غزل
غزل | کوئی تو متن سے معنی کی سیر کو گیا تھا | فیضان ہاشمی

غزل
کوئی تو متن سے معنی کی سیر کو گیا تھا
اور اس وجود کی آب و ہوا میں کھو گیا تھا
غروب ہونے سے پہلے وہ ڈوبتا سورج
زمیں کے ذہن میں اک چاند کو پرو گیا تھا
کتاب کھولی تو پانی سے بھر گیا کمرہ
ہمارے غم پہ بھی پہلے سے کوئی رو گیا تھا
وہی ستارے گرے آسماں سے میری طرف
جنہیں وہ دور کہیں گنتے گنتے سو گیا تھا
ہر اک کتاب کی کھڑکی سے خود میں جھانکتا ہوں
کھلا ہوا تھا جو اک باب بند ہو گیا تھا




