شادی کی کم سے کم عمر کا تعین کیوں ضروری ہے ؟ / تحریر : احسان اللہ خان

شادی ایک بنیادی سماجی اور قانونی رشتہ ہے جو دو افراد کے درمیان جذباتی، معاشی اور سماجی ذمہ داریوں کو جنم دیتا ہے۔ یہ رشتہ نہ صرف افراد کے مابین تعلق کو مضبوط کرتا ہے بلکہ سماجی ڈھانچے، ثقافتی اقدار اور قانونی معیارات سے جڑا ہے۔ شادی کی کم از کم عمر کا تعین ایک پیچیدہ موضوع ہے جو سائنسی، طبی، مذہبی، سماجی اور انسانی حقوق کے تناظر میں جائزہ طلب ہے۔ اس مضمون میں شادی کی کم از کم عمر کو 18 سال مقرر کرنے کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی جائے گی۔
سائنسی اور طبی نقطہ نظر سے، شادی کی کم از کم عمر کا تعین افراد کی جسمانی اور ذہنی نشوونما سے جڑا ہے۔ بلوغت ایک حیاتیاتی عمل ہے جو تولیدی صلاحیت، دماغی نشوونما اور جذباتی استحکام کو شامل کرتا ہے۔ لڑکیوں میں بلوغت عام طور پر 8 سے 13 سال، جبکہ لڑکوں میں 9 سے 14 سال کی عمر میں شروع ہوتی ہے، جس کے دوران ہارمونل تبدیلیاں ماہواری، ثانوی جنسی خصوصیات اور قد میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ تاہم، یہ جسمانی تبدیلیاں شادی جیسے فیصلے کے لیے تیاری کی ضمانت نہیں دیتیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، 15 سے 19 سال کی لڑکیوں میں زچگی سے متعلق پیچیدگیاں، جیسے قبل از وقت ولادت، کم وزن کے بچوں کی پیدائش اور زچگی کے دوران اموات، نوعمر لڑکیوں میں اموات اور معذوری کی بڑی وجوہات ہیں۔ کم عمر لڑکیوں کا تولیدی نظام مکمل طور پر تیار نہیں ہوتا، جس سے حمل کے دوران خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
ذہنی اور جذباتی پختگی شادی کے فیصلے کے لیے کلیدی ہے۔ نوعمری میں دماغ کا پری فرنٹل کورٹیکس، جو فیصلہ سازی، جذباتی کنٹرول اور طویل مدتی منصوبہ بندی کے لیے ذمہ دار ہے، 20 کی دہائی کے وسط تک نشوونما پاتا ہے۔ کم عمر افراد جذباتی اور سماجی طور پر پختہ فیصلے کرنے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتے۔ کم عمر شادی شدہ لڑکیوں میں ڈپریشن، اضطراب اور خود اعتمادی کی کمی جیسے مسائل زیادہ ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، وہ سماجی تنہائی اور تعلیمی مواقع سے محرومی کا شکار ہوتی ہیں، جو ان کی ذہنی نشوونما کو متاثر کرتا ہے۔
رضامندی شادی کا بنیادی تقاضا ہے۔ کم عمر افراد سماجی دباؤ، خاندانی توقعات یا معاشی مجبوریوں کے تحت فیصلے کر سکتے ہیں، جو ان کی خودمختاری کو محدود کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق، شادی کے لیے آزادانہ اور شعوری رضامندی ضروری ہے، جو کم عمر افراد کے لیے مشکل ہوتی ہے۔
مذہبی نقطہ نظر سے، شادی کی کم از کم عمر کا تعین تاریخی اور ثقافتی سیاق پر منحصر ہے۔ اسلامی قانون میں بلوغت شادی کی بنیادی شرط ہے، لیکن جدید فقہا ذہنی اور جذباتی پختگی کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ اسلامی اصولوں کے مطابق، لڑکی کی رضامندی لازمی ہے، اور جدید فقہا تاریخی روایات کو جدید سائنسی حقائق کے تناظر میں دیکھنے کی وکالت کرتے ہیں۔ عیسائیت اور دیگر مذاہب میں بھی کم عمر شادیوں کے منفی اثرات کو تسلیم کرتے ہوئے 18 سال کی عمر کی حمایت کی جاتی ہے، جو انسانی حقوق سے ہم آہنگ ہے۔
سماجی طور پر، کم عمر شادیاں تعلیمی محرومی، معاشی انحصار اور گھریلو تشدد کے خطرات کا باعث بنتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف 2030 تک کم عمر اور جبری شادیوں کے خاتمے کا ہدف رکھتے ہیں۔ ایتھوپیا جیسے ممالک میں، جہاں 60 فیصد لڑکیاں 18 سال سے کم عمر میں شادی کرتی ہیں، تعلیم، صحت اور سماجی رابطوں پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔
بچوں کے تحفظ کے لیے قانونی اقدامات شادی کی کم از کم عمر کو 18 سال مقرر کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوق اطفال کے مطابق، 18 سال سے کم عمر افراد کو خصوصی تحفظ کی ضرورت ہے۔ گوئٹے مالا، نیپال اور جرمنی جیسے ممالک نے اسے قانونی طور پر نافذ کیا ہے۔
شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کے دلائل مضبوط ہیں۔ یہ عمر تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع فراہم کرتی ہے، زہنی پختگی کو یقینی بناتی ہے، اور لڑکیوں کو جبری شادیوں اور صحت کے خطرات سے بچاتی ہے۔ کچھ ثقافتی گروہ اسے والدین کے حقوق یا مذہبی آزادیوں میں مداخلت سمجھتے ہیں، لیکن سائنسی شواہد اور انسانی حقوق کے اصول کم عمر شادیوں کے نقصانات کی تصدیق کرتے ہیں۔
شادی کی کم از کم عمر 18 سال ایک سائنسی طور پر درست اور متوازن فیصلہ ہے جو افراد کی صحت کی حفاظت کرتا ہے اور بچوں کے تحفظ کے عالمی معیارات کو تقویت دیتا ہے۔ اسے نافذ کرنے کے لیے قانونی اصلاحات کے ساتھ سماجی شعور، تعلیمی مواقع اور معاشی خودمختاری کو فروغ دینا ضروری ہے۔




