نظم

نظم : خیر | مسلم انصاری

نظم : خیر 

 

خیر! 

گزر تو گیا یہ بھی دن 

جیسے گزری ہے پچھلی صدی 

یا گزشتہ برس 

یا وہ موسم کہ جس کی بلائیں ہمیں کھا گئیں 

یا وہ بارش بھی جس میں ہمیں لگ رہا تھا کہ یہ آگ ہے 

اور اس میں اگر ہم نہائے تو موم کی پُتلیوں کی طرح ہم پگھل جائیں گے 

یا وہ لمحہ جسے قید کرنے میں ہم نے سبھی شیشیوں کے دہانے دبوچے 

انہیں بھینچ کر ہاتھ مٹھی کئے

یا وہ رستہ، گلی، گھر اور گھر کے اس چوک پر 

جس پہ شام ہوتے ہی بچوں کی سائے ہمک آتے تھے 

گھر سے نکلے تو وہ چوک بھی رہ گیا 

اور وہ محبت 

کہ جب اس کے صدقے اتارے تو سب خوش دکھائی دئے 

پر کڑا وقت آیا تو ہاتھوں سے بھی ریت گرنے لگی 

لوگ جانے لگے 

ہم منانے لگے 

ہم منانے لگے پر منانے کے فن میں ہمیں کچھ بھی آتا نہیں 

آج کا دن بھی ڈھل تو گیا ہے مگر آج بھی 

ہم کو معلوم ہے 

ایسی منزل کے رستے پہ ہم گامزن ہیں 

کچھ بھی کرلیں مگر یہ کہیں پر بھی جاتا نہیں!!

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x