نظم

خوشبو کی ہجرت | اعجازالحق

خوشبو کی ہجرت

ابھی کچھ دیر پہلے تک

ہوا کے ہاتھ میں اک ہاتھ تھا، مہکا ہوا سا

فضا کی گود میں اک خواب تھا، بکھرا ہوا سا

مگر جب شام کے سائے ذرا سے اور گہرے ہوئے

تو ہم نے دیکھا۔۔۔

گلابوں کی جبیں سے رنگ کی تحریر غائب ہے

وہ جن کے لمس سے سانسوں میں شمعیں سی جلتی تھیں

انہی شاخوں کے ماتھے کی ہنسی بھی اب تو غائب ہے

عجب اک خامشی ہے اب گلستاں کے دریچوں میں

نہ وہ چاپیں، نہ وہ خوشبو، نہ وہ رنگوں کے میلے ہیں

پرندے لوٹ کر اپنے گھروں کو جا چکے سارے

ہم اپنے شہرِ ویراں میں اکیلے تھے، اکیلے ہیں!

وہ خوشبو جس کو ہم نے عمر بھر کا ساتھ سمجھا تھا

جسے خوابوں کی تعبیروں کا اک زادِ سفر مانا

وہ اب ہجرت پہ مائل ہے

وہ اب اس دشت سے آگے، کسی نادیدہ بستی کو

کسی انجان وادی کو، پروں کے بن نکلتی ہے

وہ بادل کی طرح اب دوسرے موسم کی جانب چل پڑی ہے!

مگر اے جانے والی لہر!

تمہاری ہجرتوں کے موڑ پر یہ سوچتا ہوں میں

جو خوشبو رُت بدلتے ہی مکاں اپنا بدلتی ہے

وہ یادوں کے کسی گوشے میں تھوڑا سا ٹھہر جائے

تو ہم جیسے مسافر کس طرح جیتے؟

اگر یہ ہجرتیں نہ ہوں۔۔۔

تو پھر گزرے ہوئے لمحوں کی قیمت کون پہچانے؟

بچھڑنے اور ملنے کی حقیقت کون پہچانے؟

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x