اُردو ادبافسانہ

دہری معصومیت/ کرن نعمان ، کراچی

لاکھ کوشش کے باوجود بھی میں عالیان کی بڑبڑاہٹیں سمجھ نہیں پاتی تھی ۔ جیسے ہی اس کی ماما زبردستی اسے چھوڑ کر جاتیں وہ فورا منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتا ۔ اسی لمحے اس کے چہرے پر ایک سخت سا تاثر بھی ابھرتا تھا مگر جب میں اس سے پوچھتی
” عالیان آپ کیا کہہ رہے ہیں ”
تبھی وہ مجھے دیکھتے ہوئے زور زور سے قہقہے لگانے لگتا جیسے چوری پکڑے جانے کے خوف کو اپنی ہنسی میں چھپانا چاہتا ہو ۔ تین ماہ گزرنے کے باوجود اس پانچ سالہ بچے کے رویے میری سمجھ سے باہر تھے یا شاید مجھے ہی ایسے بچوں سے واسطہ نہیں پڑا تھا ۔ اس کی بہن ہادیہ بالکل بھی ایسی نہیں تھی وہ ماں کے جانے کے بعد تھوڑی دیر روتی پھر بہل جاتی ۔
یہ لوگ ایک سال قبل ہی بلڈنگ کی ساتویں منزل پر آباد ہوئے تھے ۔ واٹس ایپ گروپ سے میری ان بچوں کی ماں صبیحہ سے جان پہچان ہوئی تھی ۔ شروع شروع وہ سلائی کے کپڑے میرے پاس لاتی تھیں پھر ایک دن کہنے لگیں
” آپ کے گھر کا پرسکون ماحول مجھے بہت اچھا لگتا ہے کیا آپ کی بیٹی میرے بچوں کو ٹیوشن پڑھا دے گی ۔ ان کے داخلے کا وقت قریب ہے اصل میں یہ بچے کسی بھی دوسرے ٹیوشن میں ٹک نہیں پا رہے ۔ بہت شرمیلے ہیں جلد کسی سے گھلتے ملتے نہیں اس لیے میں چاہتی ہوں یہ کسی ایسی جگہ پر پڑھ لیں جہاں ان کے سوا اور بچے نہ ہوں ”
میری بیٹی شازیہ انھیں دنوں آٹھویں جماعت کے پیپر دے کر فارغ ہوئی تھی اس لیے میں نے حامی بھر لی ۔ سچ کہوں تو وقت ایسا آگیا ہے کہ دس روپے بھی کہیں سے آتے دکھائی دیں تو انکار نہیں کیا جاتا ۔ میں اندر ہی اندر خوش تھی کہ چلو شازیہ اپنے چھوٹے موٹے خرچے ان بچوں کی فیس سے پورے کر لے گی لیکن چند ہی دن گزرے تھے کہ اس نے انہیں پڑھانے سے توبہ کر لی ۔ مجھے لگتا ہے فی زمانہ نوجوان نسل میں کسی کو برداشت کرنے کا مادہ تو جیسے عنقاء ہی ہوتا جا رہا ہے ۔
پیسے اچھے آ رہے تھے اس لیے میں نے خود یہ ذمہ داری اٹھانے کی ٹھان لی ۔ اگلے ایک ہفتے میں ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ شازیہ کیوں ان بچوں کو برداشت نہیں کر پاتی بظاہر بچے بہت پیارے صاف ستھرے تھے مگر عالیان کے کچھ خاص رویے تھے جو کسی سے بھی برداشت نہیں ہو پاتے تھے ۔ ماں کے جانے کے بعد وہ میرے ساتھ ایسے ہو جاتا جیسے میرا سایہ ۔ میں کچن میں جاتی تو کچن میں آ جاتا میں کہیں بھی جاتی وہ میرے ساتھ ساتھ چلتا رہتا اور جب میں تنگ آکر کہتی
” عالیان اپنی جگہ پر جا کر بیٹھیں ”
تو کہتا
"مجھے ڈر لگتا ہے میں ڈرپوک ہوں ”
میں نے صبیحہ سے پوچھا
” آخر عالیان اتنا ڈرتا کیوں ہے کہیں والد کی ڈانٹ ڈپٹ سے خوفزدہ تو نہیں ”
اس پر وہ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد جھجھکتے ہوئے کہنے لگیں
"نہیں ان کے بابا انہیں تو کچھ بھی نہیں کہتے ۔ ان کی تو ہر بات ہر خواہش پوری کرتے ہیں لیکن بس کبھی کبھار فرسٹریشن میں وہ اپنا غصہ مجھ پر اتار لیتے ہیں ۔ جانے کیوں یہ گھر میں بھی میرے ساتھ چپکا رہتا ہے ایک لمحے کو مجھے نہیں چھوڑتا ”
” کیا عالیان کے بابا اس کے سامنے آپ پر غصہ کرتے ہیں ؟”
وہ کچھ سوچتے ہوئے کہنے لگیں
” نہیں ، ایسا تو نہیں ۔ بچوں کے سامنے تو وہ بہت خیال کرتے ہیں ۔اصل میں یہاں شفٹ ہونے سے پہلے جب میں اس کی دادی کے ساتھ رہتی تھی تب میں بینک میں جاب ہھی کرتی تھی میرے پیچھے اس کی دادی ہی اسے سنبھالتی تھیں وہ میری جاب سے خوش نہیں تھیں اور نہ ہی عالیان کے بابا ۔ وہ لوگ سمجھتے تھے کہ میری جاب محض آوارہ گردی ہے اب نہ جانے وہ لوگ میرے پیچھے کیا کیا بولتے ہوں گے مگر تب ہی سے یہ بہت زیادہ بیمار اور خوفزدہ سا رہنے لگا تھا ۔ میں نے بہت مشکل سے اس کے بابا کو اس ماحول سے نکلنے پر راضی کیا تھا مگر وہاں سے نکل کر بھی یہ آئے دن بیمار اور خوفزدہ سا رہتا ہے ۔ ہم میاں بیوی اس کی وجہ سے بہت پریشان رہتے ہیں "۔
صبیحہ کی باتوں سے مجھے اندازہ ہوا کہ بچے کے ساتھ نفسیاتی مسائل ہیں ۔ شاید وہ اپنے والد سے بہت متاثر تھا لیکن جب میں پوچھتی آپ کو ماما زیادہ پسند ہیں یا بابا تو وہ جھٹ کہتا ” ماما ”
وہ ہر بات کا خیال رکھتا تھا مگر پڑھتے وقت وہ کبھی کسی ایک چیز پر دھیان نہیں دے پاتا تھا۔ مجھے حیرت ہوتی تھی کہ اتنی جلدی بچے کی ذہنی رو کیسے تبدیل ہوسکتی ہے ۔ ایک منٹ پہلے یاد کروائی ہوئی چیز بھی اسے بھول جاتی تھی اور جس لفظ کا مجھے یقین ہوتا کہ یہ نہیں لکھ پائے گا اکثر وہ لفظ بالکل صحیح لکھ جاتا۔ رنگ بھرنے میں اسے مہارت تھی کبھی رنگ کنارے سے باہر نہیں نکلتا تھا ۔ سیدھی گنتی لکھتے ہوئے بیچ میں الٹی گنتی شروع کر دیتا ، حروف تہجی لاکھ یاد کروانے کے باوجود بھی ب کے بعد پ پر اٹک جاتا اور ہنس ہنس کر کہتا
” نئیں پتًا نئیں پتًا ”
مجھے ایسا محسوس ہونے لگا تھا جیسے یہ دو لفظ اس کا تکیہ کلام بن گئے ہیں ۔ انگلش کی اے بی سی اسے پوری یاد تھی مگر روزانہ کوئی نہ کوئی لیٹر بھول جاتا یا پھر الٹا لکھ دیتا ۔ ہر روز ہی مجھے اسے پچھلا سب کچھ یاد دلانا پڑتا تھا یہ سب کچھ میں اسے بچہ جان کر سہہ رہی تھی لیکن اس میں جو چڑانے کی عادت تھی وہ میرے اعصاب پر بے حد گراں گزر رہی تھی ۔ آئے دن کہتا
” ناجانے ماما ہمیں یہاں کیوں چھوڑ جاتی ہیں ۔ گندی ٹیچر ،گندی ٹیوشن ۔ میں آپ کی بابا سے شکایت کروں گا پھر وہ آپ کو ماریں گے ”
یہ کہہ کر قہقہے لگانا شروع کر دیتا اور میری ٹانگ پر اپنا پاؤں مارنے لگتا ۔ اس کی ایسی باتیں اور حرکت برداشت کرنا میرے لئے بےحد مشکل تھا لیکن میں پھر بھی خود پر جبر کرتے ہوئے اسے صرف ڈانٹنے پر ہی اکتفا کرتی یا پھر غصے بھری نگاہوں سے گھور کر دیکھتی تب وہ ایک دم ایسا ہو جاتا جیسے بھیگی بلی ، جیسے بےحد معصوم بچہ جسے کچھ معلوم ہی نہ ہو. اس وقت مجھے اس پر بےطرح پیار بھی آتا میں اسے پیار سے گود میں بٹھا کر پوچھتی
” عالیان آپ ایسا کیوں کرتے ہیں بیٹا”
وہ فوراً کہتا
” میں ڈرپوک ہوں”
جس دن اس طرح کی بات ہوتی اسی دن صبیحہ کی کال آجاتی ۔ ایک دو ادھر ادھر کی باتیں کر کے کہتیں
” آپ بہت سمجھ دار خاتون ہیں اسی لیے میں چاہتی ہوں کہ بچے آپ سے مانوس رہیں بس آپ نرمی اور پیار سے عالیان کو سنبھال لیا کریں وہ بہت حساس بچہ ہے”
اس کی باتوں سے مجھے اندازہ ہو جاتا تھا کہ عالیان نے میری شکایت لگائی ہے ۔ ناجانے آج کل کے ماں باپ کیوں یہ چاہتے ہیں کہ بچہ کانچ کا کھلونا ہی بنا رہے اسے ذرا سی بھی ضرب برداشت نہ کرنی پڑے ۔ مجھے اپنے بچپن کا وقت یاد آتا جب ابا جی نے میرے بڑے بھائی کو ماسٹر صاحب کے حوالے کرتے ہوئے کہا تھا گوشت آپ کا ہڈیاں ہماری ۔
خیر عالیان کو بھی میں جیسے تیسے سنبھال ہی رہی تھی مگر پچھلے دو دن سے اس کے رویے جارحانہ ہو گئے تھے اس کی خالہ اور ان کے بچے کینیڈا سے آئے ہوئے تھے ۔ وہ ہر وقت ان کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا لیکن اس کے سکول میں داخلے کا وقت قریب تھا اس لیے اس کی ماما زبردستی اسے چھوڑ گئی تھیں تاکہ وہ داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کر سکے بس ان کا چھوڑ کر جانا ہی غضب ہو گیا دروازہ بند ہوتے ہی وہ زور زور سے چیخنے لگا
” ماما ماما ”
اسی غیظ و غضب میں آج اس کی بڑبڑاہٹ بلند ہو گئی جسے سن کر میں پتھر کی طرح ہو گئی تھی وہ کہہ رہا تھا
” بے غیرت آوارہ عورت, بے غیرت آوارہ عورت ”
خود پر قابو پاتے ہی میں نے چیخ کر کہا
” عالیان ”
وہ خوفزدہ ہوتے ہوئے میری طرف پلٹا اور پھر مجھے دیکھ کر زور زور سے قہقہے لگانے لگا۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x