اُردو ادبافسانہ

ابتدا سے پہلے / شبیر علوی


آج پھر میری بیٹی کی آنکھوں میں ستارے جھلملا رہے تھے, مجھے رہ رہ کر خود پر غصہ آ رہا تھا کہ کیوں پنچائیت کے فیصلے پر حامی بھر لی , میں نے دل ہی دل میں تہیہ کر لیا کہ آج پنچائیت کے سامنے اسی کی ہی شکایت کرنا ہے , سرداری کا جنہیں پاس نہیں دستار انہی کے سر پر کیوں ہو ۔۔۔
بیٹی کو دلاسہ دے کر میں نے سرپنچ کو خبردار کرنا مناسب سمجھا ۔۔۔۔۔
سرپنچ کے ہاں جاتے ہوئے راستے پر لگے باغ میں کھلے گلاب بھی بنا خوشبو کے لگ رہے تھے اور نہ ہوا سے جھول رہی شاخوں کے پتے جو ساز بجا رہے تھے بھلے لگ رہے تھے ۔ انسان کے دل و دماغ میں جب انتقام غصہ بھرا ہو تو موسم کی رعنائیوں سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا ۔
میرا بھی اس وقت یہی حال تھا مجھے کچھ سنائی دے رہا تھا اور نہ دکھائی دے رہا تھا ۔
اچانک میرے پیر جب سوکھے پتوں کے ڈھیر پر پڑے تو میرے قدم رک گئے مجھے ایک چیخ سنائی دی , چیخ اتنی دردناک تھی کہ مجھے اپنے سارے معاملات بھول گئے چیخ کے تعاقب پر معلوم ہوا کہ یہ خشک پتوں کی سرسراہٹ میں پوشیدہ آہیں تھیں, جو مجھ سے مخاطب تھے کہ سنو تو زرا شاخ سے پیوستہ پتوں سے کہو ہمارے گرنے کا مذاق مت بنائیں ہم پر ہنسیں نہیں وہ اس لیے خوش ہیں کہ ابھی ان کا آندھیوں سے واسطہ نہیں پڑا ,
انہوں نے فقط بہاروں کی رونق دیکھی ہے خزاؤں کی رت نہیں دیکھی ۔۔
میں نے ان کی بات غور سے سن کر گردن اٹھا کر شاخوں کی جانب دیکھا تو ہواؤں سے لہلہاتے پتے کہہ رہےتھے , ان کی باتوں میں مت آنا یہ تو محض خوفزدہ ہی کرتے ہیں ۔ جب تک بہار ہے کھل کر جینے بھی نہیں دیتے , انہیں خود تو ہریالی راس نہیں تھی اور اب ایڑیوں کے بل ہمارے گرنے کے منتظر ہیں ,
میں نے نیچے دیکھا اور خاموشی سے آگے بڑھنے کےلیے قدم بڑھایا تو خشک پتوں نے بہت آوازیں دیں کہ انہیں سمجھاؤ جس تن آور درخت سے وابستگی پر وہ نازاں ہیں اس نے آخر راکھ ہونا ہے گھن کی خوراک بن کر رہے گا ۔۔ تاذگی بوسیدگی میں لہلہاہٹ سرسراہٹ میں بدلتے دیر نہیں لگتی,
مجھے اپنا وقت بچانا تھا سو ان کی اس آپسی گفتگو کو وہیں چھوڑ کر جلد از جلد سرپنچ تک پہنچنے کےلیے اپنی چال تیز کردی ۔
گلی کی نکڑ پر چرواہے سے ملاقات ہوگئی ۔ وہ اپنی بھیڑ بکریاں فصلوں کی طرف لےجارہا تھا۔
مجھے دیکھتے ہی اس نے بےساختہ کہا گلابوں کو شکست دیتے تمہارے گال یہ عیاں کر رہے ہیں کہ آج پھر تم غصے میں ہو , اس کے یوں بےساختہ بولنے کو پہلے تو نظرانداز کرنے کا سوچا پھر خیال آیا کہ اسے بتاؤں کہ اس کا بولنا فضول ہے ۔ میں نے اسے کہا کہ اپنا منہ بند رکھو تم کون ہوتے ہو میرے یا میرے گالوں متعلق بات کرنے والے ۔ میری بات سن کر اس نے کہا تم جذباتی مت بنو میری بکریاں تمہیں دیکھ کر آپس میں جو کہہ رہیں ہیں وہ سنو ۔۔۔
میں نے بکریوں کی باتیں سنیں تو عجیب سی کوفت ہوئی وہ میرا مذاق بنا رہیں تھیں کہ دیکھو اسے اپنی آمدن کم رکھنے کے نتیجے میں سر پر کتنا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں ۔ آمدن بڑھا لے تو کئی بوجھ خودبخود اتر جائیں گے پاگل نہ ہوتو ۔
مجھے سرپنچ سے ملنے کی جلدی تھی تاہم ان کی باتوں کو فضول کہہ کر تیز قدموں چلنا شروع کر دیا ۔۔
سرپنچ صاحب ڈیرہ پر حقہ پی رہے تھے اور ان کے گرد اور لوگ بھی بیٹھے تھے ۔
مجھے دیکھ کر انہوں نے الگ چارپائی رکھوائی اور خود میری بات سننے اپنی جگہ سے اٹھ کر میرے پاس چلے آئے ,
مجھے سمجھ ہی نہ آیا کہ اس طرح انہوں نے مجھے عزت دی ہے یا تحقیر کی ہے ۔
میں نے سرپنچ سے کہا مجھے سب کے سامنے کہنا ہے , سرپنچ نے کچھ دیر سوچا مجھے سمجھانے کےلیے کچھ کہنا چاہ مگر میں نے جملہ دہرایا کہ مجھے سب کے سامنے ہی سب کچھ کہنا ہے ۔
سرپنچ صاحب نے کہا جیسے تمہاری مرضی ۔
سب لوگ مجھے توجہ سے سن رہے تھے ۔
مجھے اپنی دھی رانی کی آنکھوں میں امڈتے سیلاب سے گہرا رنج پہنچا تھا ۔ اور وہ فیصلہ پنچایت کی مرضی مطابق ہوا تھا تاہم میرا موقف تھا کہ پنچائیت اپنی غلطی تسلیم کرے معافی مانگے اور میری بیٹی کے مجرم کو سزا دے ۔۔۔۔۔۔۔
سرپنچ نے قریب ہی لگے برگد کے درخت کی طرف دیکھا اور مجھے واپس گھر جانے کا کہا
میں نے فیصلہ ہونے تک وہیں بیٹھنے کا عندیہ دیا ۔
برگد کے درخت پر گلہریوں کے آنے جانے پر میری نظر ٹک گئی ۔
کچھ دیر گلہریوں کو بار بار آتے جاتے آپس میں گفتگو کرتے سنا تو میرا خشک حلق کھارے پانی سے تر ہونےلگا ۔
ایک گلہری دوسری سے کہہ رہی تھی کہ اوپر بیٹھے الو آپس میں باتیں کر رہے ہیں کہ زندگی شکوے شکایتوں کےلیے نہیں بلکہ دوسروں کی تربیت کےلیے وقف کرنا ہی بھلائی ہے ۔
بہادر کبھی رہنماؤں یا منصفوں کو نہیں روتے کیونکہ خود ان کے اندر ایک بڑا رہبر موجود ہوتا ہے ۔ جو آغاز سےپہلے انجام کے بعد تک کو دیکھتاہے ۔ وہ
زندگی کی رمز کو جانتاہے کہ پتھر کی سی ہونا ہے, جینا آئینے کےبس میں کہاں,
مگر اسے دیکھو جب ایک سیاہ رات کو رنگین کرنے کی پاداش میں پنچائیت نے اس کی بیٹی کے حق میں فیصلہ سنایا تو اس نے بخوشی قبول کر لیا یہ سوچا ہی نہیں کہ سہرا باندھے گھوڑے پر سوار گدھا ہے کہ گدھ ۔۔۔۔۔۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x