غزل
غزل | ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف | زاہد خان

غزل
ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف
جیسے ہوتی ہے بلاؤں میں قضا اپنی طرف
جانا ہوتا ہے کسی اور تعاقب میں ہمیں
کھینچ لیتی ہے مگر ایک صدا اپنی طرف
سرمئی جھیل ہے، دنیائیں ہیں آباد اُس کی
گھپ اندھیرے میں بُلاتا ہے خدا اپنی طرف
خالی ہو جاتی ہیں آنکھیں ترا گریہ کرکے
بارِ افسردگی کھینچے ہے جدا اپنی طرف
شام افسردہ نظر آتی ہے دیوانے کو
دستِ نوروز میں کھینچے جو ہوا اپنی طرف
ٹوٹ جاتا ہے بھری بزم میں آنکھوں کا خمار
موڑ لیتا ہے کوئی نقشِ قبا اپنی طرف
زرد آنکھوں سے تری راہ تکا کرتے ہیں
جب ہو رنجیدہ نگاہوں کی ادا اپنی طرف




