غزل
غزل | سکون ملتا ہے جب الجھی بات کھلتی ہے | وسیم نادر

غزل
سکون ملتا ہے جب الجھی بات کھلتی ہے
مگر کبھی کبھی لفظوں کی ذات کھلتی ہے
پھر اس کے بعد وہ خاموش رہنے لگتا ہے
کسی بھی شخص پہ جب کائنات کھلتی ہے
تمہیں یہ عشق بچھڑ کر سمجھ میں آئے گا
چراغ بجھتے ہیں تب جا کے رات کھلتی ہے
کسی بزرگ کی چوکھٹ کسی بدن کی قبا
یہ بات سچ ہے دعاؤں کے ساتھ کھلتی ہے
ہمیں نے پاؤں میں ڈالی ہوی ہیں زنجیریں
وگرنا روز ہی راہِ نجات کھلتی ہے




