نظم

انسومینیا | حمزہ-ز

انسومینیا

میں سویا نہیں

اور نہ خواب دیکھے

اور نہ خواب میں تم نے میرے سینے پہ نیلا بوسہ دیا

میں نے آگ دیکھی ہے

جس نے میرے ناخن جلا دیے 

دھوئیں نے میری آنکھوں میں خون بھر دیا

اور وہ لڑکی جو خون کی بو محسوس کر لیتی ہے

وہ میری انگلیاں چبا جانا چاہتی ہے

ان میں ناخن نہیں ہیں

میں جاگ نہیں رہا

رات تمہارے سینے سے نکلتی ہے اور کالا موتیا بن کر میری آنکھوں میں اتر آتی ہے

میرا دل سیاہ ہو جاتا ہے

خدا ایسے دلوں میں نہیں رہتا

خدا کہاں رہتا ہے.¿

رات کی تاریکی میں

تم میرے دل میں ہمیشہ کے لیے رہ گئی ہو

اور میں نیند کے کنارے پر

اور کٹی زبانوں والے خیال میں ذہن میں

رات مجھے ہر طرف سے گھیرے رکھتی ہے

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x