اُردو ادبافسانہ

ملال/ عالیہ اقبال

بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں کھڑکی کے شیشے سے ٹکرا رہی تھیں۔ کمرے میں اندھیرا تھا اور میز پر رکھا چھوٹا سا چراغ زرد روشنی بکھیر رہا تھا۔ دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک خاموشی کو اور گہرا کر رہی تھی۔

عائشہ نے کیلنڈر پر نظریں جمائیں۔

آج ٹھیک ایک سال ہو گیا تھا۔

ایک سال…

اس نے بے اختیار میز کی دراز کھولی۔ پرانے کاغذوں کے درمیان وہی ڈائری رکھی تھی جس کے چند صفحات پر اس کی شاعری درج تھی۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے ڈائری کھولی۔ پہلا شعر نظر آیا تو آنکھیں دھندلا گئیں۔

"ہم سمجھتے تھے کہ ہم اس کو بھلا سکتے ہیں ۔
وہ سمجھتا تھا ہمیں بھول نہیں پاۓ گا وہ”

اس کے لبوں پر ایک بے جان سی مسکراہٹ ابھری۔

"آپ نے کیسے سمجھا کہ ہم آپ کو بھول گۓ ہیں

وہ خود کلامی کے انداز میں بولی۔

وقت واقعی مرہم ہوتا ہے، مگر شاید ہر زخم پر نہیں۔ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو بھر تو جاتے ہیں مگر ان کی کسک عمر بھر باقی رہتی ہے۔

آپ کے جانے کے بعد سارے شکوے ختم ہو گئے تھے۔ جن باتوں پر کبھی غصہ آتا تھا، وہ سب بے معنی لگنے لگی تھیں۔ دل نے آپ کو ہر الزام سے بری کر دیا تھا۔

اب سوچتی ہوں تو حیرت ہوتی ہے۔

آپ نے کبھی اپنی صفائی کیوں نہ دی؟

جب میں آپ کو بے وفا کہتی تھی، جب الزام دیتی تھی کہ آپ نے میرا ساتھ چھوڑ دیا، تب آپ خاموش کیوں رہتے تھے؟

یاد ہے ایک دن آپ نے صرف اتنا کہا تھا:

"تمہیں حق ہے… جو چاہو میرے بارے میں سوچ لو۔”

اور میں نے اس ایک جملے کو آپ کی بے حسی سمجھ لیا تھا۔

کتنی نادان تھی میں۔

میں آپ کی آنکھیں پڑھ لیا کرتی تھی، مگر ان آنکھوں میں چھپی بے بسی نہ پڑھ سکی۔ یہ نہ سمجھ سکی کہ بعض اوقات محبت کرنے والے ہارنا نہیں چاہتے، مگر حالات انہیں ہرا دیتے ہیں۔

عائشہ نے ڈائری بند کر دی۔

کھڑکی کے باہر بارش تیز ہو چکی تھی۔

اسے یوں لگا جیسے آسمان بھی آج کسی کی یاد میں رو رہا ہو۔

گیارہ سال…

پورے گیارہ سال آپ نے اس بند دروازے پر دستک دی تھی۔ محبت سے، صبر سے، امید سے۔ مگر ایک دن آپ خاموش ہو گئے۔

اور میں نے سمجھا تھا کہ آپ تھک گئے ہیں۔

آج سوچتی ہوں، شاید واقعی تھک گئے تھے۔

شاید بار بار لوٹ آنے والے قدموں کو بھی کبھی رک جانا پڑتا ہے۔

اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک کر ڈائری کے سرورق پر گرنے لگے۔

"مجھے آپ سے دوبارہ عشق ہو گیا ہے…”

اس نے سرگوشی کی۔

"…مگر اس وقت، جب آپ اس دنیا میں نہیں رہے۔”

یہ عشق نہیں، شاید مکافاتِ عمل تھا۔

زندگی اب قدم قدم پر اس کی بے اعتنائی کا حساب مانگتی تھی۔

وہ کرسی سے اٹھی اور کھڑکی کے قریب جا کھڑی ہوئی۔

سڑک سنسان تھی۔

جیسے اس کے دل کا ایک گوشہ برسوں سے سنسان پڑا ہو۔

اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔

"اگر وہاں ملاقاتیں ہوتی ہیں تو میرا انتظار کیجیے گا…”

اس کے لب کانپے۔

آخری ملاقات نہ ہونے کا ملال تا زندگی رہے گا۔میں آپ کو بتانا چاہتی تھی کہ محبت کبھی نہیں مرتی ۔ آپ کی جدائی نے مجھے بے موت مار دیا ہے۔”

بارش کی ایک بوند شیشے سے پھسلتی ہوئی نیچے اتر گئی۔

بالکل ویسے ہی جیسے ایک آنسو اس کے رخسار پر بہہ نکلا۔

اور پھر کمرے میں صرف گھڑی کی ٹک ٹک باقی رہ گئی…

اور ایک ایسا ملال…

جو شاید زندگی بھر ختم نہ ہو۔

Author

Related Articles

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x