نظم
سانیٹ : نیلگوں افلاک | اعجازالحق

سانیٹ
تمہارے نام کی وسعت بکھرتی ہے فضاؤں میں
کہ جیسے نمکیں پانی میں کوئی خواب گر جائے
بہت نیچے زمیں پر، درد کی میلی رداؤں میں
کوئی پیاسا، تہی دست، آس کی حد سے گزر جائے
یہ مٹی کے بدن، یہ خاک کے مٹتے ہوئے پیکر
کبھی رکتے نہیں، تھمتے نہیں، مصروفِ ہجرت ہیں
مگر اوپر، کسی خاموش مخمل کے جزیرے پر
پرندے رقص کرتے ہیں، کہ وہ آزادِ فطرت ہیں
تمہاری آنکھ کی گہرائیوں کا عکس ہے شاید
کہ جس نے وسعتِ بے انت کو تسخیر کر ڈالا
خموشی کا کجل، جو بادلوں کے پار ڈھلتا ہے
جدائی کی کڑی دھوپیں ہوں یا موسم رفاقت کا
اسی بے رنگ سائے نے، جو بستی پر نکلتا ہے
محبت کے ادھورے پن کو اک تصویر کر ڈالا




