
18/02/1977
میر پور خاص
حمیدہ جی !
سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ بہت امید ہے کہ آپ خوش ہوں گی ۔
لگتا ہے کہ آپ ہمیں جانتی نہ ہوں گی جب کہ گزشتہ پانچ سال سے آپ ہمارے دل میں بسی ہوئی ہیں۔ ہم نے آپ کوپہلی بار ماسٹر ضیاء الدین صاحب کی بیٹی کی شادی میں دیکھا تھا ۔مائیوں کے دن چٹاپٹی کی چوڑی بیل والے پیلے دوپٹے میں ۔۔۔ہمیں تو ایسا لگا کہ چاروں جانب سرسوں کے پھول کھل رہے ہوں۔
آپ کے کانوں کی بڑی بالیاں۔۔۔۔ جو آپ کے رخساروں کو بار بار چھو رہی تھیں ان کی ہر حرکت پر ہمارا دل ڈولاجاتا تھا ۔
جب جب ماسٹر صاحب کے گھر بنا اور خسرو کے گیت گائے گئے ہم آپ کی آواز سننے کی تڑپ میں ساری رات سردی میں چھت پر جاگتے رہے ، یقین کیجیے کہ اتنی آوازوں میں آپ کی آواز صاف پہچان لیتے تھے ۔اگرچہ ہمارے میزبانوں میں سے کئی ایک گہری نیند سوتے رہے۔
شاید آپ کو یاد ہو ولیمے والے دن دولہے کے گھر جاتے ہوئے خواتین تانگے میں سوار تھیں اور بائیسکل سوار لڑکے ان کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ آپ کے تانگے کے ساتھ جو دو لڑکے تھے ۔۔۔ہم ان میں سے ایک تھے ۔ سفید کرتے اور سفید شلوار میں ، تانگے کے بائیں جانب آپ کی نشست کے ساتھ ساتھ ۔
حمیدہ جی !
اس دن تانگے سے اترتے ہوئے آپ کا رومال گرگیا تھا ۔وہ رومال آج بھی میرے پاس محفوظ ہے ۔
جب سے سنا کہ آپ کو گیتوں کا شوق ہے اور آپ روزانہ رات آٹھ بجے آکاش وانی کا پروگرام ” گیت مالا ” ضرور سنتی ہیں اس دن سے ہفتے میں تین خط ضرور انڈیا بھیجتے ہیں ۔ جہاں ” صرف میری حمیدہ کے لیے ” سننے کے لیے مہینہ مہینہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی” حمیدہ کے لیے ۔۔۔ناصر کی طرف سے ۔” نہیں سنا ؟
یا سنا تو آپ کے ذہن میں کبھی اپنا اور میرا خیال نہیں آیا ؟
حمیدہ جی !
یاد ہے ؟ اسی سال آپ کے تایا جی کے گھر جب بسنت منائی گئی تھی تو قدوس بھائی چھت سے گر کر ٹانگ تڑوا بیٹھے تھے ۔۔۔۔انہیں ہسپتال لے جانے والوں میں ، ہم بھی شامل تھے ۔
اب یاد آیا ؟
حمیدہ جی !
آپ جانتی ہیں کہ ہمیں کبوتر بالکل پسند نہیں مگر صرف آپ کی ایک جھلک کے لیے ہم آپ کے چچیرے شفیق کی چھت پر گھنٹوں بتاتےتھے ۔
شاید آپ کو یاد نہ ہو مگر ہمیں ایک ایک پل یاد ہے ۔
وہ شام بھی ۔۔۔جب آپ اسی کبوتروں والی چھت پر گڈو کو ڈھونڈنے آئی تھیں اور اس کی ہزار دہائیوں کے باوجود دو دھپے جڑ کر اسے گھسیٹ لے گئی تھیں ۔اتنے پر ہی بس نہیں کیا تھا آپ نے چھت پر موجود تمام لڑکوں کو بھی خوب کھری کھوٹی سنائی تھیں۔
لیجیے بھلا قصور آپ کے بھائی کا ۔۔۔اور مجرم ہم سب ۔۔۔
ہم اسے بھی آپ کی ادا مان بیٹھے ہیں۔
حمیدہ جی !
ماسٹر صاحب کے گھر ماہوار ” زیب النساء ” آتا ہے نا ۔۔۔۔وہ ناچیز کے طفیل ہی آتا ہے ۔
اور وہ کشیدہ کاری کے نمونوں والی کتابیں وہ بھی خاکسار کی غلامی تھی ۔وہ چار سوتی کے خانوں والے پھول پتی کے نمونے۔۔۔۔جی آپ سمجھ گئیں نا ۔۔۔ایک دن شفیق سے سنا تھا کہ ” حمیدہ” کو جہیز کی چادر کے لیے نیا ڈیزائن نہیں مل رہا .. بس ہم نے کراچی صدر بازار کی ایک ایک دکان چھان ماری ۔اور اس کا نتیجہ تین کتابیں ماسٹر صاحب کے ہاتھ میں دے آئے ۔
سنا ہے کہ گھر کی عورتوں کو وہ نمونے اچھے لگے تھے ، ہم بہت خوش ہوئے۔۔۔آپ کو بھی پسند آئے ہوں گے ۔
حمیدہ جی !
آپ کے لیے ہم نے کیا کیا نہیں کیا ؟ سوائے آپ تک اپنے جذبات پہنچانے کے ۔
وہ کیاہے نا کہ شاعر کہتا ہے "پیار کا پہلا خط لکھنے میں۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت تو لگتا ہے ۔” جی ہمیں آپ تک آنے کے لیے پورے پانچ سال کا وقت لگا .
حمیدہ جی !
آپ ماسٹر جی کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں اور خود بھی کالج کی طالبہ تھیں بھلا آپ کا اور ہمارا جوڑ کیسے ہوسکتا تھا .
ہم نے خود کو آپ کے قابل بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر ڈالی ۔ ان پانچ سالوں میں ہم نے بھی بی ٹیک کرلیا ہے ۔ ریلوے کے محکمے میں عرضی دی ہوئی ہے امید ہے نوکری لگنے کا پروانہ جلد ہی آتا ہوگا ۔ورنہ کسی دفتر میں اسٹینو کی نوکری تو پکی ہے ہی۔
ابا جی کا اناج منڈی میں آڑھت کاکام بھی اچھا چلتا ہے ۔ آپ کو کوئی تنگی نہیں ہونے دوں گا ۔
درمیان میں سنا کہ آپ کی بات آپ کے کسی ممیرے سے چل رہی ہے ۔۔۔یقین کیجیے ۔۔۔اس دن جی چاہا کہ آپ کو خون سے خط لکھ دیا جائے ۔۔۔سوچا ” جو ہوگا ، دیکھا جائے گا.”
لیکن خیال آیا کہ کہیں یہ خط کسی اور کے ہاتھ لگ گیا تو۔۔۔۔
آپ پر کوئی آنچ آئے اور وہ بھی ہماری وجہ سے ۔۔۔نہہں نہیںں۔۔نہیں نہیں ۔
پھر سنا کہ آپ کی بات پکی ہوگئی ہے اسی ممیرے کے ساتھ ۔
مانو جی پر سانپ لوٹتے ہوں ، کسی لمحہ قرار نہ آتا تھا ۔سگریٹ ان ہی دنوں ہمارے منہ کو لگی ۔۔۔
ہم آپ کی دنیا سے دور چلے آئے ے تاکہ اپنے دل سے آپ کو نکال سکیں ۔ مگر ممکن نہیں تھا نا ۔
آپ تو ہمارے دل کے اندر ، کنڈی لگا کر ، تالا ڈال کر ، اور چابی چھپا کر بیٹھی ہیں ۔ دل سے نکالنے کی کوئی ترکیب کارگر نہیں نہ سگریٹ ، نہ سنیما ۔
حمیدہ جی!
مہینہ پہلے سنا کہ آپ کی نسبت تو کب کی ختم ہوگئی تھی بس امید کے شگوفے کھلنے لگے ہیں ۔
ہم یہ خط آپ کو بھیج رہے ہیں اگر آپ ہمیں جانتی ہیں تو للہ کسی طور بتاییے کہ ہم اپنے گھر میں آپ کے بارے میں بات کرسکیں ۔۔او ہو کیا لکھ بیٹھے صرف جاننے سے زندگی بھر کا ساتھ کہاں ملتا ہے ۔۔
دوبارہ لکھتے ہیں کہ آپ ہمیں جانتی ہیں اور تھوڑا بہت پسند بھی کرتی ہیں تو اسی خط کے ساتھ ایک اور رومال رکھ کر ڈاک میں ڈال دیجیے گا ۔
ہم اسی خط میں واپسی کا لفافہ اور پتہ بھی لکھے دے رہے ہیں ۔
سنا ہے آپ کی ڈاک بنا کھلے آپ تک پہنچتی ہے ، آپ پڑھیں لکھی ہیں نا تو عورتوں کے رسالوں سے خط و کتابت رہتی ہے ۔
ہمیں امید ہے کہ یہ ہمارا پہلا اور آخری خط ہوگا ۔
اس کے بعد تو ہم آپ کو سامنے بٹھا کر ” صرف میری حمیدہ” پکاریں گے۔ ان شاءاللہ
اسی خط کی واپسی کے منتظر
ناصر امین
نواب شاہ




