اُردو ادبافسانہ

پس آئینہ/ محمد شاہد محمود ، فیصل آباد

صبح سویرے نہا کر بال کنگھی کرنے کے بعد قد آور آئینے کے رو برو ٹائی کی گرہ لگا رہا تھا کہ وہ اچانک میرے سامنے آن کھڑی ہوئی۔ بیچ میں آئینہ حائل تھا۔ ایسا وہ متعدد بار کر چکی تھی۔

"رات جلدی کیوں سو گئے تھے؟ مجھے تمہاری ضرورت تھی۔” وہ بیس سال سے یہی سوال بار بار دہراتی شکوہ کناں ہوئی۔

اس کی عادت تھی وہ دورانِ گفتگو خاموشی کا طویل وقفہ دیا کرتی تھی۔ اتنا طویل کہ سننے والا جھنجھلا اٹھتا تھا۔ بیس سال قبل میں نے بھی تا حیات وقفہ دینے کا پکا فیصلہ کر لیا تھا کہ اب میں اس کی کسی بات کا جواب نہ دوں گا۔

"مجھے نیند آ گئی تھی مجھے پتا ہی چلا کب آنکھ لگ گئی۔” بیس سال بعد میں نے سچ کہتے ہوئے کسی حیلے بہانے سے کام نہ لیا اور دورانِ گفتگو بیس سالہ وقفہ توڑ دیا۔

"مجھے جب بھی تمہاری ضرورت پیش آئی، تم اسی طرح کے بہانے تراشتے تھے۔” اس نے میری صاف گوئی کو رد کر کے، صاف جھوٹ قرار دے دیا۔

"جھگڑا کرنے کے موڈ میں ہو؟ ابھی تو ہماری شادی نہ ہوئی تھی۔ اگر شادی ہو جاتی تو باقی ماندہ زندگی بھی یوں ہی کٹتی؟ بیس سال بعد اب بھی تمہارا یہی حال ہے؟ جوں کی توں ہو ذرہ بھی نہیں بدلی۔” میں ہمیشہ کی طرح نرمی سے کہا۔

"مجھے ایسی دوستی اور رشتہ نہیں رکھنا۔” اس نے حتمی فیصلہ سنا دیا۔

"میں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ٹھیک ہے جیسا تم چاہو۔ آج بیس سال بعد پھر وہی جملہ دہرانے کا مقصد؟” میں نے حیرت سے پوچھا۔

"تم پچھتاؤ گے اور سوچو گے۔ میری جیسی تمہیں کبھی نہ ملے گی۔” یعنی وہ ہر طرح سے مجھے ہی قصوروار ٹھہرا کر تب الگ ہونا چاہتی تھی۔ حالانکہ اب یہ قصہ پارینہ بن چکا تھا۔ مجھے مقصد سمجھ آ گیا تھا۔

"ہاہاہا میں اپنی دنیا میں لوٹ کر واپس آ چکا ہوں۔ جہاں سے تم نے مجھے کھینچ کر نکالا تھا اور میں اپنی دنیا میں اتنا خوش ہوں کہ پچھتاوے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ سنو جانم بیس سال بیت چکے ہیں۔ تم اب بھی اس رات میرے جلدی سو جانے پر ایک ہی رٹ لگائے ہوئی ہو؟۔” میں نے قہقہہ لگاتے ہوئے جواب دیا۔

"تو اب بیس سال بعد بھی میرے سامنے آ کر کیوں کھڑے ہو؟” اس کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔

"میں؟ میں نہیں، تم ہو جو میرے روبرو آن کھڑی ہوتی ہو۔ کیونکہ تم ہمہ وقت پسِ آئینہ میری منتظر رہتی ہو۔ اگر ہمت ہے تو پسِ آئینہ سے سرِ آئینہ آ کر بات کرو۔”

وہ جا چکی تھی اور اب شاید کبھی لوٹ کر نہیں آئے گی، کیونکہ وہ پسِ آئینہ ہی زندگی گزارنا جانتی تھی۔ سرِ آئینہ روبرو آن کھڑی ہونے کی ہمت اس میں نہ تھی۔

میں نے اب لکھنے کے ساتھ ساتھ فوٹوگرافی بھی شروع کر دی تھی۔ اپنا شولڈر بیگ اٹھایا، جس میں کیمرہ، مختلف رینج کے لینسز اور دو کتابیں ہمراہ اشیاء خوردونوش تھیں۔ گھر سے نکلا، لمبا سانس کھینچ کر پھیپھڑوں میں تازہ ہوا بھری اور اپنی دنیا میں قدم رکھتے ہی خوشی سے سر شار ہو گیا۔

دن گزر گیا۔ شام ہونے والی تھی۔ سرِ شام چہچہاتے پرندے اپنے گھونسلوں کی جانب محوِ پرواز تھے۔ شام گہری ہوئی۔ شام، رات میں ڈھلنے لگی۔ شب گزاری کے واسطے میں واپس اسی گھر میں داخل ہو رہا تھا۔

Author

5 2 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x