تحقیقی کالم

معنی اور معنویت: چند باتیں | باسط پتافی

معنی اور معنویت: چند باتیں

کسی بھی کلام سے مصنف (یا متکلم) کا مقصود و مراد سمجھنا "معنی” کہلاتا ہے۔یعنی اگر کسی کلام میں مصنف نے اپنی بات پہنچائی ہے اور پڑھنے والا اس کلام کو وسیلہ بناتے ہوئے مصنف کی مراد تک پہنچے تو کلام سے حاصل کردہ مطلب و مدعا "معنی” ہوتا ہے۔ مثلا وزیر آغا اپنے مضمون ‘منٹو کے افسانوں میں عورت’ میں لکھتے ہیں: "دوسرے لفظوں میں عصمت کی طرح منٹو بھی عورت کے باغی روپ میں دلچسپی رکھتا ہے اور اسی کو اپنے افسانوں میں ابھارنے کا متمنی ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ خود منٹو کے قابلِ ذکر افسانوں میں جس عورت کا سراپا نمایاں ہوا ہے وہ صرف بالائی سطح پر ہی باغی روپ کا مظاہرہ کرتی ہے ورنہ اصلاً وہ اس بے دست و پا عورت ہی کا روپ ہے جسے انجن نے دھکا دے کر پٹری پر اکیلا چھوڑ دیا تھا۔ مگر مرد کے تشدد کے خلاف بغاوت کرنے کے بجائے وہ ہمہ وقت اس انجن کا خواب دیکھتی ہے جو کسی روز آئے گا اور اسے اپنے پلو سے باندھ کر لے جائے گا اور وہ ایک وفادار بیوی کی طرح اس کے ہر اشارے پر سر تسلیم کرتی رہے گی۔ کیا یہ ہندوستانی عورت کا وہی پتی پوجا والا روپ نہیں ہے جو اس برصغیر کی ثقافت میں ہزارہا سال سے پروان چڑھتا رہا ہے اور جس کے باعث عورت کو اپنے پتی کے تشدد کا بار بار نشانہ بننا پڑا ہے؟” وزیر آغا کے مضمون کے اقتباس سے ‘معنی’ واضح ہیں جسے ہم یوں بیان کر سکتے ہیں:

الف) منٹو اور عصمت چغتائی دونوں عورت کے باغی روپ میں دلچسپی رکھتے ہیں

ب) منٹو کے قابلِ ذکر افسانوں میں عورت صرف ظاہری طور پر باغی ہے

ج) منٹو کی عورت اندر سے وہی عورت ہے جو پتی پوجا کی مثال رہی ہے اور تشدد کا بار سہتی رہی ہے

د) منٹو کی عورت وہی عورت ہے جو یہ خواب دیکھتی ہے کہ کوئی آ کر بچا لے گا اور وہ اس کی زندگی میں ہمیشہ وفادار بیوی بن کر رہے گی

■ معنویت

معنویت معنی سے یکسر مخلتف چیز ہے۔ آج کی تحریر میں ہم نے معنویت کی اہمیت، ناگزیریت اور چند پہلوؤں کو بیان کرنا ہے۔ "معنویت” معنی کو بنیاد بنا کر اپنا سفر آگے بڑھاتی ہے چاہے وہ معنی کو قبول کرتے ہوئے آگے بڑھے یا اس کے متضاد پہلو کو اجاگر کر کے آگے بڑھے۔ ہم ایک سادہ مثال سے "معنویت” کو سمجھتے ہیں جس سے اس کی اہمیت اور بغور جائزہ لیا جائے تو اس کی ناگزیریت بھی سمجھ میں آتی ہے۔ مثلا ایک شخص پیدل چلتے ہوئے تھکن سے چور چور ہے اور اسے راستے میں ‘کرسی’ نظر آتی ہے تو اب اس کے لیے کرسی کی معنویت ایک آرام دہ شے کی ہے۔ ایک دوسرا شخص اپنے کمرے کے لیے ایک کرسی خریدنا چاہتا ہے تاکہ اس پر بیٹھ کر وہ اپنے لکھنے پڑھنے کا کام کر سکے، پس وہ گھر سے بازار کی طرف نکل پڑتا ہے مگر راستے میں جہاں جہاں کوئی ‘کرسی’ نظر آتی ہے وہ اسے اس زاویے سے دیکھتا ہے کہ اس کا ڈیزائن میرے کمرے کے لیے موزوں رہے گا کہ نہیں۔ پس ‘کرسی’ کے معنی وہی ہیں جو ہر ذی شعور سمجھتا ہے مگر اس کی معنویت زاویے بدلنے سے بدلتی رہتی ہے۔ ہمیں متون کو محض ‘معنی’ تک محدود نہیں کرنا چاہیے کیونکہ کچھ متون کا اولین مقصد اپنی مراد کا ابلاغ نہیں ہوتا لہذا ان کی اس وسعت کو بروئے کار لانا بہت ضروری ہے تاکہ ‘قاری’ معنویت کے ذریعے اپنے لیے مقاصد یا پہلو وغیرہ تلاش کر سکے۔ اور جن متون کا اولین مقصود اپنی مراد کا ابلاغ ہوتا ہے تو انہیں ان کا ‘مخاطب’ اس زاویے سے ضرور پڑھے مگر ان متون میں بھی ‘قاری’ کو اپنے زاویے سے دیکھنے کی اجازت ضرور ہونی چاہیے اور ایسی کاوشوں کو سراہنا چاہیے تاکہ ہمیں مختلف معنویتیں مل سکیں۔معنویت سے ہمارے جذبات پروان چڑھ سکتے ہیں، معنویت سے ہم کسی کی ان کہی باتیں بھی دریافت کر سکتے ہیں، معنویت سے ہم اپنے مقاصد یا اپنی زندگی کو رخ دینے کے قابل ہو سکتے ہیں؛ کیونکہ ہم معنویت کے بغیر اپنا تصرف نہیں کر سکتے جبکہ ہمیں تصرف کرنا ہوگا تاکہ ہماری صلاحیتیں اور قابلیتیں نکھر سکیں۔ یہاں ہم مختلف متون سے معنویت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کریں گے تاکہ ہمارا مدعا واضح طور پر سامنے آ سکے۔

● معنویت اور جذبات

اس کی مثال مذکورہ بالا اقتباس کی بھی ہو سکتی ہے جہاں وزیر آغا نے منٹو کے افسانوں میں عورت کو بیان کیا ہے۔ اگر ایک عورت اس اقتباس کو اس زاویے سے دیکھے کہ منٹو بھی عورت کو مکمل طور پر باغی نہیں بنا پایا حالانکہ عورت محض ظاہری سطح پر باغی نہیں لہذا اس صورت میں ‘خاتون قاری’ کے اندر غصے یا مایوسی کے جذبات کا ظہور ہوگا۔ یا خود وزیر آغا کے الفاظ کے چناؤ پر غور کریں تو ان کے جذبات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے یہ الفاظ "بے دست و پا، پتی پوجا والا روپ” وغیرہ ہمیں بتاتے ہیں کہ وزیر آغا تاریخ کے اس پہلو کے شدید ناقد اور سخت مخالف ہیں جس کی وجہ سے وہ شدید الفاظ کا انتخاب کر رہے ہیں اور یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ وزیر آغا منٹو سے نالاں ہیں کہ وہ بھی بالآخر عورت کو مکمل باغی نہیں دکھا پائے ہیں۔

● معنویت اور ان کہی بات

متون میں کہنے والے نے اگر کچھ بتانا چاہ ہے تو وہ حاصل کرنا ‘معنی’ کہلائے گا مگر ‘قاری’ غور کرکے یہ معلوم کر سکتا ہے کہ مصنف (ماتن) نے مخصوص الفاظ کا انتخاب کیوں کیا؟ اس کے یہاں فلاں تشبیہ کیوں چنی گئی یا تمثیل کا فلاں طریقہ کیوں اپنایا گیا؟ اس طرح کے سوالات سے وہ مصنف کے تحتِ شعور یا لاشعور کو سمجھ اور پرکھ سکتا ہے۔ مثلاً شمس الرحمن فاروقی اپنے ایک مضمون "غالب اور میر: مطالعے کے چند پہلو” میں بتاتے ہیں کہ ناسخ، رند اور ذوق وغیرہ جیسے شاعروں نے میر تقی میر کی تعریف کی ہے تو اس سے میر کی عظمت سمجھی گئی ہے مگر فاروقی کہتے ہیں کہ ان تعریفوں سے خود ان شاعروں کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے یہ نظرانداز کیا گیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں:

"لیکن ناسخ ،ذوق، رند وغیرہ کے تعریفی اشعار سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ ان لوگوں کی نظر میں میر کی شاعری ناقابلِ تقلید تھی۔ کیونکہ میر کی تعریف کرنے کے باوجود انہوں نے میر کی تقلید نہ کی۔ یہ نتیجہ بھی نکالا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں کو میر کی شاعری کا کوئی عرفان نہ تھا۔ کیونکہ اگر میر کا تھوڑا بہت بھی عرفان ہوتا تو میر کا کچھ تو پرتو ان کے یہاں نظر آتا۔”

اس اقتباس پر غور کرنے سے معلوم پڑتا ہے کہ ان شعراء (ناسخ، رند، ذوق وغیرہ) کے تعریفی اشعار کا ‘معنی’ میر تقی میر کی عظمت بیان کرنا ہے مگر فاروقی نے دو اَن کہی باتیں نکالی ہیں: ایک یہ کہ ان کے تحتِ شعور میں ہے کہ میر کی شاعری ناقابلِ تقلید ہے دوسرے یہ کہ انہیں میر کی شاعری کا عرفان نہیں ہے۔ اگر "معنویت” بے وقعت چیز ہو تو ہم اس طرح کے مختلف فکری نتائج اخذ کرنے سے محروم رہیں گے۔ یہاں یہ زیر بحث نہیں کہ فاروقی کے اخذ کردہ دو نکات درست ہیں یا غلط بلکہ مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ معنویت کی ضرورت بہ ہر حال ہوتی ہے اور یہی چیز ہمیں مختلف جہات اور زاویوں سے روشناس کراتی ہے۔

اس کے علاوہ ہم دوسری مثال بھی دے سکتے ہیں۔

جوش ملیح آبادی اپنی آپ بیتی "یادوں کی برات” میں لکھتے ہیں:

"میرا یہ دعوی ہے کہ شاعری ایک ایسا جادو ہے جس کا ترجمہ ہو ہی نہیں سکتا۔ شاعری آب گینہ ہے اور ترجمہ گھن، شاعری شیشہ ہے اور ترجمہ پتھر، شاعری حباب ہے اور ترجمہ ہوائے تند کا تھپیڑا۔” جوش نے شاعری کو جادو اور شیشہ کہا ہے جس کے ‘معنی’ واضح ہیں مگر اس کی ‘معنویت’ یہ ہے کہ شاعری جادو ہے یعنی وہ غیر معمولی اور مبہوت کر دینے والا فن ہے۔ شاعری شیشہ ہے اور ترجمہ پتھر تو ‘معنی’ واضح ہے کہ ترجمہ شاعری کو توڑ دیتا ہے مگر ‘معنویت’ یہ ہے کہ جوش ملیح آبادی کے تحت شعور یا لاشعور میں یہ بات پنہاں ہے کہ شاعری ایک نازک و لطیف جبکہ ترجمہ ایک ٹھوس فن ہے۔

اس کے علاوہ سگمنڈ فرائیڈ کی کتاب "The Interpretation of Dreams” سے بھی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔

● معنویت اور محاورے

معنویت کی اہمیت ہر زبان کے محاوروں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے جیسے اردو محاوروں کی بابت محمد حسن عسکری اپنے مضمون "محاوروں کا مسئلہ” میں رقمطراز ہیں: "خالص نظریاتی بحث تو مجھے آتی نہیں۔ ایک آدھ محاورے کوالٹ پلٹ کر دیکھتا ہوں کہ اس کے کیا معنی نکلتے ہیں۔ سرشار نے کہیں لکھا ہے:

‘چراغ میں بتی پڑی اور اس نیک بخت نے چادر تانی۔’

اس اچھے خاصے طویل جملے کا سیدھا سادا مطلب یہ ہے کہ وہ لڑکی شام ہی سے سو جاتی ہے، تو جو بات کم لفظوں میں ادا ہو جائے اسے زیادہ لفظوں میں کیوں کہا جائے؟ اس سے فائدہ؟ فائدہ یہ ہے کہ جملے کا اصل مطلب وہ نہیں جو میں نے بیان کیا ہے بلکہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔

’شام ہونا‘ تو فطرت کا عمل ہے۔ ’چراغ میں بتی پڑنا‘ انسانوں کی دنیا کا عمل ہے جو ایک فطری عمل کے ساتھ وقوع پذیر ہوتا ہے اور یہ عمل خاصا ہنگامہ خیز ہے۔ جن لوگوں نے وہ زمانہ دیکھا ہے، جب سرسوں کے تیل کے چراغ جلتے تھے، انہیں یاد ہوگا کہ چراغ میں بتی پڑنے کے بعد کتنی چل پول مچتی تھی اندھیرا ہو چلا، ادھر بتی کے لئے روئی ڈھونڈی جا رہی ہے۔ روئی مل گئی تو جلدی میں بتی ٹھیک طرح نہیں بٹی جا رہی۔ کبھی بہت موٹی ہوگئی، کبھی بہت پتلی۔ دوسری طرف بچے بڑی بہن کے ہاتھ سے روئی چھین رہے ہیں۔ یہی وقت کھانا پکنے کا ہے۔ توے پر روٹی نظر نہیں آ رہی، روٹی پکانے والی الگ چِلا رہی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

’چراغ میں بتی پڑنے‘ کے معنی محض یہ نہیں کہ شام ہوگئی۔ اس فقرے کے ساتھ اجتماعی زندگی کا ایک پورا منظر سامنے آتا ہے اس محاورے میں فطرت کی زندگی اور انسانی زندگی گھل مل کر ایک ہو گئی ہے۔ بلکہ شام کے اندھیرے اور سناٹے پر انسانوں کی زندگی کی ہماہمی غالب آگئی ہے۔”

● نتیجہ

ہم اگر ایک سطر میں معنی اور معنویت کو بیان کرنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ ‘معنی مخاطب بن کر حاصل ہوتے ہیں اور معنویت قاری بن کر حاصل ہوتی ہے’۔ قاری اپنے مختلف تناظر اور زاویے سے متن کو دیکھتا اور پرکھتا ہے لہذا وہ ‘معنویت’ کی راہ پر چلتا ہے جبکہ ‘مخاطب’ تو مصنف کی مراد تک جانے کا پابند ہوتا ہے اس لیے وہ ‘معنی’ تک محدود ہوتا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ جہاں مصنف کی مراد اولین ہدف نہ ہو یا کوئی مخاطب نہ بننا چاہتا ہو یا پھر کوئی مخاطب کی سطح تک نہ پہنچ سکے تو وہ قاری بن کر معنویت کے نئے افلاک دریافت کر سکتا ہے بلکہ ضرور کرنے چاہئیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا بھی درست ہوگا کہ ‘قاری’ جس قدر ذہین، فطین اور مختلف علوم میں گہری دسترس رکھتا ہوگا وہ اس قدر ‘معنویت’ میں انوکھا پن لا سکے گا۔ لیکن اس سے یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ معنویت کا یہ طریقہ گویا قاری کی جانب سے اپنا زاویہ متن پر یا کسی بھی چیز پر مسلط کر کے معنویت حاصل کرنا ہے۔ یہ نتیجہ نکالنا اس لیے غلط ہوگا کیونکہ ‘قاری’ مصنف کی مراد سے جس قدر آزاد کیوں نہ ہو مگر وہ متن کا پابند بہ ہر حال ہوتا ہے لہذا اس کی تمام تر معنویتوں کا محور متن رہتا ہے اور اسی سے وہ اپنی معنویت کو اعتبار و استناد بخشتا کرتا ہے ۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x