غزل

غزل | آنکھ سے آنسو گرے آئینے سے ریت گری | فیضان ہاشمی

غزل

آنکھ سے آنسو گرے آئینے سے ریت گری

عکس در عکس کوئی کرتا رہا کوزہ گری 

یاد آیا تو کہاں چھوڑ کے آیا تھا مجھے

دل کے اندر کوئی تکلیف سی محسوس ہوئی

ایک دیوار نے دونوں کو اندھیرے میں رکھا

اور پھر رات سے پہلے ہی ہمیں چاٹ گئی

سیر پر آئے کسی شخص کے بارے میں سنا

اک عمارت پہ بنی ساتویں کھڑکی چونکی

کتنے قطرے کیے گمراہ سمندر کہہ کر

کتنے ذرات کی طاقت سے تباہی ہو گی ؟

ایک جنگل پہ مری بھوک کا مذہب اترا

ایک دریا پہ مری پیاس کی تہذیب بنی

کچھ کتابوں میں ترے باغ کے بارے میں پڑھا

اور پھر تیری کئی لوگوں سے تعریف سنی

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x