
روشن پورہ حافظ آباد سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر سرسبز کھیتوں، صاف ستھری سرمئی سڑکوں، ہرے بھرے کناروں میں گھر کر بہتی نہروں اور پرانے رہٹ کی دلنشین مدھر آوازوں میں گھرا ایک کچا سا گاؤں تھا۔
یہاں ہر طبقہ اور ہر مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے تھے۔ یہ لوگ سیدھے سادھے، آپس میں پرانے اور گہرے تعلقات رکھنے والے لوگ تھے۔ یہاں راتیں چوروں اور ڈاکوؤں کی بجاۓ صرف جنگلی جانوروں کا ڈر رہتا تھا۔ جو اگر بھوکے نہ ہوتے تو کسی کو کچھ نہ کہتے۔ یہاں اگر کوئی چور ڈاکو تھا بھی تو وہ چاچے شپھے کا لحاظ کر کے گاؤں میں کوئی چوری نہ کرتا۔ چاچا شپھا ساٹھ ستر کے پیٹے میں زندگی کی سانسیں تن تنہا پوری کرتا ہوا بزرگ تھا۔ وہ کافی عرصہ قبل روشن پورہ میں آیا اور یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ اس کے آگے پیچھے کوئی نہ تھا۔ نہ ہی بیوی بچے تھے۔ اسے گاؤں والوں نے رہنے کیلئے ایک کمرہ، دو وقت کا کھانا اور تھوڑی سی تنخواہ پر چوکیدار رکھا ہوا تھا۔ چاچا شپھا پنڈ کے بچوں کا پسندیدہ چاچا تھا۔ وہ روز شام کو اس کی کہانیاں سننے اکٹھے ہوتے۔ گاؤں کے بچوں کو اگر ڈھوڈنا ہوتا تو وہیں ملتے تھے۔ چاچا ان کو کبھی کبھی ٹافی گولی بھی بانٹتا تھا۔
پترا اگر رنگ اچھے برے کردار کا فیصلہ کرتے تو بگلا اور طوطا جنتی ہوتے اور کوا جہنمی۔ ہر انگریز جنتی ہوتا اور ہر حبشی دوزخی ہوتا۔۔ پر چاچا میں نے تو اتنا ہی کہا تھا کہ تو شیعہ تو ہے نہیں پھر ہر وقت کالے کپڑے کیوں پہنے رکھتا ہے ؟ پتر کرتوت اچھے ہوں تو ہر رنگ عزت دیتا ہے۔۔۔ کبھی دودھ دہی بیچنے سے فرصت ملے تو غور و فکر بھی کر لیا کر۔
چاچے شپھے چوکیدار نے غلام حسین دودھی کو جواب دیا اور آگے نکل گیا۔۔۔ "بیچارے کا نہ آگے ہے نہ پیچھے، ساری رات پتہ نہیں کیا کیا سوچتا رہتا ہے۔ بڑی ڈونگی باتیں کرتا ہے۔ اور کچھ دن سے تو زیادہ ہے افلاطون بن گیا ہوا ہے” غلام حسین نے اپنے اکلوتے گاہک کو بتایا۔ گاہک بغیر دلچسپی لئے اور بغیر جواب دئیے آگے بڑھ گیا۔
"ساجے، پتر میرا لاچا نیچے سے کاٹ کر برابر کر دے۔ یہ مٹی میں رلتا ہے اور پھر اس میں نماز نہیں ہوتی۔” شپھے نے ساجد درزی کو اپنا پھٹا ہوا لاچا دیتے ہوۓ کہا۔ چاچا گھٹنوں تک نا کر دوں ؟ ایسے تو وہابی کرتے ہیں۔ تو اب وہابی تو نہیں بن گیا ؟؟؟ ساجے درزی نے کہا۔ "میں تیرے پیو دادے کی عمر کا ہوں زبان سنبھال کے بات کیا کر۔۔۔” چاچے شپھے نے اونچی آواز میں ساجے کو ڈانٹا۔ چاچا تو تو ناراض ہی ہو گیا۔ میرا مطلب یہ تھا کہ یہ پھٹا ہوا ہے اور کچھ زیادہ کاٹنا پڑے گا پھر یہ گھٹنوں تک اونچا ہو جاۓ گا۔۔۔ ساجے نے جواب دیا۔ ” اور آگے سوہنے نبی کا میلاد آ رہا ہے اس کیلئے بھی میرا ایک کرتا تیار کر دے۔ پیسے مل جائیں گے تجھے۔” چاچا شپھا اسے ہدائت دے کر آگے گزر گیا۔
تو نے کچھ سنا گامے ؟؟؟ یار وہ چاچا شپھا کل رات کو مر گیا۔۔۔ ایک گاہک نے افسردگی سے غلام حسین کو بتایا۔ یار وہ کل ہی تو میرے پاس آیا تھا۔ ساجا بھی کام چھوڑ کر دوڑ کر آیا۔ سب کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ چاچا شپھا سارے علاقے جانی پہچانی شخصیت تھا۔ خبر علاقے میں ہر طرف پھیل گئی۔ نمبردار نے بتایا کہ اس کی وصیت تھی کہ اس کا مکان گرا کر اس کی جگہ مسجد بنا دی جاۓ۔ سب نے وصیت سن لی۔ چاچے شپھے کو اشکبار آنکھوں کے ساتھ مقامی قبرستان میں دفنا دیا گیا۔ اس کی موت گویا بستی کیلئے ایک انہونی بات تھی، لوگ کئی دن تک افسردہ اور متحیر رہے۔
آج شام کو علاقے میں اکٹھ تھا۔ سبھی لوگوں کی موجودگی میں نمبردار نے چاچے شپھے مرحوم کی وصیت سنائی۔ مولوی صاحب نے کہا کہ ٹھیک ہے جی بسم اللّٰہ کریں۔ مسجد کی بنیاد نمبردار صاحب رکھیں گے۔ "مولوی صاحب، چاچا شپھا محبِ اہلبیت تھا۔ اس کا کالا سوٹ یاد نہیں آپکو ؟ یہاں امام بارگاہ بنے گی۔ آپ کو بات سوچ کر کرنی چاہئیے تھی۔” امام بارگاہ کا خادم جلدی سے بولا۔
چاچا شپھا فجر کی نماز ہمیشہ ہماری مسجد میں پڑھتا تھا اس کے بعد جب سنیوں کی نماز ہوتی تو اس وقت وہ جا کر سو رہا ہوتا تھا۔ اس کا اونچا لاچا کسی کو یاد نہیں ؟ اور کبھی وہ بالے پیر کے میلے پر گیا ہو تو بتاؤ۔۔۔ اس کی وصیت خراب مت کرو وہ پکا پیڈا اہلحدیث تھا۔۔۔” سب کی باتیں غور سے سنتا ہوا محی الدین بھی بول اٹھا، ” بھائیو! وہ سب کا چاچا تھا۔ اس کی وراثت کا فائدہ پنڈ کی انجمن کو ہونا چاہئیے۔ جو سب کی بھلائی کیلئے بنی ہے۔” محیّو بھائی، انجمن صرف بڑوں کے آگے ناچنے والی رقاصہ ہے بس۔۔۔ اس کا تو نام بھی مت لو۔” ماسٹر جی نے کاٹ دار جواب دیا۔ سبھی خاموش ہو گئے۔
نمبردار صاحب، یہ تو معاملہ اور سے اور ہی بن گیا ہے، چاچے شپھے کا کوئی دین ایمان بھی ہے تھا یا نہیں۔۔۔ غلام حسین دودھی نے نمبردار سے خوشامدانہ لہجے میں بات کرتے ہوۓ کہا۔ تو خاموش رہ۔۔۔ چاچے شپھے کی نیکی میں ان مولویوں کو خراب نہ کرنے دوں گا بے فکر رہ۔ ان کو میں نمٹ لوں گا۔ معاملے کی نزاکت کے باعث پولیس کو دخل انداز ہونا پڑا۔
اس زمین کے کاغذات کس کے پاس ہیں؟ ڈی ایس پی صاحب نے موقع پر آ کر دریافت کیا۔
صاحب جی اس کے کاغذات کا کوئی پتہ نہیں شپھا بڑی دیر سے یہاں رہ رہا ہے۔ تب ہم چھوٹے تھے۔ یہ کنوارہ ہی رہا ہے۔ اس کا جنازہ بھی پتہ نہیں ہونا چاہئیے تھا کہ نہیں۔۔۔ تصور قصائی کی بات کو ایک کانسٹیبل نے کاٹا اور کہا، صاحب یہ اس کے کاغذات ہیں۔ اندر صندوق سے ملے ہیں۔ چلو انہیں لے چلو۔
اوۓ مودے، یہ ٹرالی اینٹوں کی کس نے یہاں پھینکی ہے ؟ نمبردار نے اپنے کامے سے پوچھا۔ اتنے میں دو کانسٹیبلان آ گئے۔ چوہدری صاحب یہ سرکاری اینٹیں ہیں۔ یہاں بحکم ڈی ایس پی صاحب، پولیس چوکی بننے لگی ہے۔




