دوئی کے سائے میں جھلستی اکائیاں / ثبات گُل
ابد سے ازل کے اِن سلسلوں میں
امکانات کے جنگل کے پار
جہاں سرسوں کے کھیت ہیں،
گُندھے سینے والی عورتوں کے مسکن ہیں
اور جُھکی کمر والی لڑکیاں
اپنی ناآسودگیوں کے ساتھ رہتی ہیں
وہاں وقت تحیر شناس بچوں کو جنم دیتا ہے
بند کمروں میں قید
اپنی ہی دنیا میں رہنے والے،
عجلت پسندی کے مارے لوگ
تنہائی جرابوں میں اور
جوتے ہمیشہ دروازے کے پاس رکھتے ہیں
بےثبات لمحوں کی دھول میں اَٹے تعلق کو
قطرہ قطرہ ٹپکتی رات کی سیاہی
کسی روشن دن کا حوالہ نہیں بنا سکتی
میں اور تم،
تم اور وہ۔۔۔
ہم دو، دو کی اکائی بننے کی خواہش میں
پانچواں اور تیسرا دکھ پنپتا رہا
نظم کی اگلی سطر لکھنے میں
سالوں لگ سکتے ہیں
مگر محبت کرنے میں اب بھلا کتنا ہی وقت لگتا ہے؟
ریتلے میدانوں کی وسعت کی کم مائیگی بتاتی ہے
ہم اِسی وقت کے جنمے تحیر شناس بچے ہیں،
کیا تم نہیں جانتے؟
کائناتی فاصلوں میں پھیلے
ممکنہ ہجر کے پاؤں نہیں ہوتے!




