غزل
غزل | بات یہ ہے کہ کوئی بات نہیں | نعیم رضا بھٹی
غزل
بات یہ ہے کہ کوئی بات نہیں
اب زباں بھی ہمارے ساتھ نہیں
بجھ چکے ہیں چراغ اندر سے
اس میں سورج کا کوئی ہاتھ نہیں
ایک حد میں رکھا گیا ہے ہمیں
اور حد سے کوئی نجات نہیں
دل کی دنیا سکڑ گئی اتنی
اس میں خواہش کی کائنات نہیں
ہم نے سچ کو بھی ٹال رکھا ہے
اب کسی جھوٹ کی بھی گھات نہیں
دل مسلسل سوال کرتا ہے
اور قسمت کے پاس بات نہیں
ہم کنارے پہ آ کے بیٹھ گئے
اب سمندر سے کوئی بات نہیں
ایک خاموش سی بغاوت ہے
جس میں نعروں کی واردات نہیں
ہم تھکے ہارے لوگ ہیں صاحب
ہم سے اب اور التفات نہیں
اب سہولت پہ ہی قناعت ہے
ورنہ ذرے میں کائنات نہیں
خوف آئے تو کھانس لیتا ہوں
یہ دفاعی عمل ہے مات نہیں




