غزل
غزل | دو لفظ ہی تھے تم جنھیں اک رَو میں کہہ گئے | خمار میرزادہ
غزل
دو لفظ ہی تھے تم جنھیں اک رَو میں کہہ گئے
ہم مسکراتی روح پہ ہر کاٹ سہہ گئے
آئندگی کے ساتھ ہے ان کی گزشتگی
دو چار اشک رہ گئے دوچار بہہ گئے
مٹی میں اتنی ھہری ہماری جڑیں نہ تھیں
اپنی کشش کا زور ہی ایسا تھا، ڈھہ گئے
اُن راستوں کا اپنا بہاو تھا جن پہ ہم
ممنوعہ اختیار میں بے گہہ و گہہ گئے
شام آئی اور ڈوبتی نبضوں کے ساتھ ہم
اک بے محل ملال کے دھارے پہ بہہ گئے
بارش ہوئی تو فرش کی بھیگی سِلوں تلے
مٹی کے کچھ فسانے ادھورے ہی رہ گئے




