اُردو ادباُردو نثر

بنگلے کی باؤلی میں بیٹھے ناطق سے فی البدیہہ مکالمہ/منیر احمد فردوس

جاوید بخاری: یار منیر فردوس بڑی زبردست کتاب چھپی ہے اور کیا شاندار طباعت ہے۔

(یہ پہلا جملہ تھا جو میرے کانوں میں پڑا۔ سرائیکی شاعر و مترجم دوست جاوید بخاری نے ناطق کا افسانوی مجموعہ بنگلے کی باؤلی میرے ہاتھ سے لے کر اس کی ورق گردانی کرتے ہوئے کہا۔ وہ اپنے دفتر میں چاروں طرف بکھری فائلوں کے بیچ کسی قدیم نوادرات کی طرح کرسی میں پھنسا بیٹھا تھا۔ )

فردوس: ظاہر ہے، کتاب جہلم بک کارنر نے چھاپی ہے، اوپر سے رائٹر بھی ناطق ہے تو کتاب کیسے شاندار نہیں ہو گی ؟

جاوید بخاری: پچھلے دنوں ناطق کا فون آیا تھا ،وہ میرے سرائیکی تراجم نہج البلاغہ اور دیوانِ ابو طالب کی تعریف کر رہا تھا۔

فردوس: اچھا؟؟؟ یہ تو بڑی اچھی بات ہو گئی ورنہ ناطق کم ہی کسی کی تعریف کرتا ہے۔ چلو اس بہانے ناطق سے فون پر بات کرتے ہیں۔
(ناطق کا نمبر ملایا تو دوسری گھنٹی پر ہی اس نے اٹینڈ کر لیا۔)

ناطق: السلام علیکم فردوس بھائی۔ کیسے مزاج ہیں؟

فردوس: وعلیکم السلام ۔۔۔جی ناطق میں ٹھیک ہوں۔ یار ناطق میرا ایک دوست ہے جاوید بخاری، وہ آپ کی کتاب بنگلے کی باؤلی کی طباعت کی بڑی تعریف کر رہا ہے بلکہ وہ تو اس پر عاشق ہو گیا ہے (ہنستے ہوئے)۔ یہ لیں اس سے بات کریں۔

جاوید بخاری: سوہنڑاں سئیں، کیاحال ہے؟ جاوید بخاری عرض گزار ہوں۔ (چند منٹ تک دونوں کی بات چیت ہوتی رہی اور دونوں وٹے سٹے میں ایک دوسرے کی تعریفیں کرتے رہے۔ اس کے بعد جاوید بخاری نے موبائل میرے حوالے کر دیا، جو ناطق اور میرے درمیان مکالمے کا باعث بنا۔)

ناطق: فردوس بھائی، مجھے بڑی شرمندگی ہو رہی ہے کہ میں آپ کی کہانیوں کی کتاب بگھی، رات اور پرندے نہ پڑھ سکا۔ ہوا دراصل یوں کہ آپ کی کتاب شہاب صفدر میرے لیے لایا ضرور تھا، میں نے آپ کی کتاب کے ساتھ تصویر بھی بنوائی تھی لیکن نہ جانے کیا ہوا کہ وہ غلطی سے کتاب واپس اپنے ساتھ لے گیا۔ یوں کتاب مجھ تک پہنچ نہ سکی۔

فردوس: اچھا؟؟؟ مگر مجھے تو شہاب صفدر نے یہی بتایا تھا کہ میں نے آپ کی کتاب ناطق کے حوالے کر دی تھی اور اس سے کہیں گم ہو گئی ہے۔

ناطق: نہیں فردوس بھائی، کتاب مجھ سے گم نہیں ہوئی۔ شہاب صفدر غلطی سے واپس لے گیا تھا اور پھر مجھے کتاب ملی ہی نہیں۔

فردوس: چلو کوئی بات نہیں، میں کتاب دوبارہ بھجوا دوں گا۔

ناطق: بڑی مہربانی فردوس بھائی۔

فردوس: اچھا ناطق، آپ کا افسانوی مجموعہ بنگلے کی باؤلی میرے سامنے پڑا ہے اور میں نے اسے پڑھ بھی لیا ہے۔ کیا ایک قاری کی حیثیت سے اپنی محبت بھری رائے دے سکتا ہوں؟

ناطق: ہاں ہاں کیوں نہیں فردوس بھائی، ضرور رائے دیں۔

فردوس : دیکھیں ناطق یار، قاری ہمیشہ اپنے ادیب سے عقیدت رکھتا ہے، اس سے محبت کرتا ہے اور اچھی یا بری رائے بھی وہ محبت میں ہی قائم کرتا ہے۔ آپ کے اور میرے درمیان بھی لفظ و حرف کی نسبت سے محبت کا یہی تعلق قائم ہے۔

ناطق: جی فردوس بھائی، آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں، آپ بات کریں۔

فردوس: دیکھو یار ناطق، میں بطور قاری سیدھی بات کرتا ہوں۔ مجھے تمہارے ٹائٹل افسانے بنگلے کی باؤلی سے بالکل بھی اطمینان نہیں ہوا۔ بلکہ حیرت اس بات پر ہے کہ ناطق جیسے قصہ گو سے ٹائٹل افسانے کے انتخاب میں بھلا چُوک کیسے ہو سکتی ہے؟ سچ کہوں تو مجھے یہ افسانہ نسبتاً کچا محسوس ہوا۔ اس کے انجام کے آثار تو کہانی کے درمیان ہی سے نمایاں ہونے لگتے ہیں اور قاری افسانہ ختم ہونے سے پہلے ہی انجام تک پہنچ جاتا ہے۔ جبکہ اسی مجموعے میں شکاری کی جھیل اور مغل پورہ کی حویلی جیسے بڑے شاندار افسانے موجود ہیں۔ میرے خیال سے وہ ٹائٹل افسانے کا حق ادا کر سکتے تھے۔ (ناطق نے بے ساختہ قہقہہ لگایا۔)

ناطق: فردوس بھائی، قسم سے آپ بالکل درست کہہ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ میں خود بھی بنگلے کی باؤلی کو ٹائٹل افسانہ نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ یہ تو پبلشر کا فیصلہ تھا، اس میں میری مرضی شامل نہیں تھی۔ میں تو درویش کا مقبرہ کو ٹائٹل افسانہ بنانا چاہتا تھا۔ لیکن مجھے خوشی ہوئی کہ آپ نے کھل کر اپنی رائے دی۔ میں تو ہمیشہ یہی کہتا آیا ہوں کہ لوگ کھل کر اپنی رائے کا اظہار کریں، بس اس میں بغض شامل نہ ہو۔

فردوس: یار ناطق، ایک بات کہوں؟

ناطق: جی بھائی فردوس ضرور کہیں ۔

فردوس: مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ یہ بغض ہوتا کیا ہے؟ ادب میں اس کا کیا کام ہے؟ ادیب اور قاری کے درمیان اس لفظ کا کیا تعلق بنتا ہے؟ میں تو حیران ہوتا ہوں کہ یہ عجیب سا لفظ ادب کے ساتھ کیسے، کب اور کیوں چپک گیا؟ میں ذاتی طور پر کسی بھی قاری کی آزادانہ رائے دینے کو قطعی بغض نہیں سمجھتا۔ میری سمجھ میں یہ بات کبھی نہیں آئی۔ ناطق یار، میرا مشورہ تو یہی ہے کہ ان معاملات سے باہر نکلو اور کوشش کرو کہ بغض جیسے لفظ کو ادب سے دور ہی رکھو۔

(حاشیہ۔۔۔ یہ تو بدقسمتی سے ہمارا تنگ نظر سماجی چلن بن چکا ہے کہ بغض جیسے کریہہ لفظ کو سماج کے مذہبی بیوپاریوں نے ایک مستقل تجارتی جنس کے طور پر نہ صرف اپنا رکھا ہے بلکہ اپنا تعفن زدہ مال بھی دھڑا دھڑ بیچ رہے ہیں۔ وہ جانے اور ان کا بیوپار جانے، مگر ادب میں بغض جیسی اصطلاح کا کوئی مطلب نہیں بنتا۔ ادیب اور قاری کے درمیان تو لفظ و حرف کا اتنا پیارا اور پاکیزہ تعلق ہوتا ہے جو کسی بھی ادیب کا نہ مذہب دیکھتا ہے، نہ عقیدہ، نہ ملک اور نہ ذات پات، کیونکہ لفظ سے جڑا تعلق بنیادی طور پر ایک آفاقی رشتہ ہوتا ہے جو محبت، سماجی عقیدت اور فکر کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ کسی بھی تخلیق پر اختلافِ کیا جا سکتا ہے، اس پر تنقید ہو سکتی ہے، سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں، مگر بغض کہاں سے آ ٹپکا؟ یعنی کوئی تعریف کر دے تو ٹھیک، اور اگر کوئی منطقی نوعیت کی مدلل تنقید کر دے تو فوراً اسے بغض سے جوڑ دینا قطعی طور پر ادبی رویہ نہیں ہو سکتا جبکہ ایک عام قاری ادب کی انتہائی بگڑی ہوئی شکل کسی طور نہیں دیکھنا چاہتا۔)

ناطق: فردوس بھائی، آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں۔ لیکن یقین کریں، لوگ ویسے نہیں ہوتے جیسے نظر آتے ہیں۔ میں کچھ کہوں، کچھ لکھوں یا کچھ بولوں تو بعض لوگ فوراً میری منجی ٹھوک دیتے ہیں (یہ کہتے ہوئے ناطق ہنس پڑا۔)

فردوس: ہاں ناطق یار یہ بات تو سچ ہے۔ ان دنوں سوشل میڈیاں ہر طرف کافی منجیاں بھی ٹھوکی جا رہی ہیں۔ (دونوں ہی ہنس پڑے)

ناطق: اچھا فردوس بھائی، اب آپ ہی بتائیں۔ لوگ میرے بارے میں یہ بھی کہتے ہیں کہ میں شیعوں کا رائٹر ہوں اور اپنی تحریروں میں شیعہ ازم کو پروموٹ کرتا ہوں۔ اب میں سمجھ نہیں پاتا کہ لوگ یہ رائے کیسے قائم کر لیتے ہیں؟ کیا مذہبی حوالے سے ناول نہیں لکھا جا سکتا؟

فردوس: جی ہاں ناطق! آپ کے بارے میں عام بیانیہ تو یہی پایا جاتا ہے کہ ناطق شیعہ لوگوں کا رائٹر ہے اور وہ شیعہ ازم کو ہی پروموٹ کرنے میں لگا ہے۔ لیکن میرے نزدیک اصل سوال یہ ہے کہ آپ کے بارے میں لوگوں کا یہ متنازعہ بیانیہ آخر کیوں قائم ہوا؟ ادب کا عام قاری کیوں ایسا سوچنے لگا کہ ناطق شیعہ فرقے کا رائٹر ہے؟

ناطق: فردوس بھائی یہی تو وہ بغض ہے جس کی میں بات کرتا ہوں۔

فردوس: نہیں ناطق! میں آپ کی بات سے بالکل بھی اتفاق نہیں کرتا۔ دیکھو یار! ہم دونوں کہانی کار ہیں، ہمارے درمیان ایک ادبی تعلق ہے۔ میں آپ کے بارے میں جو بھی بات کرتا ہوں وہ آپ کے ادب کو دیکھتے ہوئے آپ کی محبت میں کرتا ہوں، اس میں کسی قسم کی کوئی نفرت، غصہ یا بغض شامل نہیں ہوتا۔

ناطق: جی فردوس بھائی۔ میں مانتا ہوں۔

فردوس: میرا یہ ماننا ہے کہ ادب میں مذہبی بیانیہ اپنانا کوئی بری بات نہیں ہے اور نہ ہی اس میں کوئی قباحت ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ مذہب کو فنی سطح پر ادب کا حصہ بنانا کس طرح سے ہے؟ یہاں سے ادیب کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ اب دیکھو نا ۔۔۔ میں نے آپ کا ناول کماری والا پڑھ رکھا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک شاندار ناول ہے اور بہت عمدہ کہانی ہے، جس کا کینوس اتنا وسیع ہے کہ بیسیوں کردار مل کر ایک طلسمی فضا بناتے ہیں اور اپنے قاری کو وہ اس فضا میں لے آتے ہیں جو اس کے لیے تسکین کا باعث بنتی ہے مگر بطور قاری اگر دوسری طرف کا سچ کہوں تو اس میں آپ کا مذہبی سطح پہ جذباتی پن قاری کو نشتر بھی چبھوتا ہے، اور قاری کو صاف لگتا ہے کہ آپ اپنے اندر کا غصہ یا جذباتی رویہ چھپا نہیں پا رہے جو ناول میں الگ تھلگ سا تیرتا ہوا نظر آتا ہے، جس کا اظہار میں نے آپ کے قریبی دوست شہاب صفدر سے بھی کیا تھا کہ یار یہ ناطق اپنے ناول میں مذہبی بیانیہ کو لے کر اتنا جذباتی کیوں ہو جاتا ہے اور وہ کہانی میں الگ سے کیوں دکھائی دیتا ہے؟ اس پر شہاب صفدر نے میری تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یار ہم بھی ناطق کو یہی سمجھاتے رہتے ہیں مگر وہ باز نہیں آتا۔

ناطق: فردوس بھائی، اس پر ہمارا نظریاتی اختلاف ہو سکتا ہے۔

فردوس: بالکل ہو سکتا ہے اور ہونا بھی چاہئے۔ میں ہمیشہ نظریاتی اختلاف کو ویلکم کرتا ہوں۔ کیونکہ نظریاتی اختلاف ہی وہ پیمانہ ہے جو مکالمے کی فضا بناتا ہے، اسی سے نئے فکری امکانات پیدا ہوتے ہیں اور نئے ادبی زاویئے جنم لیتے ہیں۔ اس لئے میں ہمیشہ نظریاتی اختلاف کی قدر کرتا ہوں۔

ناطق: فردوس یار، میں تو اکثر اپنے مخالفین سے یہی کہتا ہوں کہ اگر میرا بیانیہ غلط ہے تو اسے رد کرو اور اس کے مقابلے میں اپنا بیانیہ لے آؤ نا۔ کیوں نہیں لاتے اپنا بیانیہ؟

فردوس: ناطق یار! آپ کی بات سرے سے ہی غلط ہے۔ مثال کے طور پر اگر مجھے اسلام آباد جانا ہے اور اس کے لئے سی پیک کا صاف ستھرا راستہ موجود ہے مگر میں وہ راستہ اپنانے کی بجائے زگ زیگ جیسا کوئی مشکل ترین راستہ چن لوں اور اوپر سے اصرار بھی کرنے لگ جاؤں کہ اس کے مقابلے میں اپنا کوئی راستہ لے آؤ تو لوگ تو مجھے پاگل ہی کہیں گے۔ چونکہ بات ادب میں مذہبی بیانیہ کی ہو رہی ہے تو ایک مزے کی بات بتاؤں؟

ناطق: جی فردوس بھائی۔

فردوس: آپ نے میرا اولین افسانوی مجموعہ سناٹوں کا شہر شاید نہیں پڑھا ہو گا۔ اس میں میرا ایک افسانہ ہے خوابوں سے ڈرا ہوا آدمی۔ پتہ ہے اس افسانے کی حقیقت کیا ہے؟ اس کا محرک یومِ عاشورہ سے متعلق ایک خواب ہے جو میں 1990 سے دیکھ رہا ہوں اور آج تک میری اس خواب سے جان نہیں چھوٹی۔ میں خواب میں اپنے شہر کے چوراہوں، بازاروں، امام بارگاہوں اور گلی کوچوں میں یومِ عاشورہ کا جلوس گزرتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ ہر طرف ماتم داری ہے، سینہ کوبی ہے اور زنجیر زنی ہو رہی ہے ۔ جلوس دیکھتے دیکھتے اچانک کچھ لوگ خون آلود برچھیاں اٹھائے غیض و غضب سے میری طرف بڑھتے ہیں، اور میں ڈر جاتا ہوں۔ وہ جیسے ہی مجھے برچھی مارنے لگتے ہیں تو عین اسی وقت میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ مجھے یہ خواب ہر ڈیڑھ دو ماہ بعد آتا ہے۔ چونکہ میرا تعلق اہلسنت گھرانے سے ہے تو 1997 میں میں نے اس خواب کی تعبیر کے لئے ایک مذہبی سکالر سے رابطہ کیا۔ خواب سننے کے بعد آپ کا کیا خیال ہے ناطق انہوں نے کیا کہا ہو گا؟

ناطق: مجھے کچھ اندازہ نہیں۔

فردوس: اس مذہبی سکالر کے پہلے جملے ہی نے میرے پیروں تلے سے زمین نکال دی۔ انہوں نے کہا کہ بچے آپ کا ایمان شدید خطرے میں ہے۔ آپ مخالف فرقے کے تمام لوگوں سے فوری طور پر دوستیاں، تعلق اور رشتے ناطے سب ختم کر دیں۔ یقین کریں ناطق میں اُس دن ان مذہبی سکالر سے شدید طور پر غیر مطمئن ہوا اور وہاں سے یہ سوچ لے کر اٹھا کہ ایک ذمہ دار مذہبی سکالر آخر کیسے اتنی غیر ذمہ دارانہ بات کر سکتا ہے؟ میں کیسے اپنے سماج، اپنے لوگوں سے کٹ کر الگ تھلگ رہ سکتا ہوں؟ یہ تو سماج میں نرا فساد پھیلانے والی ہے جبکہ روئے زمین پر فساد خدا کو بالکل بھی پسند نہیں ہے۔ حالانکہ اس وقت میں بیس بائیس سال کی انتہائی جذباتی، خطرناک اور کچی عمر میں تھا اور بآسانی ٹریپ بھی ہو سکتا تھا (مگر یہاں مجھے تبلیغی جماعت سے وابستگی اور اس کے بیانیہ نے ہی سنبھالا دیا تھا جہاں سے میں نے اعتدال پسندی سیکھی تھی جو آج بھی میرے لئے مشعلِ راہ ہے ۔) بہرحال میں اس دن بڑا مایوس لوٹا مگر مذہبی سکالر کی بات میرے دل میں گڑ گئی۔ پھر میں نے افسانہ لکھا "خوابوں سے ڈرا ہوا آدمی”، جس میں میں نے کسی پر کوئی تنقید نہیں کی، مذہبی پلاٹ ہونے کے باوجود میں نے اپنا مذہبی بیانیہ اپنانے یا کسی فرقہ، مسلک و عقیدہ کو غلط یا درست ثابت کرنے کی بالکل بھی سعی نہیں کی۔ بس منطقی طور پر اپنی بات قاری کے سامنے رکھ کر فیصلہ قاری پر چھوڑ دیا کہ وہ خود کوئی نتیجہ اخذ کرے ۔

(حاشیہ: میرے نزدیک مذہب، سیاست، صحافت، کھیل، تاریخ، فلسفہ، مذہبی سماجی ثقافتی رسم و رواج وغیرہ سب ادب کا حصہ ہیں اور ان میں سے کوئی بھی موضوع بن سکتا ہے ، مگر اس کے لئے بات پھر وہی ہے کہ انہیں فن کی سطح پر ادب کا حصہ بنانا کس طرح سے ہے؟ وہ کون سا ادبی پیمانہ یا ادبی ٹول ہے جس سے کوئی بھی مذہبی بیانیہ تخلیق کے اندر یوں ضم ہو جائے کہ اسے متن سے الگ کر کے دیکھا ہی نہ جا سکے جیسے آٹے میں نمک کی مثال۔ یہاں سے ادیب کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے، خاص طور پر مذہبی بیانیہ کے تناظر میں بات کروں تو اس موضوع کو ادب کا حصہ بناتے وقت ادیب پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ خود کو تنازعات سے بچاتے ہوئے وہ ایسا فکری بیانیہ تشکیل دے کہ اس سے نہ تو صدیوں کی رائج تاریخ مسخ ہو، اور نہ ہی ادیب کے ہاں مخصوص مذہبی نظریے یا عقیدے کا پرچار نظر آئے، بس ہر طرف نری کہانی کی خوشبو پھیلی ہو اور آخر میں قاری کے ہاتھ مخصوص مذہبی بیانیہ کی بجائے ایک نئی طرح کی فکری بصیرت ہاتھ لگے جس کی روشنی میں اس پر سنجیدہ فکر کے نئے نئے در وا ہوں۔ میرے نزدیک بڑا ادیب وہی ہے جو اپنی شدید ترین مذہبی وابستگیوں کو بھی فن کی بٹھی میں اس طرح پگھلا دے کہ قاری کو صرف کہانی دکھائی دے، مصنف کا عقیدہ ، مسلک یا مذہبی بیانیہ نہیں۔ جیسے اسد محمد خان کا افسانہ شہرِ کوفہ کا ایک آدمی جو ایک شخص کے پچھتاوے کا علامتی اظہار ہے، عصمت چغتائی کا معرکہِ کربلا پر لکھا شاندار ناول "ایک قطرہِ خون "جو خالص تاریخی بیانیے کی بجائے سچے جذبات اور عقیدے کی بجائے عقیدت کے بیانیہ سے لکھا گیا ہے، یہاں تک کہ ٹالسٹائی کے آخری دور کی کہانیوں میں بھی ان کے مذہبی رجحانات ملتے ہیں مگر فکر میں گندھے ہوئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ فکری بیانیہ اور مذہبی بیانیہ میں کافی فرق پایا جاتا ہے اور اسے کسی بھی تخلیقی متن کے اندر آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔ اگر کہانی میں ادیب کا مذہبی بیانیہ مکھن کی طرح سے کہانی کی سطح پر الگ سے تیرتا ہوا نظر آئے اور کرداروں کی زبان میں چھپ کر ادیب خود بولنے لگے تو سمجھ لیجئے کہ کہانی کار نے اپنا مذہبی نظریہ تھوپنے کی کوشش کی ہے اور اگر وہ مذہبی بیانیہ صدیوں سے رائج تاریخی بیانیہ کے متصادم ہوا تو ردِعمل کے طور پر ادیب دشنام طرازی کی زد میں بھی آ سکتا ہے جو کہ ادب کے لئے قطعی اچھی صورتحال نہیں ہے، جبکہ دوسری طرف کہانی میں مذہبی سطح پر فکری بیانیہ ایک خوشبو کی طرح ہوتا ہے جو متن میں پوری طرح سے رچا بسا ہوتا ہے اور جس سے عام قاری حظ اٹھانے کے ساتھ ساتھ فکری سطح پر بھی مالا مال ہو کر متن سے باہر نکلتا ہے اور اپنے ادیب سے عقیدت کا بھرپور اظہار بھی کرتا ہے۔ اچھا ناول کسی بھی نظریے کو کہانی میں جذب کر دیتا ہے۔ اور کمزور ناول کہانی کو نظریے کا اشتہار بنا دیتا ہے۔
میلان کنڈیرا نے بڑی اہم بات کہی ہے کہ ناول کا کام حتمی سچائی سنانا نہیں بلکہ انسانی وجود کی پیچیدگی کو دریافت کرنا ہے۔ جب ناول صرف ایک نظریے کی خدمت میں لگ جائے تو اس کی فنی آزادی محدود ہو جاتی ہے۔ نوٹ: ناول سے متعلق یہ میرے ذاتی خیالات ہیں، انہیں کلی یا جزوی طور پر رد و قبول بھی کیا جا سکتا ہے۔)

ناطق: فردوس بھائی۔ اس وقت میں اوکاڑہ گاؤں آیا ہوا ہوں عید کی چھٹیوں پر، اس موضوع پر لمبی بات ہو سکتی ہے۔ آپ کبھی میرے ہاں اسلام آباد آئیں نا، مل بیٹھیں گے، خوب گپ شپ لگائیں گے، بات چیت کریں گے مگر آپ ادھر آتے ہی نہیں ۔

فردوس: ضرور ناطق یار، انشاء اللہ زندگی نے وفا کی تو جون میں چکر لگاؤں گا۔

ناطق: چلو ٹھیک ہے۔ خدا حافظ

فردوس: بہت شکریہ ناطق، اتنا سارا وقت دینے کے لئے۔ اللہ حافظ

Author

Related Articles

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x