔انھیں بھی نازک سی روبینہ بہت پسند آئی۔ سارے معاملات خوش اسلوبی سے طے پائے۔مریم بہت خوش تھی۔ مریم نے اپنی جمع پونجی لگا کر بیٹی کی شادی بہت دھوم دھام سے کی۔ نعیم اور اس کی خالہ منع کرتے رہے پر مریم نے اپنی ہر خوشی پوری کی۔ روبینہ رخصت ہو کر نعیم کے گھر چلی گئی مگر اس کا دل ماں کے اکیلے پن کی وجہ سے پریشان رہتا مریم پر سکون ہو گئی۔ وہ روبینہ کو سمجھاتی کہ میں خوش ہوں۔ نعیم کا اپنی خالہ کے علاؤہ کوئی قریبی رشتہ نہ تھا۔ نعیم اور اس کی خالہ بہت اچھے تھے۔ وہ روبینہ اور مریم دونوں کا بہت خیال رکھتے۔ نعیم داماد نہیں بیٹا بن گیا تھا۔ روبینہ کے گھر میں ہر چیز کی فراوانی تھی ۔روبینہ بھی دل جان سے خالہ اور نعیم کی خدمت کرتی۔ روبینہ بہت نکھر گئی تھی نعیم اسے ہر وقت پیار بھری نظروں سے تکتا رہتا نعیم کو بچوں کا بہت شوق تھا۔ اللہ نے اس کی سُن لی اور جلد ہی خوشخبری مل گئی۔ نعیم نے روبینہ کو ہاتھ کا چھا لا بنا کر رکھا ہوا تھا۔ شرماتی لجاتی روبینہ اس کو بہت اچھی لگتی تھی۔

نعیم اس کا ہر طرح سے خیال رکھتا۔ مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے دیکھنے میں روبینہ بہت صحت مند لگتی تھی مگر اچانک ساتویں مہینے اس کا بلڈ پریشر بہت ہائی ہو گیا اور وہ بے ہوش ہو گئی نعیم اور اس کی خالہ پریشان ہو گئے اور اسے جلدی ہسپتال لے گئے ڈاکٹروں نے بہت کوشش کی۔ مگر اس کا بی پی نیچے نہ آیا مجبورا انہیں آپریشن کرنا پڑا نرس نے نعیم کو ایک کمزور اور زرد چہرے والی بچی تھمائی۔ بچی کو دیکھ کر نعیم کو جھٹکا لگا۔ بچی بہت کمزور تھی بچی کو انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا۔ روبینہ کی حالت بھی کچھ ٹھیک نہ تھی۔ نعیم ربینہ کو اسی حالت میں چھوڑ کر گھر آگیا اسکی خالہ نے روبینہ کو سنبھا لا۔ مریم اور نعیم کی خالہ روبینہ اور بچی کو گھر لے آئے۔ نعیم نے بیٹی کو دیکھا ہی نہیں۔ روبینہ کو  نعیم کے رویے سے بہت دکھ ہوا۔ روبینہ اپنی بیٹی پر جان چھڑکتی تھی۔ اسکا حد سے زیادہ خیال رکھتی۔ نعیم کا رویہ ٹھیک نہ ہوا۔ روبینہ نے بیٹی کا نام ارم رکھا۔ روبینہ کی توجہ اور پیار سے ارم صحت مند ہو رہی تھی۔ مگر نعیم کو ارم سے کوئی سروکار نہ تھا۔ روبینہ بچی ، گھر اور نعیم میں گھن چکر بنی ہوئی تھی۔ ارم ابھی سال کی ہوئی روبینہ ایک بار پھر امید سے ہو گئی ۔نعیم تو خوش تھا مگر  روبینہ اور اس کی ماں پریشان تھیں۔ روبینہ کی حالت ٹھیک نہ تھی کہ وہ اتنی چھوٹی بچی کا بھی خیال رکھے اور گھر کا بھی۔ مگر نعیم کی خالہ نے بہت ساتھ دیا اب نعیم کا رویہ بھی قدر بہتر ہو گیا تھا۔ وہ پھر سے روبینہ کا خیال رکھنے لگا مگر ارم کی طرف توجہ نہ دیتا۔ اس بار نعیم نے بہت احتیاط کی ہر مہینے خود چیک اپ کروانے لے جاتا۔ خدا خدا کر کے دن پورے ہوئے ۔جس کا نعیم کو بے چینی سے انتظار تھا۔ روبینہ کی سرجری ہوئی اور جڑواں بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ نعیم کا غصے سے برا حال تھا۔ وہ کسی کو بھی بتائے بغیر ہسپتال سے چلا گیا۔ روبینہ ہمت کر کے ماں اور خالہ کے ساتھ گھر آئی۔ نعیم گھر موجود نہ تھا۔ نعیم کی خالہ نے روبینہ کا بہت خیال رکھا ۔ تین دن تک نعیم کی کوئی خیر خبر نہ تھی چوتھے دن وہ گھر آیا اور سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ روبینہ کی جان سولی پہ لٹکی ہوئی تھی۔ وہ بغیر قصور کے سزاوار تھی۔.
خالہ نعیم کے کمرے میں ائی اور نعیم سے بولی تمہارے گھر تو رحمتیں ائی ہیں ان معصوم کلیوں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے نعیم نے نفرت اور غرور سے کہا ”خالہ مجھے اپنے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنے والا وارث چاہیے. جو میری جائیداد کو سنبھالے.“
خالہ غصے سے بولی ”عقل کے اندھے بیٹا تو تیری جائیداد لے اڑے گا. لیکن یہ رحمتیں تجھے سنبھالیں گی۔ تیرے جنازے پہ روئیں گی اور آخرت میں تجھے جنت میں لے جائیں گی۔ کیوں تو اپنی عاقبت خراب کر کے رحمت کو ٹھکرا رہا ہے“ نعیم چپ کر گیا وہ اب کسی کو کچھ نہ کہتا تھا.مگر بیٹیوں سے بھی بات نہ کرتا ان کی ضروریات کا خیال ضرور رکھتا تھا. جڑواں بیٹیوں کے بعد ڈاکٹروں نے سختی سے منع کیا تھا کہ اور بچہ پیدا نہیں کرنا تمہاری حالت اس قابل نہیں ہے. مگر نعیم کو کون سمجھاتا وہ کہتا یہ ڈاکٹروں کی من گھڑت باتیں ہیں. روبینہ تیسری دفعہ پھر ازمائش کے دوراہے پہ کھڑی تھی. کیونکہ نعیم نےکہہ دیا تھا کہ اگر اس دفعہ بیٹا نہ ہوا تو وہ دوسری شادی کر لے گا . روبینہ کی حالت قابل رحم تھی وہ چل بھی نہ پاتی۔ وہ دن بدن کمزور ہوتی جا رہی تھی ۔اس بار نعیم نے بھی اس کا کوئی خیال نہ رکھا۔ پھر بھی وہ ہمت کر کے اپنی بیٹیوں کا خیال رکھتی ۔گھر کا کام بھی کرتی نواں مہینہ شروع ہو گیا تھا۔

روبینہ کی حالت بالکل ٹھیک نہ تھی۔ اسے بخار رہنے لگا تھا ۔ جب ڈلیوری کا وقت ایا نعیم روبینہ کو لے کر ہسپتال چلا گیا۔ ڈاکٹر نے جب روبینہ کی حالت دیکھی تو اسے فورا ایمرجنسی وارڈ لے گئے۔ ڈاکٹر نے نعیم کو خوب ڈانٹا کہ مریض کی کیا حالت کر کے لائے ہیں ۔ ڈاکٹروں نے اپنے کاروائی شروع کی۔ انتھک کوشش کے باوجود وہ ماں اور بچے کو نہ بچا سکے۔ نرس نے نعیم کے بانہوں میں ایک مردہ وجود تھما دیا۔ جو نعیم کا وارث تھا۔ وہ بیٹا اس کی جائیداد کا وارث تھا۔ نعیم کی انکھوں سے انسو جاری تھے۔ اور وہ زمین پہ بیٹھتا چلا گیا یہ انسو پچھتاوے کے تھے ۔ اس نے اپنی محبت کو کھو دیا۔ اس وارث کے لیے اس نے اپنی بیٹیوں سے ان کی ماں چھین لی تھی۔ وہ اپنی بیٹیوں اور بیوی دونوں کا مجرم تھا۔ نعیم نے رحمتوں سے منہ موڑا تو اللہ اس کو نعمت کیسے عطا کرتا ہے۔

 

 

 

 

 

 


 

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x