
"ساجے کی ماں کہاں گم ہوئی پڑی ہے ادھر تو آ ذرا… یہ کچھ دن سے تیرا مونہہ مریل مجھ کی بوتھی کی طرح کیوں لٹکا ہوا ہے؟”
"دیکھ بھلیا لوکا۔۔۔ اب تیری میری عمر اس آشقی مشوقی والی نئیں رئی، اور ویسے بھی تو مولبی ہے امام مسجد ہے۔ لوگوں کو دین سکھانا تیرا کام ہے۔ آپنی سوچ اور آپنی نظروں کو واگیں ڈال کے رکھا کر۔۔۔ اور جیبھ کو بھی!”
"اچھا اچھا! زیادہ کچ کچی مت بنا، تو وڈی آئی فلاسفر! وہ راجو آیا تھا، مجھے آج رات اس کے پاس ہی ڈیرے میں رہنا ہے،”
"لعنت ہے تیرے اس بدذات راجو اور تیری یاری پہ۔۔۔ تمہاری قبروں میں کیڑے پڑیں گے۔ تجھے آگ لگے گی، میری اور ان سب بے زبان مظلومنی بچیوں کی لانت ہو تجھ پہ۔۔۔۔”
اماں راجاں بولتی چلی گئی۔ حتیٰ کہ اس کی بتیس سالہ بہو صغراں نے آ کر اسے بلڈ پریشر کی دوا دی۔ چاۓ بنا کر پلائی اور خود بھینسوں کا چارہ کاٹنے کاٹنے لگ گئی۔
مولوی فتح دین ستاون برس کا تھا۔ صرف پرائمری پاس اور دین کی چند کتابیں پڑھا ہوا۔ لیکن وہ ارد گرد کے گاؤں میں اپنے پیشے کے لحاظ سے مشہور تھا۔ اور فتاویٰ بھی دیا کرتا تھا۔ اس کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا تھا۔
"جیسا باپ ویسا بیٹا منحوس، بد بخت، گھٹیا، ذلیل، ان سب کو کیڑے پڑیں۔۔۔”
"اماں اب بس بھی کر، جو ہونا تھا ہو گیا، اب اپنے بگے جھاٹے میں کھے ڈلواۓ گی کیا سب کو سنا سنا کر؟”
"تو کھوتی ہے بالکل اپنی ماں جیسی، اب بچا بھی کیا ہے؟ اب تو یہ سوچ رہی ہوں کہ اوپر کس منہ سے جاؤں گی؟ رب کو کیا منہ دکھاؤں گی۔۔۔!”
"تو کیا تو نے سب کچھ کیا ہے؟ تو کیوں پچی ہوتی یے؟ لج تو ان مردوں کو آنی چاہئیے تھی.۔۔”
صغراں مولوی فتح دین کے اکلوتے بیٹے تصور کی گھر والی تھی۔ کچھ دن پہلے گھر میں کوئی لڑائی ہوئی جس کا مولوی فتح دین کو کوئی علم نہ تھا لیکن اس دن سے گھر کا ماحول کھچا کھچا تھا۔ تصور گھر کم ہی آتا تھا۔ لیکن مولوی فتح دین کی بیوی کا ڈپریشن کے مارے برا حال تھا۔
"مولبی صاب، اب ہم کر بھی کیا سکتے ہیں! ایک یہی طریقہ رہ گیا ہے گھر کی بات گھر میں رکھنے کا۔۔۔ اب ہماری عجت آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ تو شرح شرم سب جانتے ہیں۔۔۔ اب اور ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟”
” بی بی پریشان مت ہو، یہ ریاض بھائی ہیں یہ مسئلہ حل کر دیں گے۔ یہاں بہت سارے لوگوں کے مسئلے انہی کی مدد سے حل کئے ہیں۔ بچی کا گھر دوبارہ بس جاۓ گا۔ یہ آپ کو سند بھی دے دیں گے۔ اور کسی کو بتائیں گے بھی نہیں، میری گارنٹی ہے۔” مولوی فتح دین نے بی بی کو جواب دیا۔
"اچھا تو اب ہم چلتے ہیں۔ پر مولبی صاب یہ ہماری عجت کا ماملا ہے۔۔۔ آپ کو اللّٰہ رسول کا واسطہ۔”
بی بی زیادہ بات کر کے نہ خود شرمندہ ہو نہ ہمیں کر۔ مقررہ وقت پر آ جانا۔”
"رب راکھا مولبی جی.”
"رب راکھا۔”
"فتح دین آج رات تو پھر تو یہیں رہے گا نا؟”
"یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے ریاجیا؟”
مولوی فتح دین کی آنکھوں میں خباثت کچھ اور زیادہ چمکنے لگی۔
"چل بہو۔۔۔ آج یہ معاملہ بھی حل کر آئیں۔۔۔ تو نے آپنے بندے کی مرضی پوچھ لی ہے نا پھر؟” اماں راجاں نے اپنی بہو سے کہا۔
"ہاں اماں۔ وہ کہتا ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔” بہو نے جواب دیا۔
"اس بے غیرت کو ہو بھی کیسے سکتا ہے اعتراض۔ جیسا حرامی باپ ویسا حرامی بیٹا”
"مولبی فتح دین، سنا کیسی رات گجری تیری؟
پر کل رات کتے کیوں بھونک رہے تھے؟” ریاض نے مولوی فتح دین سے پوچھا۔
"ریاجیا، سب سے بڑا کتا تو یہ نفس ہے، باہر والے تو بس روٹی پانی کیلئے ہی بھونکتے ہیں۔ پر تو یہ بتا وہ بی بی آئی تھی واپس؟ لے گئی اسے؟”
"ہاں اور اسے سبز تصدیقی پرچی بھی دے دی تھی۔”
"ریاجیا، یہ کل رات ماملا بہت نازک تھا، یہ کون لوگ تھے؟” مولوی خباثت سے ہنسا اور اس کی شکل پہ نحوست مزید گہری ہو گئی۔
"او مولبی جی چھڈو تسیں کی کرنا اے پچھ کے۔۔۔ تسین گِٹکاں گن کے کی کرنیاں نیں، تسیں امب چوپو بس۔”
” ریاجے یار رات کو بجلی بھی بند تھی مجھے کچھ شکل صورت کا تو پتہ نہیں چل سکا کہ یہ کون تھے۔ لیکن میں نے کام کر دیا۔ چلو بیچاروں کی عزت تو بچ گئی نا۔ اچھا میں اب چلتا ہوں ان رات والوں کو بھی تصدیقی پرچی دے دینا۔ میں نے پرچی پر آپنے دستخط کر دئیے تھے۔ پر تو نے یہ لال پِلسن کیوں رکھ لی؟ نیلی رکھا کر۔” مولوی فتح دین بولا۔
"انہوں نے نام پتہ نہیں لکھوایا بس کام کروایا اور خالی پرچی لے کر چلے گئے۔۔۔”
"تو ریکارڈ کیسے رہے گا؟ اگر کوئی ثبوت مانگے تو کیا دیں گے ہم؟” مولوی نے گھبرا کر ریاض سے سوال کیا۔
” مولبی جی یہ پہلے بھی آ چکے ہیں ایک اور پارٹی کو لے کر، اسے بھی طلاق ہو گئی تھی ان کا وٹے سٹے کا ویاہ تھا۔ وہ بڑے عجت دار بندے ہیں، نام نہیں لکھواتے نہ شکل دکھاتے ہیں۔ بس کام کرواتے ہیں۔” ریاض نے جواب دیا۔
"آ گیا ہے تو منحوس۔۔۔!!! چار دن تیری شکل نہیں دیکھی تو گھر میں برکت آ گئی تھی۔” مولوی فتح دین کی بیوی نے نفرت سے کہا۔
"ہاں اور تو کہاں تھی؟ اور بہو تین دن بعد آئی ہے پیکے سے۔ پھر بھی اس کی طبیعت تھکی تھکی ہے کیا وجہ ہے؟”
"میں ریاجو کے گاؤں گئی ہوئی تھی حکیم کے پاس تیری بہو کو چیک کروانے۔”
مولوی فتح دین بات کر ہی رہا تھا کہ اچانک وہ دل کو پکڑ کر گرا اور پھر کبھی نہ اٹھ سکا۔
آج مولوی فتح دین کا ساتویں کا ختم تھا۔ گھر میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ راجاں کبھی مطمئن ہو جاتی کبھی پھر پریشان ہو جاتی۔ "پتہ نہیں کیا بنا ہو گا اس کا۔۔۔ اللّٰہ ہی ماف کرے تو کرے۔”
” اماں ابے کو آخر ہوا کیا تھا؟” مولوی کے بیٹے نے آخر پوچھ ہی لیا۔
"پتر ادھر تیرے بیڈ کے قریب ہی گرا پڑا تھا۔ ہمیں تو ڈاکٹر نے بتایا کہ اسے دل کا دورہ پڑا ہے۔۔ یہ سبز رنگ کی پرچی اس کی جیب سے نکلی ہے۔ نہ کوئی نام لکھا ہے نہ پتہ بس اوپر اس کے دستخط ہیں لال پِلسن سے۔۔۔ لگتا ہے اسے پتہ چل گیا تھا۔۔۔ میں اسے کتنے پلوتے دیتی تھی پر وہ کتنا غیرت مند نکلا۔۔۔”
"لال پنسل۔۔۔ اماں یہ سبز پرچی۔۔۔ پھر ہماری بھین بھی۔۔۔ ریاجا۔۔۔ اور ابے کو بھی پتہ چل گیا۔۔۔ یہ تو موت سے بھی بدتر کام۔ہو گیا ہے ہمارے ساتھ۔۔۔”
"ارے بھاگ صغراں یہ دیکھ یہ تچھُو کو کیا ہو گیا ہے۔۔۔ کہیں یہ بھی تو تیرے ابے کے مگر تو نہیں چلا گیا۔۔۔ ہاۓ میرا غیرتمند پتر۔۔۔” یہ حلالہ ہمارے پورے گھر کو حلال کر کے رکھ گیا ہے۔




